بعض ممالک میں آکسیجن گیس کی کمی کیوں ؟ ہم کچھ غذاؤں کی مدد سے آکسیجن کی مقدار کو بڑھا سکتے ہیں
اسپیشل فیچر
اللہ تعالیٰ نے ایک گیس دنیامیں وافر بنائی لیکن آج کئی ممالک کے ہسپتالوں میں اسی آکسیجن گیس کی کمی کا غلغلہ ہے ۔ ہوامیں 31 فیصد تک یہی گیس موجود ہے ،جبکہ انسان جتنی سانس (ہوا) لیتا ہے، اس میں 21 فیصد سے 23فیصد تک آکسیجن گیس موجود ہوتی ہے۔آکسیجن گیس بنانا کوئی مشکل کام نہیں لیکن ہسپتالوں میں اس کی ضرورت زیادہ نہیں پڑتی، اسے ذخیرہ کرنے کے لئے بھی کنٹینرز درکار ہوتے ہیں مگر ضرورت نہ پڑنے کے باعث آکسیجن کی پیداوار بڑھانے یا اسے ذخیرہ کرنے کے سسٹم کو اہمیت نہیں دی گئی اسی لئے آج دنیا کے کئی حصوں میں آکسیجن گیس کے سیلنڈرز دستیاب نہیں ہیں۔انڈین ریاستوں میں آکسیجن سیلنڈروں کی نقل و حمل کیلئے پولیس کے دستے ساتھ دیکھے گئے ہیں۔
آخر یہ سب کیا ہے؟ رب کریم نے ہمیں آکسیجن گیس اتنی وافرمقدار میںعطا فرمائی لیکن ابن آدمی آج اسی کی کمی سے تڑپ رہا ہے، جانوں سے ہاتھ د ھو رہا ہے، کیوں ،آخر کیوں ؟ ۔ہوا یوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہوا میں آکسیجن کی مقدار کو متوازن رکھنے کا ایک نظام بنایا ہواہے لیکن انسان آلودگی کے ذریعے اسے بھی برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سانس لینے کے طریقے بھی درست نہ رکھے۔ آئیے ، اس کے بارے میں کچھ جانتے ہیں۔
آکسیجن کیوں ضروری ہے؟
آکسیجن ہماری اہم ترین ضرورت ہے۔ پھیپھڑوں سے آکسیجن دماغ اور جسم کے دوسرے حصوں کی جانب جاتی ہے، جس سے دل کی دھڑکن اور دماغ کے افعال برقرا ررہتے ہیں۔ جونہی کوئی فردسانس لیتا ہے، آکسیجن گیس خون کی نالیوں کے ذریعے جسم کے ریشے ریشے میں موجود خلیوںتک کاسفر کرتی ہے۔ خلیوں کی صحت کا دار و مدار بھی آکسیجن گیس کی فراہمی پر منحصر ہوتا ہے ۔انسانی جسم دن بھر میں 90فیصد انرجی آکسیجن گیس کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ آکسیجن جسمانی خلیوں کو مختلف کیمیائی اجزا(نشاستہ، کاربوہائیڈریٹس، پروٹینز) وغیرہ سے توانائی حاصل کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔اگر آکسیجن نہ ملے تو انسانی جسم توانائی حاصل نہیں کر سکتا۔ آکسیجن کے ذریعے خوراک سے حاصل کردہ توانائی ہر خلیے تک پہنچ جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے نجات بھی اسی آکسیجن کے ذریعے ملتی ہے۔ مختصراََ ، آکسیجن گیس جسم کو نہ ملنے کی صورت میں توانائی کی فراہمی اور جسم میں پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کااخراج رک جائے گا ۔ آکسیجن نہ ملے تو دل دھڑکنا بند کر دیگا اور دماغ کام کرنا روک دے گا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہی جسم کے ہر خلیے کی طاقت ہے۔جس طرح کار کو چلانے کیلئے پٹرول ضروری ہے اسی طرح جسم آکسیجن کے بغیر ''چل ‘‘ ہی نہیں سکتا ۔
زیادہ سانس ...زیادہ طاقت اور چستی!
