نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مستقبل میں وزیراعظم بڑےپروگرامزکااعلان کریں گے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- اجلاس میں پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سےمتعلق گفتگوہوئی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےپارٹی لیڈرشپ کوعوامی رابطہ مہم شروع کرنےکی ہدایت کی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےکہابلدیاتی انتخابات کی تیاری کیلئےشیڈول جاری کیےجائیں،فواد چودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےاحساس پروگرام سےمتعلق اجلاس کی صدارت کی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےمتوسط طبقےکوریلیف دینےکیلئےاقدامات کی ہدایت کی،فواد چودھری
  • بریکنگ :- خیبرپختونخوا،پنجاب احساس پروگرام کی سبسڈی اسکیم میں حصہ داربننےکوتیارہیں
  • بریکنگ :- سندھ اوربلوچستان بھی سبسڈی اسکیم میں حصہ داربنیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- گلگت بلتستان اورکشمیرنےبھی دلچسپی کااظہارکیاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سندھ حکومت گندم کی ریلیزمیں تاخیرکررہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پنجاب،خیبرپختونخواکی نسبت سندھ میں 20کلوآٹا400روپےمہنگاہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- رواں سال گنےکی ریکارڈپیداوارہوگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کاٹن کی پیداوارگزشتہ سال سے60فیصدزائدہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- آٹااورچینی کی قیمتوں میں مسلسل کمی ہورہی ہے،فواد چودھری
  • بریکنگ :- کرشنگ سیزن شروع ہواتوچینی مزیدسستی ہوجائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- دالوں،سبزیوں،چینی اورآٹےکی قیمتیں کم ہورہی ہیں،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہواہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- حکومت مہنگائی سےنمٹنےکےلیےپوری طرح تیارہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates

چکوال کا قدیم قصبہ بھون

چکوال کا قدیم قصبہ بھون

اسپیشل فیچر

تحریر : حکیم افتخار احمد


راقم کو لاہور سے بھون جانے کا اتفاق ہوا ۔ جانے کا مقصد یہاں کی مشہور تاریخی اور قدیمی حویلیوں، سراؤں اور تالاب پر مضمون مرتب کرنا تھا۔جب آپ سڑک کے ذریعے مندرہ سے چکوال شہر جائیں ۔ چکوال سرگودھا روڈ پر ایک چھوٹا سا خوبصورت تاریخی قصبہ بھون آتا ہے۔ انگریز عہد حکومت میں مندرہ سے چکوال بھون ریلوے لائن جاتی تھی اب مندرہ سے بھون تک اس ریلوے لائن کے آثار ختم ہو گئے ہیں۔ آٹھ سو سال پرانے قصبے کی بنیاد راجہ داہر کے ایک بیٹے بھون نے رکھی تھی اور اپنے نام کی مناسبت سے اس قصبہ کا نام بھون رکھا۔ 8ہزار آبادی خوبصورت خوشنما پر فضا سر سبز شاداب و قدرتی نظاروں سے بھرپور یہ قصبہ بھون کا شمار ضلع چکوال کے مشہور تاریخی قصبوں میں سے ہوتا ہے۔آج بھی یہاں کی تاریخی عمارتوں پر ہندو عہد کے فن تعمیر کی خوبصورت اور لاجواب جھلک نمایاں نظر آتی ہیں جو دیکھنے کے لائق ہے۔یہ عمارتیں اپنے گزرتے و قت کی یاد تازہ کرتی ہیں اور قصبے کی ثقافت کی آئینہ دار اور قدیم طرز تعمیر کا انمول نگینہ ہیں۔ تفریح کیلئے یہ جگہ بہترین مقام کا درجہ رکھتی ہے۔ ان تاریخی عمارات کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ کچھ عمارتوںسے جانوروں کی چارہ گاہ کا کام لیا جارہا ہے۔ تقسیم ہند سے قبل یہاں پر مسلمانوں کے علاوہ ہندو کثیر تعداد میں تھے۔ یہاں قدیم زمانہ سے ملک اعوان ، گجر چوہاں کھوکھر، گوندل خان ، نواب، راجہ، کشمیری، سید، ٹمن، بلوچ جنجوعہ، بدھال، چکھڑال، ریتال، راجپوت، چوہدری، آرائیں اور مغل آباد ہیں۔بھون کا سارا علاقہ زرخیز زمین پر مشتمل ہے جبکہ قصبہ کے چاروں طرف سرسبز شاداب خوبصورت کھیت ہیں یہاں کی مشہور پیداوار میں گندم ،چاول ،کپاس ،گنا ،مکئی ،باجرہ ،مونگ ،پھلی اور تمباکو ہیں۔قصبہ کے لوگ جنگجو ، تنومند ، جفاکش اور محنتی ہیں۔ علاقہ کی اکثریتی آبادی کا پیشہ کھیتی باڑی ہے۔ یہاں کے لوگ فوجی ملازمت کو بھی ترجیح دیتے ہیں۔ یہ قصبہ اچھی نسل کے بیل اور گھوڑوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ انڈیا کی فوج کے سابق جنرل اروڑا کے والد رائے بہادر سردار جے سنگھ،بھارت کی ہوٹل انڈسٹری کے بے تاج بادشاہ مشہور کاروباری فیملی اوبرائے ، ممبئی کے مشہور فلمی کپور خاندان کے جد امجد، انڈیا کے مشہور موسیقار مدن موہن، بولی وڈ کی دت فیملی، پاکستان کا مشہور صنعتکار سہگل خاندان، چندر گپت موریہ کا اتالیق اور وزیراعظم پنڈت چانکیہ کوٹلہ ، غلام محمد (انگریز عہد کے مشہور زمیندار) ، محمد فیروز خان، محمد نواز خان، نذر حسین کیانی، جعفر حسین کیانی، تصدق حسین کیانی ان سب شخصیات کا تعلق بھون قصبہ سے ہے۔ سردار ہری سنگھ نلوہ ، من موہن سنگھ، کنیا بہاری لا مندہ، کرشن چند، جنرل آغا محمد یحییٰ خان، ائیر مارشل نور خان، جنرل عبدالحمید، امیر گلستان جنجوعہ، جمعہ خان، صوبیدار خداداد خان، جنرل اکبر خان، جنرل افتخار خان، جنرل عبدالحمید ان سب شخصیات کا تعلق ضلع چکوال سے ہے۔ بھون سے 12کلو میٹر کے فاصلے پر مغل شہنشاہ عالمگیر کے عہد حکومت کا ایک درویش قلندر شاعر شاہ مراد کا مزار مبارک ہے جسے آج کل تکیہ شاہ مراد کہا جاتا ہے۔ اسی ضلع میں پنجابی کے ایک عظیم الشان شاعر ملک پیلو نے مرزا صاحباں پر پہلی بار قصہ تحریر کیا تھا۔ پیلو چکوال کے ایک گائوں مہرو پیلو کا رہنے والا تھا۔ اسی کے نام سے گائوں مشہور ہوا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

