دنیا کا قدیم ترین آثارِ قدیمہ : چاہِ بابل
اسپیشل فیچر
دنیا کے قدیم ترین آثار میں چاہِ بابل بھی شامل ہے۔ اس کنویں کا ذکر قرآن کے علاوہ بائبل میں بھی آیا ہے۔ اب جبکہ بابل شہر ہی نہیں رہا، اس کنویں کے وجود کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،لیکن بابل کہاں ہے؟ بابل کا کنواں کس نوعیت کا تھا؟ چاہِ بابل اور اس کے کوائف سمجھنے کے لیے اس قسم کے متعدد سوالات ذہن میں اُبھرتے ہیں۔چاہِ بابل کے بارے میں سب سے زیادہ سوال ہاروت ماروت کے حوالے سے کیا جاتا ہے کہ وہ کون تھے؟ ان کے بارے میں عجیب و غریب روایات مشہور ہیں۔جن سے یہاں صرف نظر کیا جا رہا ہے۔شہربابلیہ شہر دریائے فرات کے کنارے آباد تھا۔ اس پورے علاقے کو بھی بابل ہی کہتے تھے۔ اپنے زمانے میں یہ علاقہ تہذیب و تمدن کا مرکز تھا۔ بابل و نینوا کی تہذیب عالمی تاریخ میں بہت اونچا مقام رکھتی تھی۔ ان لوگوں کا رہن سہن دوسروں کے لیے نمونہ تھا۔ بخت نصر کا عہد اس تہذیب کے انتہائی عروج اور ترقی کا دور تھا۔ اس کے بعد یہاں کی تہذیب کو زوال آنا شروع ہو گیا۔جدید جغرافیہ میں بابل دنیا کے نقشے پر عراق میں واقع ہے، لیکن صرف کھنڈروں کی صورت۔ کبھی یہ شہر میلوں تک پھیلا ہوا تھا۔ مورخین کا بیان ہے کہ بابل کے گرد ۵۵ میل لمبی فصیل تعمیر کی گئی تھی۔ انھوں نے اسے ’’ہفت عجائبات عالم‘‘ میں شمار کیا ہے۔ کالڈ یا اور کلدانیہ اس کے پرانے نام تھے۔ شہر بابل موجودہ بغداد سے قریباً ساٹھ میل دور جنوب کی سمت دریائے فرات کے کنارے آباد تھا۔ اس کے کھنڈروںکے قریب ہی آج ہلّہ (حلّہ) کا شہر آباد ہے۔ ان کھنڈروں میں نہروں کے آثار، پانی کے نلکوں کے نشان، شاہی محلات کی بنیادیں اور مضبوط قلعوں کے نشانات اب بھی موجود اور اپنی تہذیب و تمدن کے کمال کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔شہر بابل کی مشہور عمارات میں مندرجہ ذیل خاص اہمیت کی حامل تھیں:قصرِ سمیرا میس، بخت نصر کا محل، برج نمرود، معلق باغ جو کئی طبقات پر مشتمل تھا، ایک عالی شان رصد گاہ، لعبوس کا مقبرہ‘ شہر کی طویل و عریض سہ طرفہ حیرت انگیز فصیل اور برج بابل وغیرہ۔برج بابل کے متعلق مورخین لکھتے ہیں کہ اس برج میں سات رنگ کے طبقے تھے۔ ان کا تعلق سات اجرام سماوی سے تھا: پہلا طبقہ سیاہ رنگ کا تھا: یہ زحل سے منسوب تھا۔ دوسرا طبقہ سفید رنگ کا تھا: یہ زہرہ سے نسبت رکھتا۔ تیسرا طبقہ نارنجی رنگ کا تھا: اس کی نسبت مشتری سے تھی۔ چوتھا طبقہ نیلے رنگ کا تھا: یہ عطارد سے میلان رکھتا تھا۔ پانچواں طبقہ قرمزی رنگ کا تھا: اس کا مریخ سے میل تھا۔ چھٹا طبقہ نقری تھا: اس کا تعلق چاند سے تھا۔ ساتواں طبقہ طلائی تھا: اس کی نسبت سورج سے تھی۔بابل کے لوگ معبودانِ باطل کے پرستار تھے۔ ان کے خیال میں یہ معبود آسمان کی فضائوں میں رہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی قسمت ان سے وابستہ سمجھتے۔ اسی لیے وہ نجوم شناسی اور علم افلاک میں بڑے ماہر تھے۔ ان کے بت کدوں میں ستاروں کی پرستش ہوتی تھی۔بابل کے کھنڈر اور چاہِ بابلجنگ عظیم دوم کے دوران ہمارے ایک عزیز چودھری علی احمد سرور عراق گئے۔ انھوں نے بابل کے کھنڈر اور چاہِ بابل کا بغور مشاہدہ کیا۔ ہم اس عنوان کے تحت انہی کے ایک سفرنامہ کے اقتباسات شکریہ کے ساتھ نقل کر رہے ہیں:’’آج یہ سب کھنڈر کے ڈھیر ، لیکن چشم بینا کے لیے سرمۂ بصیرت ہیں۔ ان پُرہول ڈھیروں میں عجیب ہیبت پنہاں ہے اور ساتھ ہی ایک اندوہناک اور نہایت حسرت آمیز درسِ عبرت بھی۔