نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کاامریکی نشریاتی ادارےکوانٹرویو
  • بریکنگ :- اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زیادتی کرنےوالا ہی قصوروارہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتاثرہ فردکبھی بھی اس واقعےکاذمہ دارنہیں ہوتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- زیادتی سےمتعلق میرےبیان کوسیاق وسباق سے ہٹ کرلیاگیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انٹرویومیں پاکستانی معاشرےسےمتعلق بات ہورہی تھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خواتین ہی نہیں بچوں کی اکثریت بھی جنسی جرائم کاشکارہورہی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پردےکاحکم صرف خواتین کےلیےنہیں مردوں کےلیےبھی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام میں پردےکامقصد معاشرےمیں بگاڑکوروکنا ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- اسلام خواتین کوعزت واحترام دیتاہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پاکستان میں جنسی جرائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،وزیراعظم
Kashmir Election 2021

دبی آوازیں

دبی آوازیں

اسپیشل فیچر

تحریر : اسماء یعقوب (ملتان)


''خوشبودار سبز الائچی والا خاص پشاوری قہوہ۔ قہوہ لے لو، گرما گرم قہوہ۔ فی کپ 20 روپے، پشاوری قہوہ تیار ہے۔ چائے، کافی، آئس کریم، چپس، مناسب قیمت پر لینے کے لیے ہمارے پاس آ جائیں۔ فیملی کیلئے الگ سے جگہ ہے۔ کرارے اور مزیدار پوپکارن۔ ''بھائی! کھلونے لو گے۔ اچھے والے کھلونے ہیں اور جلدی نہیں ٹوٹتے۔ لے لو ناں! اپنے بچوں کیلئے لے لو۔ میں آپ کیلئے دعا کرونگی۔‘‘مال روڈ پر بھیڑ کے درمیان ایک پٹھانی بچی نے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔ وہ سر سبز وادیوں کے حسن میں کھویا ہوا تھا۔ وقفے وقفے سے برفباری ہونے کی وجہ سے گھروں کی چھتوں پر سفید نرم سی تہہ بچھ چکی تھی، ماحول میں خاصی خنکی تھی۔وہ بھونچکا رہ گیا۔ سردی کی شدت کے لحاظ سے بچی کے کپڑے انتہائی غیر موزوں تھے۔ وہ ایک سیاح تھا، ملکوں ملکوں گھومنا اور قدرت کا حسن دیکھنا اسکا کام تھا آج بھی وہ اسی مقصد کے تحت کاغان ناران کی وادیوں سے ہوتے ہوئے مری کے مسحورکن نظاروں کو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا۔ ''بھائی! مجھے یہ کھلونے بیچ کر گھر جانا ہے شام ہو رہی ہے، اپنے بچوں کیلئے لے لو، چلو 25 میں لے لو۔ اتنا سستا کہیں سے بھی نہیں ملے گا۔‘‘ بچی بولتی چلے جا رہی تھی۔ وہ حیرت کا بت بنے، اس عجیب و غریب منظر کے سحر میں جکڑا ہوا تھا۔ اس دنیا کے جبر کی داستان بچی کے چہرے پر رقم تھی۔ بھائی! بچی نے جھنجوڑا تو وہ چونک اٹھا۔ ''بچوں کیلئے کھلونے لے لو، میں دعا دونگی۔‘‘ وہ نہایت بھولپن سے بولی ۔ ''کیا دعا دو گی؟‘‘ سیاح کا لہجہ تجسس بھرا تھا۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ''واہ بھئی واہ! تم تو کافی سمجھدار ہو۔‘‘ اس نے نوٹ تھماتے ہوئیگفتگو جاری رکھی۔ ''گھر کدھر ہے تمہارا؟‘‘ ڈھلان کے اس پار۔ بچی نے اشارہ کرتے ہوئے مختصر سا جواب دیا۔ ''او ہو! اتنی دور کیسے جاؤ گی؟‘‘ اب اس کا انداز تھوڑا فکر مندانہ تھا۔شام ہونے سے پہلے تمام کھلونے بیچ کر اپنی سہیلیوں کے ساتھ جاؤ نگی۔ برفباری ہو گئی تو پھر بہت مشکل ہو جائیگی۔ ۔ ''اچھا ایسا کرو تم سارے کھلونے مجھے بیچ دو۔‘‘ اس نے مسئلے کا حل پیش کیا۔ کیا واقعی؟وہ بے یقینی کے انداز میں بولی۔ بھائی! آپ تو بہت اچھے ہیں۔ میری امی کہتی ہیں امیروں میں احساس نہیں ہوتا۔ آج میں ان کو بتاؤں گی کہ سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔ وہ کسی ترنگ میں بولی۔
''وہ ایسا کیوں کہتی ہیں؟‘‘ سیاح کی نظروں میں تحیر تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ مالدار لوگ سفید پوش طبقے کی مالی امداد نہیں کرتے اپنا پیسہ سود اور رشوتوں کی نذر کر دیتے ہیں۔ بے بس ہو کر ماں باپ ہمیں کمانے کیلئے لگاتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو گھر کا چولا جلنا بند ہو جائے ۔ وہ اتنی یاسیت سے بولی کہ سیاح کو اپنا وجود کٹتا محسوس ہوا۔کھلونے اس نے وصول کر لیے ، نقدی بھی ادا کر چکا تھا۔ بچی کے لبوں پر چپ کی مہر تھی لیکن آنکھیں شکریہ بول رہی تھیں۔ اس نے اچھلتے کودتے اپنی راہ پکڑی، جیسے اس کے ناتواں کندھوں سے بہت بڑا بوجھ سرک گیا ہو۔
بچی تو چلی گئی مگر جاتے جاتے سیاح کو مبہوت کر گئی۔ اس کے کانوں میں اس کے الفاظ ابھی تک گونج رہے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا۔ سیاحوں کا جم غفیر منظر کشی میں مصروف تھا۔ گروپ کی صورت میں آنے والے سیاح اپنی چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔ کانوں سے ٹکراتی مختلف چیزیں بیچتے مقامی بچوں کی آوازیں ہجوم کے شوروغل میں مکمل طور پر دب چکی تھیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