عمالقہ قوم ،سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ قوموں کو ان کے اعمال و کردار کے بل بوتے اگر سنبھالا ہے تو انہیں اپنے انجام تک پہنچایا بھی ہے۔ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اٹھا گئیں وہی فائدے میں رہیں اور جو احکام الٰہی سے سرکشی کی مرتکب رہیں ان کے لئے پھر رب نے ذلت اور رسوائی ہی لکھ دی۔ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی قوم گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سفاک اور جابر حکمرانوں کو ہی مسلط کیا۔ حضرت موسی ؑکے دور میں ایسی ہی ایک قوم عمالقہ تاریخ کی کتابوں میں سفاکیت کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔عمالقہ کون تھے؟تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ عمالقہ قوم عاد اور ثمود کے بعد کے دور میں ظاہر ہوئے تھے۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ عمالقہ قوم کے لوگ انتہائی دراز قد ، خون خوار اور وحشی فطرت کے تھے۔ عمالقہ قوم کے لوگ بنیادی طور پر عراق کے آس پاس کے علاقوں سے اٹھے اور رفتہ رفتہ مصر سے شام اور فلسطین تک خون خرابہ کرتے کرتے چاروں طرف پھیل گئے۔ قرآن کریم میں اس گروہ کو ''جبارین ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑکے دور میں یہ بحیرہ مردار کے مغرب میں آباد تھے۔ چونکہ یہ جہاں بھی گئے اپنی سفاکیت اور حرکتوں سے باز نہ آئے جس کی وجہ سے عراق کے اشوری بادشاہوں نے انہیں صحرائے سینا کی جانب دھکیل دیا تھا ، اس دور میں ان کی اکثریت بھیڑ بکریاں پالا کرتی تھی۔بنی اسرائیل نے جب اپنے رب کے احکامات کو فراموش کر کے بتوں کی پوجا شروع کر کے سفاکی ، سرکشی اور بدفعلی کو اپنا شعار بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ''جالوت ‘‘ نامی ایک قوم جسے ''عمالقہ ‘‘ کہتے ہیں ، مسلط کر دی۔ جالوت جو عملیق بن عاد کی اولاد میں سے تھا ، ایک سفاک اور جابر بادشاہ کی شہرت رکھتا تھا۔ عملیق بنیادی طور پر انفر کا بیٹا ، عیص کا پوتا اور حضرت اسحاق ؑ کا پڑپوتا تھا۔ اور کون نہیں جانتا کہ حضرت اسحاق ؑ ، حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے تھے۔ عمالیق اور دیگر اولاد ابراہیم ؑ ، کنعان میں شہ زوری کی شہرت بھی رکھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ عمالیق نسل فطرتاً خون خواری اور جنگجو خصلتوں کی حامل تھی۔ جالوت جو عمالقہ کا بادشاہ تھا۔ کہتے ہیں پندرہ فٹ طویل قد آور اس شخص کا سایہ ایک میل لمبا تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قوم بر بر کا تعلق بھی عمالقہ قوم سے ملتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس کی فوج تین لاکھ گھڑ سواروں پر مشتمل تھی۔عمالقہ نے اشوری بادشاہوں کے دورمیں فلسطین اور شام پر بزور بازو اپنا قبضہ جما لیا تو حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ارض مقدس کو عمالقہ کے قبضے سے آزادی دلاؤ۔ چنانچہ جب حضرت موسی ؑ فلسطین کے قریب پہنچے تو انہوں نے بنی اسرائیل کے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا،'' اے قوم بنی اسرائیل! ارض مقدس میں داخل ہو جاؤ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ رکھی ہے،اور پیٹھ نہ دکھاؤ ورنہ خسارے میں رہو گے۔‘‘اس پر بنی اسرائیل کے یہ لوگ بولے، '' اے موسی ! تم اور تمہارا پرور دگار لڑو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔ وہاں تو ایک طاقتور قوم عمالقہ آباد ہے جس کا ہم مقابلہ کرنے کی قطعاً سکت نہیں رکھتے، صرف اس صورت ہم وہاں داخل ہو سکتے ہیں کہ وہ از خود اپنے وطن کو چھوڑ کر کہیں چلے جائیں۔ ‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سرکشی کی سزا کے طور پر بنی اسرائیل کو صحرائے تیہ میں قید کردیا اور یہ لوگ چالیس سال تک اسی مختصر سے صحرا میں بھٹکتے رہے۔میدان ِتیہ کا پس منظرمیدان ِ تیہ بنیادی طور پر شام اور مصر کے درمیان پانچ چھ فرسخ ( لگ بھگ موجودہ تیس کلومیٹر) کا ایک کھلا میدان تھا جہاں اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسی ؑ بنی اسرائیل کے ایک لشکر کے ساتھ قوم عمالقہ سے بیت المقدس کو آزاد کرانے نکلے تھے۔ لیکن فلسطین پہنچ کر بنو اسرائیل عمالقہ کی دہشت کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس گروہ کو جو سزا دی اس کے تحت یہ چالیس برس تک تقریباً تیس کلومیٹر کے میدان تیہ سے باہر نکلنے کے لئے صبح سے شام تک بھٹکتے لیکن باہر نہیں نکل سکتے تھے۔اس وادی کا یہ عالم تھا کہ یہاں نہ تو کوئی سایہ دار درخت تھا اور نہ ہی کوئی عمارت ، نہ ہی پینے کا پانی اور نہ ہی کھانے کی کوئی چیز بلکہ یہاں انسانی ضرورت کی کسی بھی چیز کا وجود تک نہ تھا۔ اگرچہ حضرت موسی ؑ اپنی قوم سے ناخوش تھے لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اس قوم کے کھانے کیلئے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے آسمان سے من و سلوی نازل فرمایا، دھوپ سے بچاؤ کیلئے بادل بطور سائبان مہیا کئے اور پانی کی ضرورت کیلئے جب حضرت موسی ؑ نے پتھر پر عصا ماری تو آناًفاناً پانی کے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔بنی اسرائیل کی تنظیم ِنوحضرت موسی ؑ ، حضرت ہارون ؑ اور حضرت یوشع بن نونؑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس طویل عرصے کے دوران بنی اسرائیل کے وہ تمام لوگ ، جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا اس جہان فانی سے رفتہ رفتہ کوچ کرتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ حضرت موسی ؑ کو حکم خداوندی ہوا کہ بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے ان کی تنظیم نو کر کے ہر قبیلے کا الگ الگ سربراہ مقرر کریں جو اپنے قبیلے کے لوگوں کو دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ جہاد کی تربیت کی ذمہ داری بھی سونپے۔ دراصل یہ ساری تیاری بیت المقدس کی عمالقہ قوم سے رہائی کی پیش بندی کے طور پر کی جارہی تھی۔ چنانچہ حضرت موسی ؑ نے حکم الٰہی کی تعمیل میں بنی اسرائیل کو بارہ قبائل میں تقسیم کر کے حضرت یوشع ؑ کو ان بارہ قبائل کا سردار مقرر کر دیا۔ بنی اسرائیل کے لوگوں کی وادیٔ تیہ کی سزا ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ حضرت موسی ؑ رحلت فرما گئے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت یوشع ؑ نے جہاد کے لئے اپنے زیر اثر تمام قبائل کی جنگی تربیت کا آغاز کیا۔ ویسے بھی چونکہ اس وادی میں اللہ کی طرف سے من و سلوی کی فراہمی کے باعث کسی قسم کی معاشی سرگرمیاں تو تھیں نہیں۔ جس کے سبب ان لوگوں نے خوب دل جمعی سے جنگی تیاریوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔بیت المقدس کی رہائی کا حکمبنی اسرائیل کے صحرائے تیہ میں سزا کے جب چالیس سال پورے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یوشع ؑ کو حکم صادر کیا کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو اکٹھا کرو اور بیت المقدس کو عمالقہ قوم کے غاصبوں سے آزاد کراؤ۔چونکہ بنی اسرائیل کی نئی نسل ماضی میں اپنے بزرگوں کی جہاد سے چشم پوشی کی غلطیوں سے آگاہ تھی اور اپنی مقدس سرزمین کی آزادی کیلئے بے تاب بھی ، اس لئے انہوں نے حضرت یوشع ؑ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔چنانچہ بارہ قبائل پر مشتمل جہاد کے جذبے سے سرشار بنی اسرائیل کے چھ لاکھ افراد نے حضرت یوشع ؑ کی سپہ سالاری میں '' اریحا ‘‘ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ بنی اسرائیل کا یہ محاصرہ چھ ماہ تک جاری رہا۔بالآخر ایک دن بنی اسرائیل کے جاں نثار عمالقہ کے قلعہ کی دیوار کو گرا کر شہر کے اندر داخل ہو گئے اور اریحا شہر میں اپنا پرچم لہرانے میں کامیاب ہو ئے۔اس کے بعد کنعان کے شہر فتح کرتے ہوئے آخر میں ارض فلسطین اور شام کا پورا علاقہ فتح کرلیا۔ یوں رب نے اس روئے زمین پر ایک جابر اور سفاک قوم کو اپنے انجام تک جا پہنچایا۔(خاور نیازی سابق بینکر اور لکھاری ہیں، قومی اور بین الاقوامی اداروں سے منسلک رہ چکے ہیں۔تحقیقی اور سماجی موضوعات پر مہارت رکھتے ہیں) 