زیادہ سانس یا آکسیجن لینے کا مطلب ہے زیادہ توانائی اور مزید پھرتی اور چستی ۔ کیونکہ جیسے ہی آپ زیادہ آکسیجن لیتے ہیں خلیوں کو زیادہ توانائی ملنے سے چستی پیدا ہو سکتی ہے۔ کم سانس (یعنی کم آکسیجن ) تھکن اور بوجھل پن کا سبب بنتی ہے۔زیادہ آکسیجن لینے سے کسی بات پر فوکس کرنے میں بھی مدد ملتی ہے ، کام کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اورپٹھے بھی مضبوط ہو جاتے ہیں۔
ایک منٹ میں کتنی بار سانس لینا چاہئے؟
انسان مجموعی طور پر سال بھر میں 9.5ٹن ہوا جسم میں لیتا ہے لیکن اس میں آکسیجن کی مقدار 21سے 23 فیصد تک ہوتی ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ہر فرد مجموعی طور پر سال بھر میں 740کلوگرام آکسیجن گیس استعمال کرتا ہے۔ جسم میں آکسیجن کی مقدار یعنی سیچوریشن94 فیصد سے 99فیصد تک ہونا چاہئے۔یہ مناسب ترین سطح ہے۔پھیپھڑوں کے عارضے میںمبتلا افراد میں آکسیجن لیول کم ہوتا ہے۔ آکسیجن کی مقدار 90فیصد سے کم ہونا شروع ہو جائے تو فرد کئی بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے ۔دل ، پھیپھڑے اور جگر متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماحول اور شخصی عادات کے باعث ہر شخص میں آکسیجن گیس کا انٹیک کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔
ایک آدمی مجموعی طور پر 12سے 20بارفی منٹ سانس لیتا ہے۔کیا یہ درست ہے؟نہیں ۔ یہ زیادہ ہے۔ محققین کے مطابق ایک منٹ میں 6سے 8بار سانس لینا چاہئے ۔سانس کی یہ مقدار مناسب ہے۔ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ جب وہ سانس لے رہے ہوتے ہیں تو درحقیقت سانس نہیں لے رہے ہوتے! ان کی سانس اس قدر چھوٹی ہوتی ہے کہ آکسیجن جسم میںمناسب طور پر جا ہی نہیں پاتی ،ایسی سانس زیادہ فائدہ مند نہیں۔ سانس کو مکمل اور پورا ہونا چایئے۔لیکن کیا ہم خون میں آکسیجن کی مقدار کو ماپ سکتے ہیں؟یہ کون سا مشکل کام ہے۔ اسے '' Peripheral capillary oxygensaturation'' یعنی SPO2کہا جاتا ہے۔ آکسیجن کو ماپنے کے لئے ''آکسی میٹر‘‘ بنائے گئے ہیں۔
کیا جسم کو آکسیجن کی مقدار بڑھانے
کی تربیت دی جا سکتی ہے؟
جی ہاں، ہم ایسا کر سکتے ہیں۔جب تک ہم زندہ ہیں ، یہ گیس سانس کے ذریعے جسم میں حاصل کرتے ہیں لیکن ہم اپنے جسم کو زیادہ سانس لینا بھی سکھا سکتے ہیں۔ ''کارڈیو ایکسرسائز‘‘ کی مدد سے جسم کو بہتر انداز میں سانس لینا سکھا سکتے ہیں۔ لیکن ورزش تنہا جسم میںآکسیجن کی مقدار میں اضافے کا سبب نہیں بن سکتی ۔اس کے لئے سانس مخصوص انداز میں لینے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ہرسانس کے ساتھ کتنی آکسیجن پھیپھڑوں میں جا رہی ہے۔ آہستہ اور گہری سانس لے کر آکسیجن گیس کی مقدار بڑھائی جا سکتی ہے۔ دوران ورزش بار بارگہری سانسیں لینے سے نظام تنفس بہتر ہوجائے گا۔آکسیجن کی مقدار بہتر بنانے کے چند طریقے ذیل میں درج کئے جا رہے ہیں۔
