لوک ورثہ میوزیم
اسپیشل فیچر
دنیا میں سینکڑوں ممالک ہیں اور ان ملکوں میں ہزاروں قومیں آباد ہیں ۔ہر قوم اور ہر علاقے کے اپنے رسوم و رواج ہیں۔ ان کے تہوار ، ان کی تقریبات رسومات، رہن سہن کے انداز اور ان کی دستکاریاں، ایک دوسرے سے بالکل جدا اور مختلف ہیں ۔ثقافتوں اور تہذیبوں کی اس رنگا رنگی نے دنیا کو دھنک جیسا روپ دے دیا ہے ۔لوک روایات ، رسوم و رواج اور دستکاریوں میں ایک ایسی کشش ہوتی ہے کہ خود اس علاقے کے رہنے والوں کو تو شاید ان میں اتنی کشش اور جاذبیت محسوس نہ ہوتی ہو، یا یوںکہنا چاہیے کہ یہ ثقافت ان کی روزمرہ زندگی کا کچھ اس طرح حصہ بن چکی ہوتی ہے کہ وہ خود اس کی خوبصورتی کا احساس نہیں کر پاتے البتہ اجنبی لوگوں کے لیے یہ لوک روایات ، رسوم و رواج اور رہن سہن کے انداز بڑی حیرانی اور دلچسپی کا باعث ہوتے ہیں۔ یہ بات دنیا بھر میں تسلیم کی جاچکی کہ روایتی تہذیب، لوک فنون اور لوک ورثہ کی حفاظت او رحوصلہ افزائی کسی بھی قوم کی پہچان کو نمایاں کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں بلکہ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ روایت اور جدت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ ایک گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں، جن کا ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر چلنا انتہائی ضروری ہے ۔پاکستان میں بھی ہمیں ثقافت کے مختلف انداز دھنک کے رنگوں کی طرح بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شمال کے برف پوش، دور دراز علاقے ہوں یا بلوچستان کے ، دور افتادہ سنگلاخ پہاڑوں کی آغوش میں آبادیاں، سندھ کے دیہات ہوں یا پنجاب کے کھیت اور کھلیان ، ہر علاقے اور ہر خطے کی اپنی تابندہ روایات ہیں لوک کہانیاں ہیں رسومات کے دل موہ لینے والے انداز ہیں ان دور دراز اور دور افتادہ بستیوں میں ایسے ایسے ماہرین فن موجود ہیں کہ ان کے ہاتھوں سے تخلیق پانے والی دستکاریاں اپنا ثانی نہیں رکھتیں۔ نقاشی اور کڑھائی، بنائی، اور تراش خراش کے یہ نمونے تخلیق کرنے والے فنکار پاکستان کے چپے چپے میں پھیلے ہوئے ہیں ۔دنیا بھر میں یہ صورتحال ہے کہ لوک ثقافت کا اصل رنگ دیہات اور قصبوں میں نظر آتا ہے شہروں کی گہماگہمی اور صنعتی و مادی ترقی کی کش مکش ، ثقافت اور رسوم و رواج کے اصل رنگ و روپ کو ماند کرکے رکھ دیتی ہے جیسے جیسے شہروں کا پھیلاؤ بڑھتا جا رہا ہے اور دیہی علاقے سکڑتے جا رہے ہیں ۔ ہمارے رسوم و رواج اور ثقافت کی رنگا رنگی بھی محدود ہوتی جا رہی ہے ۔ اس صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی فروغ کے ادارے یونیسیکو نے دنیا بھر میں لوک ثقافت اور لوک ورثہ کو فروغ دینے اور اسے محفوظ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے ، اسے دنیا میں روشناس کرانے اور اس لوک ورثے کو فروغ دینے کی غرض سے یونیسکو کے ایماء پر 1974ء میں ایک ادارے کے کا قیام عمل میں لایا گیا، جسے لوک ورثہ ( انسٹی ٹیوٹ آف فوک ہیر ٹیج) کا نام دیا گیا اس ادارے کے قیام کے پس پشت یہ سوچ کار فرما تھی کہ ہمارا ثقافتی ورثہ دراصل اپنی روایات کی طرف کھلنے والا وہ دروازہ ہے جو ہماری حقیقی پہچان کراتا ہے ۔لوک ورثہ کا یہ قومی ادارہ انتظامی طور پر تو اسلام آباد میں قائم ہے اور اس کا مرکزی دفتر اور میوزیم اسلام آباد میں شکر پڑیاں کے حسین و پر فضا مقام پر ہے ،لیکن اس کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے۔ اس ادارے کے تحقیق کنندگان پاکستان کے ہر گاؤں ، قریہ ، دیہات او ر آبادی میں جاتے ہیں وہاں کے بزرگوں اور قدیم باشندوں سے معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر فلم ، ویڈیو اور آڈیو کیسٹ پر اس علاقے پر اس علاقے کی لوک کہانیوں، روایات، رسوم و رواج ، کھیل تماشوں اور نغموں کو محفوظ کر لیتے ہیں۔ ان کی دستکاریوں اور انھیں تخلیق کرنے والے فنکاروں کے بارے میں تفصیلات جمع کرتے ہیں ۔ وہ ان دست کاریوں کے نمونے بھی حاص کرتے ہیں ،جو لوک ورثہ کے اسلام آباد کے عجائب گھر ( میوزیم ) میں عام نمائش کے لیے رکھے جاتے ہیں لوک ورثہ ادارے کے تحقیق کنندگان گاؤ ں گاؤں گھوم کر مقامی روایات ثقافت اور رسوم رواج کے بارے میں جو معلومات جمع کرتے ہیں، انھیں کتابی صورت میں بھی یکجا کیا جاتا ہے اور پھر انھیں مختلف زبانوں میں شائع کیا جاتا ہے تاکہ لوک ورثہ کے بارے میں تفصیلات اور اس ثقافتی ورثے کا پس منظر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے اور مستقبل کے مورخ اور دانشور اس ثقافتی مخزن سے استفادہ کر سکیں ۔الغرض لوک ورثہ کا ادارہ لوک ثقافت ، فنون ، دستکاریوں اور لوک روایات کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے اور اس نوعیت کے تحقیقی منصوبوں کے لیے مالی اعانت بھی فراہم کرتا ہے۔لوک ورثہ کا ادارہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کا جو کام کر رہا ہے اس کا نچوڑ اس ادارے کے دو ذیلی شعبوں میں نظر آتا ہے، ان میں سے ایک لوک ورثہ میوزیم ہے، جو اسلام آباد میں ادارے کی عمارت میں ہی قائم ہے اور دوسرا لوک ورثہ اشاعت گھر ہے ،جو اسلام آباد کے تجارتی علاقے میں واقع ہے ۔لوک ورثہ میوزیم ہمارے ثقافتی ورثے کی زندہ تاریخ ہے، جہاں پر علاقائی دستکاریوں کے نمونوں کے ساتھ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دیہات اور قصبات میں کھیلے جانے والے کھیل ، بچوں کے روایتی کھلونے ، لوک موسیقاروں اور گلوکاروں کی تصاویر جمع کر دی گئی ہیں۔ لوک ورثہ نے پاکستان کے تمام دستکاروں ، ان کی دستکاریوں کی تفصیلات اور ان کے تمام تکنیکی مراحل کمپیوٹر میں محفوظ کر دیئے ہیں تاکہ محققین ان سے استفادہ کر سکیں ۔لوک ورثہ کے ادارے کا دوسرا اہم شعبہ لوک ورثہ اشاعت گھر ہے یہ اشاعت گھر پاکستان کی ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر کتابیں شائع کرنے کے علاوہ تصویری کارڈ، ویڈیو، اور آڈیو کیسٹ اور پاکستان کی ثقافت کے بارے میں بہت سا مواد کتابی صورت میں شائع کرتا ہے۔عام قارئین ، طالب علموں، دانش وروں اور محققوں کے لیے اشاعت گھر ثقافتی جائزے شائع کرتا ہے۔ ان جائزوں کی تیاری کے لیے لوک ورثہ کے تحقیق کنندگان کئی کئی ماہ ان علاقوں میں جا کر رہتے ہیں جن کے بارے میں کتاب لکھنا مقصود ہوتا ہے۔ ان علاقوں کی زبانی روایات ، لوک گیت، لوک کہانیوں ، رسوم و رواج ، فنون ، صوفیائے کرام اور میلوں وغیرہ کے بارے میں معلومات جمع کرکے انھیں تاریخی حوالوں کے ساتھ کتابی شکل میں شائع کیا جاتا ہے۔ ان ثقافتی جائزوں کے ساتھ شادی بیاہ ، میلوں، تہواروں ، فصلوں کی کٹائی اور خوشی کے مواقع پر گائے جانے والے لوک گیتوں کو آڈیو اور ویڈیو کیسٹوں پر محفوظ کرنے کے علاوہ انہیں کتابی صورت میں بھی شائع کیا جاتا ہے۔الغرض لوک ورثہ کا ادارہ ہماری تابندہ روایات اور ثقافت کا انمول خزانہ جمع کر رہا ہے۔ ٭…٭…٭