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

گم شدہ اشیاء ڈھونڈنے والا روبوٹ

کمال ہوگیا۔ سائنس دانوں نے ایک ایسا روبوٹ بنالیا ہے جو بڑی تیزی سے گم شدہ چیزوں کے مقام کا تعین کرسکتا ہے اور اس طرح گم شدہ اشیاء دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ یہ روبوٹ بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے گم شدہ اشیاء کو ڈھونڈ کر باہر نکال سکتا ہے۔ یہ بھی بڑی حیران کن بات ہے۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے ماہرین نے ایک ماڈل تیار کیا ہے جس کے روبوٹک بازو ہیں جس کے ہاتھ پر ایک کیمرہ ہے اور اس کے ساتھ ریڈیو انٹینا فریکویسی ہے ۔یاد رہے کہ ریڈیو فریکونسی ہر قسم کی سطح پر سفر کرسکتی ہے۔مال چوری ہونے سے بچنے کے لیے ایئر لائنز بھی انہیں استعمال کرتی ہیں تاکہ مسافروں کے سامان کی گزر گاہ کا پتہ چل سکے۔یہ کہا جاتا ہے کہ اس افراتفری کی دنیا میں اشیاء کی تلاش کسی مسئلے سے کم نہیں۔ ایم آئی ٹی کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کا کہنا ہے کہ ایسے روبوٹس کا ہونا جو بکھری ہوئی چیزوں کے ڈھیر سے نیچے گم شدہ اشیاء کو تلاش کرلے، آج کی صنعت کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ محققین کے مطابق ایک دن ان کا نظام ایک ویئر ہائوس میں بھی چیزوں کے ڈھیر سے بہت کچھ تلاش کرنے میں کامیاب ہوگا۔ کار بنانے والے پلانٹ میں ضروری اجزا نصب بھی کیے جاسکیں گے۔ اس کے علاوہ ان ضروری اجزا کی شناخت بھی ممکن ہوگی۔ مزید برآں ایک ضعیف آدمی کی گھر کے کاموں میں مدد بھی کی جاسکتی ہے۔محققین نے روبوٹ کو سکھانے کے لئے اعصابی نیٹ ورک کو استعمال کیاجس کا مقصد روبوٹ کی رفتار کو بہتر بنانا تھا۔ مختلف ہدایات کی روشنی میں اس کی تربیت کی جاتی ہے۔اس سے ہمارا دماغ بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہمیں اپنے والدین اور اساتذہ کی طرف سے تحسین کی شکل میں بہت کچھ ملتا ہے۔ اسی طرح ہمیں کمپیوٹر گیمز بھی ''انعامات‘‘ دیتی ہیں۔ سیکھنے میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے۔ MIT کے ایک اور پروفیسر کا کہنا تھا ''ہم ایجنٹ کو غلطیاں کرنے دیتے ہیں یا پھر کوئی کام درست کرنے دیتے ہیں پھر اس کے بعد ہم نیٹ ورک کو سزا دیتے ہیں یا انعام۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے نیٹ ورک کچھ سیکھتا ہے۔ آر ایف یوزٹن سسٹم کے لیے پیش کارکردگی ایلگورتھم کو انعام دیا گیا جب اس نے ان حرکات کو محدود کردیا جو اسے کسی گم شدہ شے کے مقام کا تعین کرنے میں کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس فاصلے کو بھی محدود کردیا جو اسے اس چیز کو اٹھانے کیلئے طے کرنا پڑا۔ جب ایک دفعہ سسٹم درست جگہ کی شناخت کرلیتا ہے تو پھر اعصابی نیٹ ورک آ رایف اور تصویری معلومات کو اکٹھا کرکے استعمال کرتا ہے۔ اس سے اسے اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ روبوٹک بازو کو کب چیز کو اپنے قابو میں کرنا ہے۔ یہ نظام گم شدہ چیز کے لیبل کو بھی جانچ لیتا ہے تاکہ یہ یقین ہوجائے کہ اس نے درست شئے کو اٹھایا ہے۔محققین نے اس سسٹم کو کئی بار ٹیسٹ کیا اور ان کے مطابق انہیں 96 فیصد کامیابی ملی۔ انہوں نے اس سسٹم کے ذریعے ان چیزوں کو ڈھونڈ نکالا جو بکھری ہوئی اشیاء کے ڈھیر کے نیچے چھپی ہوئی تھیں یا جنہیں چھپایا گیا تھا۔محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کبھی کبھی جب آپ صرف آ رایف کی پیمائشوں پر انحصار کرتے ہیں تو اس سے یہ ہوتا ہے کہ بیرونی حصوں کی پیمائش ہوتی ہے اور اگر آپ صرف تصویر پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس میں یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ کیمرے سے کوئی غلطی نہ ہوجائے۔ لیکن اگر آپ ان دونوں کو اکٹھا کردیں تو پھر یہ ہوگا کہ دونوں ایک دوسرے کو ٹھیک کردیں گے۔ اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ سسٹم کتنا مضبوط ہے۔ محققین کو امید ہے کہ مستقبل میں اس نظام کی رفتار بڑھا دی جائے گی تاکہ یہ آسانی سے حرکت کرے۔ اب یہ ہوتا ہے کہ یہ سسٹم وقتاً فوقتاً پیمائشیں لینے کیلئے رک جاتا ہے۔ اس کیلئے مناسب یہی ہے کہ اس سسٹم کو وہاں نصب کیا جائے جہاں اشیاء کی پیداوار کے عمل کی رفتار بہت تیز ہو یا پھر اس مقصد کیلئے کسی ویئر ہائوس کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اور انہوں نے اردو کے افسانوی ادب کا گہرا مطالعہ کر رکھا ہے۔ دوکتابوں کے مصنف بھی ہیں) 