وہ گولیوں کی بو چھاڑ میں آگے بڑھتے رہے، باڑ کو دو حصوں میں کاٹ ڈالا اور دشمن چوکی چھوڑ کر بھاگ گیا کیپٹن راجہ محمد سرور شہید پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر حاصل کیا

ایک دن کمانڈر نے اپنے جوانوں کو اکٹھا کیا اور کہا۔''یہ پہاڑی ہمارے لئے ایک چیلنج بن چکی ہے ۔جونو جوان اس مہم کا بیڑا اٹھا سکتا ہو، آگے آ جائے ۔‘‘پوری کمپنی پر سناٹا چھا گیا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ یہ موت کے منہ میں جانے والی بات ہے۔ ''یس سر،میں اس مہم کا بیڑا اٹھاتا ہوں‘‘محمد سرور نے کہا ۔ 27 جولائی 1948 ء کی رات محمد سرور شہید اپنے جوانوں کے ساتھ ٹارگٹ کی طرف بڑھے۔توپوں اورمشین گنوں سے فائرنگ ہو رہی تھی۔برستی گولیوں میں محمد سرور اپنی بٹالین کی قیادت کرتے ہوئے سب سے آگے تھے ۔اس دوران کئی جوان موت سے گلے مل گئے۔ ساتھیوں کی تعداد میں کمی ہونے لگی کیونکہ دشمن بلندی پر تھا ۔آپ ان کے سیدھے ٹارگٹ پر تھے ۔لیکن اس کمی نے حوصلہ کم نہیں کیا بلکہ بڑھایا ۔اسی وقت ایک گولی نے محمد سرور شہید کا دایاں شانہ چیر کر رکھ دیا۔خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔دشمن کی گولیاں ان کے دائیں بائیں سے اور سر کے اوپر سے گزر رہی تھیں۔وہ گولیوں کی بوچھاڑ میں آگے بڑھتے رہے ان کے زخموں سے خون جاری تھا ۔آخر وہ اس مورچے تک جا پہنچے جہاں سے گولیاں برسائی جا رہی تھیں ۔اور باڑ کاٹنے لگے ۔آخری تار کٹنے کو تھی کہ دشمن کی فائرنگ نے محمد سرور شہید کا سینہ چھلنی کر دیا۔ایک جھٹکے سے انہوں نے آخری تار کو دو حصوں میں کاٹا ۔دشمن پر آخری برسٹ کے ساتھ ‘‘اللہ اکبر‘‘ کے الفاظ ادا کرتے ہوئے رب کے حضور لبیک کہہ دیا۔دشمن اس چوکی کو چھوڑ کر بھاگ گیا ۔ صبح کے سورج نے اس پہاڑی پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے دیکھا۔راجہ محمد سرور عید کے دن 10 نومبر 1910 ء کوموضع سنگوری تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ان کی شہادت بھی عید کے دوسرے دن ہوئی ۔یہ علاقہ بنجر اور زیادہ تر غیر آباد ہے۔یہاں کاشت کاری کم ہوتی ہے۔ زیادہ تر لوگ فوج میں ملازم ہیں ۔آپ کے والد بھی آپ کو فوج میں بھرتی کروانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔اس کے لیے ان کی تعلیم کا بندوبست ہوا چونکہ آپ ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔اس لیے ابتدائی تعلیم گاؤں کی مسجد میں حاصل کی۔ چھ برس کے ہوئے تو ان کے والد نے انہیں چک نمبر 229۔گ ب ضلع فیصل آباد کے مقامی سکول میں داخل کروا دیا۔یہاں سے پانچویں کلاس پاس کی۔1925 ء میں مڈل سکول سے آٹھویں۔سترہ سال کی عمر میں 1927 ء میں میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی۔ان کے خاندان کے بہت سارے افراد فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ان کے والدمحمد حیات خاں فوج میں حوالدار تھے ۔ انگریز حکومت نے ان کو پہلی جنگِ عظیم میں بہادری سے بھرپور کارنامے سر انجام دینے پر 3 مربع زمین الاٹ کی تھی۔ 23 فروری 1932 ء کو محمد سرور کے والد محمد حیات خاں کا انتقال ہوا۔ان کی اولاد میں بڑا بیٹا محمد مرزا خاں فوج کے میجر کے عہدے پر ریٹائرڈ ہوئے ۔