صبح کی سیر :تازہ ہوامیں سیر کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ اس سے پھیپھٹروں کو اضافی آکسیجن ملتی ہے ۔
خوب پانی پیجئے:''جرنل آف بائیو کیمسٹری ‘‘ میں شائع شدہ مضمون کے مطابق '' پھیپھڑے 84فیصد، گردے 79فیصد، دل اور دماغ 73فیصد پانی پر مشتمل ہوتے ہیں۔حتیٰ کہ ہڈیوں میں بھی 32فیصد پانی ہوتا ہے‘‘۔ہم نے آٹھ اونس والے 8گلاس پینے کی باتیں بھی سن رکھی ہیں۔ لیکن اب ''ہیلتھ لائن ‘‘ میگزین نے لکھا ہے کہ ''کتنا پانی پیا جائے ؟اس کا کوئی جامع پیمانہ موجود نہیں ہے‘‘۔ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیسن (IOM) نے تصدیق کی ہے کہ '' ہر خاتون کو 2.7لٹر اور مرد کو 3.7لٹر پانی پینے کی ضرورت ہے‘‘۔
آئرن سے بھرپور خوراک : بعض غذائیں جسم میں آکسیجن کی مقدار میں اضافے کا موجب بنتی ہیں۔ آئرن (فولاد ) بھی ان میں شامل ہے۔ خون کے سرخ خلیے کو آکسیجن کی منتقلی میں فولاد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔آئرن کی کمی اسی لئے تھکن اور بوجھل پن کا سبب بنتی ہے۔لہٰذا سبز پتوں والی سبزیوں کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیے۔ سیب ، انڈے مرغی کا گوشت اور مچھلی بھی لازی کھائیے ۔
ورزش: جتنی زیادہ مقدار میں آکسیجن گیس ہمارے جسم میں جائے گی ،ہم اتنی ہی زیادہ مقدار میں خواراک کو ہضم کرسکیں گے۔کیونکہ آکسیجن خوراک کو ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ورزش یہ کام بخوبی سر انجام دے سکتی ہے۔ ورزش ضرور کیجئے۔
ہمیں آکسیجن کہاں سے ملتی ہے؟
دنیا بھر میں 50فیصد سے 80فیصد تک آکسیجن سمندری حیات اور نباتات پیدا کرتے ہیں اور اس کا بڑا حصہ استعمال بھی وہی کر لیتے ہیں۔ جبکہ آبی حیات کا ایک گروپ فوٹو سنتھیسز کے ذریعے آکسیجن گیس پیدا کر رہے ہیں، ان میں ''پلانکٹن ‘‘(Plankton) سر فہرست ہیں۔اس چھوٹے سے سمندری پودے کو ''آبی فیکٹری‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔
آپ کو یہ سن کر شائد حیرانی ہوکہ ''پروکلوروکا کس‘‘ (Prochlorococcus) نامی ایک ننھی سی حیات بھی فوٹو سنتھیسز کے ذریعے دنیا بھر میں سب سے زیادہ (20فیصد)آکسیجن پیدا کرتی ہے ۔یہ ننھی حیات دنیا بھر میںرین فارسٹ سے بھی زیادہ آکسیجن گیس پیدا کرتے ہیں۔ کم آکسیجن والے علاقوں کو ''ڈیڈ زون‘‘ اور بیماری کو ''ہائی پوکیسا‘‘(Hypoxia) کہا جاتا ہے ۔ایک تناور درخت 260پائونڈ سالانہ آکسیجن گیس خارج کرتا ہے۔ دو بڑے درخت چار افراد پر مشتمل خاندان کو پوری آکسیجن مہیا کر سکتے ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ درخت لگائیے ۔ پیپل کے درخت دن اور رات ، دونوں وقت آکسیجن گیس خارج کرتے ہیں، دوسرے درخت ایسا نہیں کرتے اسی لئے پیپل کے درختوں کی بہتات والے علاقوں میںلوگوں کی صحت نسبتاََ بہتر ہوسکتی ہے۔ ۔ جبکہ کرہ ارض کی فضاء میں آکسیجن مینگینیز نامی عنصر کے رد عمل سے پیدا ہو رہی ہے۔