ناکامی :ایک تحفہ

ناکامی :ایک تحفہ

آپ بھی سوچ رہے ہوں گہ بھلا ناکامی تحفہ کیسے ہو سکتی ہے،کیونکہ لفظ ناکامی کے ساتھ تو مایوسی، اداسی اور نا امیدی وابستہ ہے۔جہاں تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں۔ کسی بھی کام میں ناکامی کے بعدنہ صرف دل ٹوٹ جاتا ہے بلکہ اس کو دوبارہ کرنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔یہ صرف آپ کے سوچنے کا انداز ہے اور کچھ بھی نہیں ۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ناکامی کس طرح ہمارے لئے بہت قیمتی تحفہ ہے۔ناکامی ہمیں عمل کا درس دیتی ہےمشہور موجد ٹامس ایڈیسن نے 5ہزار سے زائد بار کوشش کے بعد بجلی کا بلب بنایا تھا۔ایک انٹرویو میں اس سے پوچھا گیا۔ 5ہزار بار آپ کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑاآپ کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔ایڈیسن نے جواب دیا '' میں ناکام نہیں بلکہ میں نے 5ہزار ایسے طریقے سیکھے ہیں جن سے بجلی کا بلب نہیں بن سکتا‘‘۔ناکامی ہمیں ایک نیاراستہ دکھاتی ہے، ایسا راستہ جو اب تک ہماری نظروں سے اوجھل تھا۔ جس طرح کوئی سیلز پرسن اپنی پروڈکٹ فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو وہ کوئی اور نیا طریقہ استعمال کرتا ہے۔ایک نیا طریقہ سیکھتا ہے کہ نئی حکمت عملی استعمال کر کے اپنی کاکردگی میں بہتری لاسکتا ہے۔جس طرح ہم اگر نوکری کے لئے کہیں انٹرویو دینے جاتے ہیں تو ہم سیکھتے ہیں کہ اگلی بار ہم اس میں مزید کیا بہتری لا سکتے ہیں کہ ہمارا انٹرویو اس سے بھی زیادہ بہتر ہو۔ناکام ہونے کے بعد ہمیں بہت سے ایسے مختلف اور نئے راستے ملتے ہیں جن کے بارے میں پہلے ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا۔ ناکامی ہمیں نئے راستوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ نئی تراکیب اپناکر ان پر عمل پیرا ہونے سے ہم بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ ناکامی ہمارے راستے بند نہیں کرتی بلکہ یہ ہمارے لئے بہت سے نئے راستے اور حل وضع کرتی ہے۔ناکامی ہمیں سمجھنے کا موقع دیتی ہےچالیس کی دہائی میں ایک نوجوان نے اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر اپنا خواب پورا کرنے کی غرض سے اپنے والدین کی مرضی کیخلاف ایک میوزیکل بینڈ جوائن کیا۔گلوکاری اور موسیقی کا اسے شوق ضرور تھالیکن یہ اس کی فطرت نہیں تھی۔ابھی اس کا ٹیلنٹ اتنا بلند نہیں تھا کہ وہ اسے ایک پروفیشن کی طرح استعمال کر سکتا۔جلدی ہی اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اندازہ ہو گیالیکن وہ اپنے دوسرے ساتھیوں کی نسبت اپنا پیسہ بہت اچھے طریقے سے خرچ کرتا اور بچت کرتا تھا۔ بے روزگاری کے دور میں اس کی وہی بچت اس کے کام آئی۔اس کے دوسرے ساتھیوں کو بھی اس کی خوبی کا علم ہو گیاکہ یہ پیسے کو بہت اچھا مینج کرلیتا ہے تو انہوں نے اسے اپنا فنانس منیجر رکھ لیا۔اپنی اسی خوبی کو دیکھتے ہوئے اس لڑکے نے اپنے کرئیر کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوچا کہ کیا کام وہ بہتر طور پر کر سکتا ہے اور اس نے اپنا کرئیرتبدیل کر لیا۔اس لڑکے کا نام ہے ایلن گرین سپین ،جوکہ فیڈرل ریزرو امریکہ کا چیئرمین رہا۔ جس نے اپنی عمدہ کارکردگی سے اپنی کمپنی کو اقتصادی بحران سے بچایا اور اسے ترقی دی۔اس کی ایک ناکامی نے اسے سکھایا کہ قدرت نے اس کے اندر کیا خصوصیات رکھی ہیں جنہیں وہ زیادہ بہتر طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ جو اس کی اپنی ذات اور معاشرے کے لئے سود مند ہیں۔جب تک آپ ناکامی کا سامنہ نہیں کریں گے ،آپ کوپتہ نہیں چل سکتا کہ آپ میں کون سی خوبیاں اور خصوصیات ہیں۔ ایک پیشے میں ناکامی کے بعد ہی ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم کون سا دوسرا کام زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ناکامی نیا انداز فکر دیتی ہےبار ہا ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ہدف یا مقصد جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہمارے لیے بہت اہم ہوتا ہے ،ہزار کوششوں کے باوجود اس کے ہمیں مطلوبہ نتائج نہیں ملتے۔دراصل ایسی ناکامی ہماری اقدار کا پتہ دیتی ہے۔یہ ناکامی ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری زندگی میں سب سے اہم کیا ہے۔جو شخص اپنی زندگی میں اپنے خاندان کو اوّلیت دیتا ہے ،اپنی فیملی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ شائد اپنے کرئیر میں بہت اوپر نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ ایک بہترین شوہر،ایک بہترین باپ ضرور بن سکتا ہے۔ایک عورت جو اپنے کام کو ہفتے کے 80گھنٹے دیتی ہے۔ وہ مالی طور پر مستحکم اور کامیاب ہوگی لیکن شاید وہ دوسرے رشتے نبھانے میں اتنی کامیاب نہ ہو۔ہماری ناکامی ہمیں ایک ہدف پر توجہ مرکوز کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔اس ہدف کو پانے کے لئے ہم اپنی پوری توانائی صرف کر کے اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ایک سب سے بڑا اور اہم تحفہ جو ناکامی ہمیں دیتی ہے وہ یہ علم ہے کہ '' ناکامی کبھی بھی حتمی نہیں ہوتی‘‘۔ ناکامی کبھی بھی زندگی یا اور مواقعوں کا اختتام نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ ہم خود ہی ہار نہ مان لیں یا جب تک ہم خود ناکامی کا انتخاب نہ کر لیں۔ اب انتخاب آپ کا ہے کہ آپ اپنے لئے کیا منتخب کرتے ہیں۔٭٭٭(بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ مندرجہ بالا مضمون ان کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے)۔