ان کو بھی ایک مربع زمین دلیری اور بہادری پر انعام میں ملی۔دوسرے بیٹے یعنی راجہ محمد سرورکے دوسرے بھائی محمد سردار خاں بھی فوج میں حوالدار تھے ۔ کیپٹن راجہ محمد سرور شہید ، محمد حیات خاں کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے جو نشانِ حیدر حاصل کر کے خاندان اور مملکتِ پاکستان کے لئے فخر و ناز کا باعث بنے۔جب انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیاتو 1929 میں بلوچ رجمنٹ میں ایک سپاہی کی حیثیت سے بھرتی ہوئے۔کراچی میں ابتدائی فوجی کورس کیا۔دو سال شمال مغربی سرحدی صوبے میں خدمات سر انجام دیں۔1941 ء میں اسی رجمنٹ میں حوالدار کے عہدے تک پہنچے۔ ڈرائیونگ کا کورس کیا۔1941 ء میں وہ رائل انڈین آرمی میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے اور وی سی او سکولف رائل انڈین سروس کور میں انسٹرکٹر کی خدمات سر انجام دینے لگے۔ 19 مارچ 1944 ء کو سیکنڈ لیفٹیننٹ بنے۔27 اپریل 1944 ء کو یہ لیفٹیننٹ بنا دئیے گئے۔یکم فروری 1947 ء کی تاریخ محمد سرور شہید کی زندگی میں بے حد اہم تھی۔انہیں کیپٹن کا عہدہ دیا گیا۔محمد سرور شہید درمیانے قد،سڈول جسم،متناسب اعضاء ، موٹی آنکھوں، بارعب آواز، گندمی رنگ اور بھاری مونچھوں کے حامل تھے۔ تلاوت قرآن پاک،نماز کے پابند اور مطالعے کے شوقین تھے۔ محمد سرور شہید علامہ اقبال ؒسے بھی بہت محبت رکھتے تھے اور ان کے بے شمار شعر انہیں زبانی یاد تھے۔کبڈی اور فٹبال محمد سرور شہید کے پسندیدہ کھیل تھے ۔ان کے حالات زندگی میں یہ واقعہ قابل توجہ ہے کہ ایک بڑھیا کو دینے کے لئے ان کی جیب میں ریزگاری نہ تھی۔ اس سے باقاعدہ معافی مانگی۔ کچھ دور گئے تو دل بے تاب ہو اٹھا۔ گوارا نہ کیا کہ محض ریزگاری نہ ہونے کے باعث اللہ کے نام پر دینے سے انکار کر دیا۔ فوراََ واپس آئے ۔ بڑھیا تلاش بسیار کے بعد ملی تو اس سے دوبارہ معافی مانگی اور حسب توفیق مدد کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ان کی شادی ان کے خاندان میں خوش اخلاق خاتون کرم جان سے ہوئی۔شادی کی تقریب بے حد سادہ اور اسلامی روایات کے مطابق 15 مارچ 1936 ء کو ہوئی ۔جنرل اسکندر مرزا کا دور تھا جب 23 مارچ 1957 کے یومِ جمہوریہ کے موقع پر کیپٹن محمد سرور شہید کے اس زندہ جاوید کارنامے پر انہیں نشانِ حیدر دینے کا اعلان کیامگر یہ اعزاز دینے کی تقریب اس وقت کے فیلڈ مارشل محمد ایوب خاں کے دورِ حکومت میں 27 اکتوبر کو منعقد ہوئی۔تقریب راولپنڈی میں منعقد ہوئی جہاں ان کی بیگم محترمہ کرم جان کو کیپٹن محمد سرور شہید کا نشانِ حیدر دیا گیا۔پاکستان کی عسکری تاریخ کا پہلا اور سب سے بڑا اعزاز نشانِ حیدر جو آنے والی نسلوں کو ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا ۔ ایوب خاں نے اپنے خطاب میں کہا ۔''میں کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں جنہوں نے سب سے پہلا نشانِ حیدر حاصل کر کے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔انہوں نے اپنی قربانی سے اپنی فوج اور اپنی بٹالین کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیا ہے ۔بے شک ان کی قربانی پر ہم سب کو فخر ہے ۔‘‘