بابل بغداد سے شہر حلّہ کو جانے والی سڑک پر ۵۴ میل دور واقع ہے۔ اس سڑک کو ایک چھوٹی سی نہر کاٹتی ہے۔ یہیں سے بابل کی حدود شروع ہو جاتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہرکی فصیل تھی۔ آدھ میل آگے چلیں، تو ایک چھوٹا سا عجائب گھر ہے اور اس کے متصل ایک ریسٹ ہائوس بنا ہوا ہے۔ یہ دونوں عمارتیں حکومت عراق کے محکمہ آثار قدیمہ نے تعمیر کرائی ہیں۔عجائب گھر میں بابل کے کچھ عجائبات، تصویر کشی اور نقاشی کے نادر نمونے اور قدیم شہر کا مٹی سے بنا ہوا ماڈل رکھا ہے۔ عجائب گھر کی پشت پر ایک ٹیلہ ہے جس پر نشان راہ کی تختیاں نصب ہیں۔ کچھ آگے شاہ بنو کدنصر (بخت نصر) کے جلوس کا راستہ ہے۔ مشرق کی سمت ’’نین ماخ‘‘ کا ایک چھوٹا سا معبد ہے۔ گزرگاہِ جلوس کے مغرب میں ایک عمارت ہے جو جنوبی محل کے نام سے مشہور ہے۔دوسری عمارت معلق باغ ( Garden Hanging) کی ہے، جسے ’’محل اعظم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ اس سے تھوڑی دور آگے ایک تہ خانہ ہے۔ کہتے ہیں یہاں نمرود نے حضرت شعیب علیہ السلام کو شیر کے آگے ڈالا تھا۔ اس تہ خانہ کی دیواروں پر تصاویر بنی ہیں ،جو اس دور کے ماہرین فن کی فنکاری کا ایک بہترین نمونہ ہیں، جو اینٹیں یہاں استعمال ہوئیں، وہ اپنی شناخت اور مضبوطی کے اعتبار سے دور حاضر سے بہت بہتر ہیں۔ چند قدم آگے چل کر ایک کنواں آتا ہے ،جو اوپر سے مربع شکل کا ہے۔ اسی کنویں کو ’’چاہ ِبابل‘‘ کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔چاہِ بابل کے قریب پتھر کا ایک بڑا مجسمہ ہے اور ساتھ ہی چند معبد ہیں، جن کو ’’نی نورتا‘‘ اور ’’گلا‘‘ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ ’’برج بابل‘‘ بھی اس کے قریب ہی واقع ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سکندر اعظم نے ہندوستان سے واپسی پر داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔کھنڈروں سے دو تین میل کے فاصلے پر ایک مسجد کا گنبد نظر آتا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ مسجد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے تعمیر کرائی تھی۔اس کے گنبد اور در و دیوار پر نہایت نفیس نقش و نگار ہیں۔ انھیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کاریگر ابھی چند دن پہلے کام سے اٹھ کر گئے ہیں۔بابل کے حکمرانبابل کے بانی کا نام نمرود بیان کیا گیا ہے۔ اس کا زمانہ قریباً چار ہزار سال قبل مسیح پہلے آیا۔ اس کے باپ کا نام کوش اور دادا کا نام حام تھا۔ حضرت مسیح سے کوئی پونے چار ہزار سال قبل بنوعاد کے سامی قبیلے نے بابل پر قبضہ کر لیا۔ دو یا ڈھائی سو سال ان کی حکومت رہی۔ سامیوں کے بعد اس پریلامی خاندان کا قبضہ ہو گیا۔ وہ نمرود اسی خاندان کا ایک حکمران تھا جس نے خدائی کا دعویٰ کیا۔ نمرود اس کا خاندانی لقب تھا، اس کا اصل نام ذوالامر بیان کیا گیا ہے۔ نمرود کا زمانہ ۲۳۰۰سال قبل مسیح میں آیا۔ اسی نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ آگ میں جلا دینے کا حکم دیا تھا۔اس خاندان کے بعد بابل کے بادشاہوں میں بنوکدنصر بہت مشہور ہوا۔ اسے بخت نصر بھی کہتے ہیں۔ اس نے بہت سے علاقے بزور شمشیر فتح کیے۔ اس خاندان کا آخری تاجدار بیل شغر تھا۔حضرت مسیح سے ۵۳۸ (اور بعض روایات کے مطابق ۵۴۹) سال قبل فارس کے بادشاہ نے بابل پر حملہ کر دیا اور اس طرح یہ ملک ایران کا باج گزار بن گیا۔٭…٭…٭