کرائسٹ دی ریڈیمر ،عجائبات عالم میں شامل 125 فٹ بلند مجسمہ

کرائسٹ دی ریڈیمر ،عجائبات عالم میں شامل 125 فٹ بلند مجسمہ

حضرت عیسیٰ ؑ سے منسوب یہ مجسمہ برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کی ہی نہیں بلکہ دنیا کی مشہور ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ اس مجسمے کی کل اونچائی 125 فٹ (30میٹر) ہے، 8 میٹر پیڈسٹل کو چھوڑ کر، ہاتھوں کی چوڑائی 28 میٹر تک ہے، وزن تقریباً 6 635 ٹن ہے۔یہ مجسمہ دنیا کے نیو سیون ونڈرز کی فہرست میں بھی شامل ہے، یہ مجسمہ سازی اور فن تعمیر کا ایک انوکھا کارنامہ ہے۔ اس مجسمے کا افتتاح 12 اکتوبر 1931ء میں ریو کے ماؤنٹ کورکاویدو کی چوٹی پر کیا گیا اور یہ دنیا کا آرٹ ڈیکو سٹائل مجسموں میں سب سے بڑا مجسمہ ہے۔ یہ مجسمہ برازیل کے مشہور ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ یاد رہے کہ آرٹ ڈیکو کی تحریک جنگ ِعظیم اوّل کے بعد شروع ہوئی اور 1930ء سے 1940ء تک اس کے عروج کا زمانہ تھا جس کے بعد جنگ ِعظیم دوم نے اس کا خاتمہ کیا۔یہ ایک ٹھوس مجسمہ ہے جس میں ٹیلکم کلورائید شامل ہے، چہرہ کیتھولک تاثر کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔یہ مجسمہ بنانے کا منصوبہ 1922ء میں برازیل کی آزادی کی صد سالہ تقریب کے موقع پر کیا گیا تھا۔ اس وقت ریاست کا دارالحکومت ریو ڈی جنیرو تھا، اسی وجہ سے اس مجسمے کو یہاں نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ چونکہ خود حکومت کے پاس عالمی تعمیراتی منصوبوں کے لئے فنڈز موجود نہیں تھے، سیاحت کے خرچ پر رہنے والے زیادہ تر مقامی باشندے ایک ایسی قومی یادگار بنانے میں بہت دلچسپی رکھتے تھے جو توجہ اپنی طرف راغب کر سکے، لہٰذا ''کروزیرو میگزین‘‘ نے مجسمے کی تعمیر کے لئے فنڈ اکٹھے کیے۔اسی میگزین نے ایک سروے شروع کیا تاکہ ''کرائسٹ دی ر یڈیمر‘‘ کی تعمیر کے لئے بہترین جگہ کا انتخاب کیا جا سکے۔ قریبی ضلع کا سب سے اونچا مقام ہونے کی وجہ سے کورکووادو کی چوٹی کو اکثریت کے ووٹوں نے منتخب کیا۔مجسمے کے انفرادی حصے فرانس میں بنائے گئے، اور پھر ریلوے کا استعمال کرتے ہوئے انہیں برازیل پہنچایا گیا۔ اس سلسلے میں ''کرائسٹ دی ریڈیمر‘‘ امریکی ''مجسمہ آزادی‘‘ کا بھائی ہے۔ یہ مجسمہ بنانے میں نو سال لگے۔2003 میں برقی زینہ یادگار کے دامن پر نصب ہوا، جس نے ڈیک پر چڑھائی کو بہت آسان بنا دیا۔2010ء میں پہلی اور آخری بار توڑ پھوڑ ہوئی۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس نے اور کیوں کی تھی۔اس کے بعد مجسمے کی تزین و آرائش کی گئی اور تب سے مجسمے کے آس پاس باقاعدگی سے حفاظت کی جارہی ہے اور کیمروں کی مدد سے اس کی نگرانی کی جارہی ہے۔اس مجسمے کو متعدد بار مختلف فلموں اور کارٹونز میں بھی دکھایا جا چکا ہے۔ اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے ہر سال بیس لاکھ سیاح آتے ہیں۔ برازیل کے قومی انسٹیٹیوٹ برائے خلائی تحقیق کے مطابق اس مجسمے پر سال میں پانچ بار سے زیادہ آسمانی بجلی گرتی ہے۔ 2013ء اور 2014ء میں مجسمے کی انگلیوں کو آسمانی بجلی سے نقصان پہنچا تھا لیکن بعد میں ان کو ٹھیک کر دیا گیا تھا۔ 

اقتباسات

اقتباسات

فقیر سے داتامجھے یاد ہے ایک مرتبہ میرے مرشد سائیں فضل شاہ صاحب گوجرانوالہ گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ہم جب پورا دن گوجرانوالہ میں گزار کر واپس آ رہے تھے تو بازار میں ایک فقیر ملا، اس نے بابا جی سے کہا ''کچھ دے اللہ کے نام پر‘‘۔انہوں نے ایک روپیہ (یہ اس وقت کی بات ہے جب ایک روپیہ بہت ہوتا تھا)اس کو دیا۔ وہ ایک روپیہ لے کر بڑا خوش ہوا، دعائیں دیں۔بابا جی نے فقیر سے پوچھا شام ہو گئی ہے کتنی کمائی ہوئی؟ فقیر ایک سچا آدمی تھا اس نے کہا 10روپے بنا لئے ہیں( اس وقت دس روپے بڑے ہوتے تھے)۔بابا جی نے فقیر سے کہا تو نے اتنے پیسے بنا لئے ہیں تو اس میں سے کچھ دے۔ اس نے کہا بابا میں فقیر آدمی ہوں، میں کہاں سے دوں؟۔انہوں نے کہا اس میں فقیر امیر کا کوئی سوال نہیں۔ جس کے پاس ہے اس کو دینا چاہئے ۔فقیر کے دل کو یہ بات لگی،کہنے لگا اچھا۔ وہاں دو مزدور کدالیں کندھے پر ڈالے گھر واپس جا رہے تھے۔ وہ فقیر بھاگا گیا، اس نے چار روپے کی جلیبیاں خریدیں، چار روپے کی ایک کلو جلیبیاں آیا کرتی تھیں۔ بھاگ کے لایا، اور آکر اس نے ان دو مزدوروں کو دے دیں۔کہنے لگا، لو آدھی آدھی کر لینا۔وہ بڑے حیران ہوئے، میں بھی کھڑا ان کو دیکھتا رہا ۔ مزدور جلیبیاں لے کے خوش ہوئے اور دعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔بڑی مہربانی بابا تیری، بڑی مہربانی۔ وہ جو فقیر تھا کچھ کھسیانا، کچھ شرمندہ سا تھا، زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے خیرات دی تھی۔وہ تو لینے والے مقام پر تھا اس لئے کچھ شرمندہ سا تھا۔میرے بابا جی نے کہا، ''اوئے کدھر جانا ایں تینوں فقیر توں داتا بنا دتا اے، خوش ہو نچ کے وکھا‘‘۔انسان فقیر سے جب داتا بنتا ہے نا تواس کا رتبہ بلند ہو جاتا ہے،باہر نہیں تو اس کا اندر ضرور ناچنے لگتا ہے۔(''زاویہ‘‘۔۔۔ از اشفاق احمد)لوگوں کی اقسامایسے بھی محتاط لوگ ہیں جو پیکار و فشارِ زیست سے بچنے کی خاطر خود کو بے عملی کے حصارِ عافیت میں قید رکھتے ہیں۔ یہ بھاری و قیمتی پردوں کی طرح لٹکے لٹکے ہی لیر لیر ہو جاتے ہیں۔کچھ گم صم گمبھیر لوگ اس دیوار کی مانند تڑختے ہیں جس کی مہین سی دراڑ جو عمدہ پینٹ یا کسی آرائشی تصویر سے با آسانی چھپ جاتی ہے، اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نیو اندر ہی اندر کسی صدمے سے زمین میں دھنس رہی ہے۔بعض لوگ چینی کے برتن کی طرح ٹوٹتے ہیں، کہ مسالے سے آسانی سے جڑ تو جاتے ہیں مگر وہ بال اور جوڑ پہلے نظر آتا ہے، برتن بعد میں۔اس کے برعکس کچھ ڈھیٹ اور چپکو لوگ ایسے اٹوٹ مادے کے بنے ہوتے ہیں کہ چیونگ گم کی طرح کتنا ہی چباؤ ٹوٹنے کا نام نہیں لیتے۔کھینچنے سے کھنچتے ہیں، آپ انہیں حقارت سے تھوک دیں تو جوتے سے اس بری طرح چپکتے ہیں کہ چھٹائے سے نہیں چھوٹتے۔ رہ رہ کر خیال آتا ہے کہ اس سے تو دانتوں تلے ہی بھلے تھے کہ پپول تو لیتے تھے۔ یہ چیونگ گم لوگ خود آدمی نہیں، پر آدم شناس ہیں۔ یہ کامیاب و کامران لوگ ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے انسانوں کو دیکھا، پرکھا اور برتا ہے اور جب اسے کھوٹا پایا تو خود بھی کھوٹے ہوگئے۔اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ کار کے ونڈ اسکرین کی مانند ہوتے ہیں۔ ثابت و سالم ہیں تو سینہ عارف کی طرح شفاف کہ دو عالم کا نظارہ کرلو۔ اور یکا یک ٹوٹے تو ایسے ٹوٹے کہ نہ بال پڑا نہ دَر،کہ نہ تڑخے۔ یکبارگی ایسے ریزہ ریزہ ہوئے کہ ناعارف رہا، نہ دو عالم کی جلوہ گری، نہ آئینے کا پتا کہ کہاں تھا، کدھر گیا۔ نہ حذر رہا نہ خطر رہا، جورہی سوبے خبری رہی۔اور ایک انا ہے کہ یوں ٹوٹتی ہے جیسے جابر سلطانوں کا اقبال یا حضرت سلیمانؑ کا عصا، جس کی ٹیک لگائے وہ کھڑے تھے کہ روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ لیکن ان کا قالب بے جان ایک مدت تک اسی طرح استادہ رہا اور کسی کو شبہ تک نہ گزرا کہ وہ رحلت فرما چکے ہیں۔ وہ اسی طرح بے روح کھڑے رہے اور ان کے اقبال اور رعب و دبدبے سے کاروبارِ سلطنت حسبِ سابق چلتا رہا۔ ادھر عصا کو دھیرے دھیرے گھن اندر سے کھاتا رہا، یہاں تک کہ ایک دن وہ چٹاخ سے ٹوٹ گیا اور حضرت سلیمان کا جسدِ خاکی زمین پر آرہا۔ اس وقت ان کی امّت اور رعیت پر کھلا کہ وہ دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں۔(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب ''آبِ گم ''کے مضمون ''حویلی ''سے اقتباس)

جلد کو نقصان سے بچائیں!

جلد کو نقصان سے بچائیں!

بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی جلد کوخوبصورت بنانے کے لیے مختلف کریموں کا استعمال کرتے ہیں جو کہ نہایت نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ خوبصورت ہونے کے جنون میں ہم کریم کے استعمال کے نقصانات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وقتی خوبصورتی کے بعدازاں کیا نقصانات ہوتے ہیں اس کا علم ہمیں بعد میں ہوتا ہے۔اکثر و بیشتر لوگ اپنی خوبصورتی کو لے کر پریشان رہتے ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ میں پرکشش نظر آؤں۔ اس کے لیے وہ مختلف کریموں کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کو مختلف قسم کے نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں کیونکہ کریموں کے اندر مختلف کیمیکلز ہوتے ہیں جو ہماری جلد کو بے پناہ نقصان پہنچاتے ہیں ۔اسی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لئے ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ صرف کریم استعمال کرنے کے بجائے ہمیں دیسی ٹوٹکے بھی استعمال کرنے چاہیں۔ ان کا کوئی نقصان نہیں ،تو آئیے ہم ایک ایسے ہی ٹوٹکے کے بارے میں جانتے ہیں۔تحقیق کے مطابق آپ کو دیسی گھی کا استعمال کرنا چاہیے،دیسی گھی کے استعمال سے آپ کی جلد کوخوبصورتی ملتی ہے اور آپ کا چہرہ زیادہ ترو تازہ نظر آتا ہے۔ملتانی مٹی، ہلدی، بادام کی کھلی اور لال مٹی یہ سب چیزیں ہماری جلد کے لئے بہت مفید ہیں اور ان کے باقاعدہ استعمال سے ہم اپنی جلد کو چمکدار اور جوان رکھ سکتے ہیں۔