کیا ’’انار کلی‘‘ایک حقیقی قصہ ہے

کیا ’’انار کلی‘‘ایک حقیقی قصہ ہے

اردو ڈرامے کی تاریخ میں امتیاز علی تاج کی تخلیق'' انار کلی ‘‘ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ اپنی مثال آ پ ہے۔ یہ ڈرامہ پہلی بار 1932میں شائع ہوا۔ اس کے بعد اب تک اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور اس ڈرامے کی مقبولیت بر قرار ہے۔ بھارت میں انارکلی کی کہانی کی اساس پر ایک فلم''مغل اعظم‘‘ بنائی گئی جسے فلم بینوں نے بہت پسند کیا۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے انارکلی ایک ایسی رومانی داستان ہے جس کے حقیقی مآخذ کے بارے میں اب تک کوئی ٹھوس تاریخی حقیقت یا دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ڈرامہ انارکلی ایک رومانی موضوع پر لکھی گئی داستان کی اساس پر استوار ہے۔ مطلق العنان مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر اپنی منظور نظر کنیز انار کلی کے حسن و جمال اور رقص کا شیدائی تھا۔ نادرہ نامی یہ کنیز قصر شاہی میں اس قدر دخیل ہے کہ تمام امور میں بادشاہ اس کی رائے کو اہمیت دیتا ہے۔ اس کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب بادشاہ کا بیٹا اور ولی عہد شہزادہ سلیم بھی اسی کنیز کی زلف گرہ گیر کا اسیر ہو جاتا ہے ۔ ایک طرف تو جلال الدین اکبر کی ہیبت و سطوت کے سامنے یہ کنیز بے بس ہے تو دوسری طرف شہزادہ سلیم کی پر کشش شخصیت اور انداز دلربائی نے اسے تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ایک طرف تو شہنشاہ جلال الدین اکبر اس کنیز کو اپنی ذاتی ملازمہ سمجھتے ہوئے اس پر بلا شرکت غیرے اپنا استحقاق جتاتا ہے تو دوسری طرف ولی عہد شہزادہ سلیم کی نگاہ انتخاب اس پر پڑ چکی ہے اور اس کو اپنی شریک حیات بنانے پر تل گیا ہے۔ایک جنگ کے بعد شہزادہ سلیم اور انار کلی کو قید کر لیا جاتا ہے۔ شہزادہ سلیم تو محفوظ رہتا ہے مگر انار کلی کو جلال الدین اکبر کے احکامات کے تحت زندہ دیوار میں چنوا دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس پوری کہانی کو ایک المیہ قرار دیا جا سکتا ہے جس نے ایک پورے خاندان اور پوری سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ جنرل مان سنگھ جیسے دلیر سپہ سالار اور معاملہ فہم سپاہی، اکبر جیسے سیاست دان اور منتظم کو اس رومانی داستان نے بے بس و لاچار بنا کر اضطراب میں مبتلا کر دیا۔کہا جاتا ہے کہ انار کلی کا واقعہ 1599 میں وقوع پذیر ہوا۔ یورپی سیاح ولیم فنچ جو 1618 میں لاہور پہنچا، اس نے اپنی یاد داشتوں میں اس المیے کا ذکر بڑے دردناک انداز میں کیا ۔ اس کے بعد 1618میں ایک اور یورپی سیاح ایڈورڈ ٹیری لاہور آیا، اس نے بھی اپنے پیش رو سیاح کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے اس داستان کو خوب نمک مرچ لگا کر پیش کیا۔ چار سال بعد یعنی 1622 میں یورپ سے سیاحت کی غرض سے آنے والے ایک اور سیاح ہربرٹ نے بھی اس قصے کو بیان کیا۔ پورے دو سو سال تک بر صغیر کے لوگ اس قصے سے لا علم رہے کسی غیر جانب دار مورخ کے ہاں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ نور الدین جہانگیر نے تزک جہانگیری میں کہیں اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس عہد کے ممتاز مورخ والہ داغستانی اور خافی خان جو اکبر اور جہانگیر کی معمولی نوعیت کی لغزشوں پر بھی نظر رکھتے تھے، انھوں نے بھی کسی مقام پر اس قصے کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام قصہ محض تخیل کی شادابی ہے۔ 1864 میں مولوی نور احمد چشتی نے اپنی تصنیف ''تحقیقات چشتی‘‘میں انار کلی اور اکبر کے اس رومان کا ذکر کیا ہے۔ 1882 میں کنہیا لال ہندی نے اپنی تصنیف ''تاریخ لاہور‘‘ میں انار کلی، اکبر اور سلیم کے اس المیہ قصے کا احوال بیان کیا ہے۔ مقامی ادیبوں کے ہاں ایک طویل عرصے کے بعد اس قصے کی باز گشت سنائی دینے لگی۔ سید محمد لطیف نے بہت بعد میں انار کلی اور اکبر کے اس المیے کا ذکر اپنی تصنیف ( History of lahore ) میں کیا ہے۔ یہ انگریزی کتاب 1892 میں شائع ہوئی۔تاریخی حقائق سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ انار کلی، اکبر اور سلیم کا یہ رومانی المیہ جسے ابتدا میں یورپی سیاحوں نے محض تفنن طبع کے لیے اختراع کیا، آنے والے دور میں اس پر لوگوں نے اندھا اعتماد کرنا شروع کر دیا۔آثار قدیمہ، تاریخی حقائق اور دستاویزی ثبوت اس تمام المیہ ڈرامے کو جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہیں۔ وہ دیوار جس کے بارے میں یہ شو شہ چھوڑا گیا کہ اس میں انار کلی کو زندہ دفن کیا گیا۔ اس کے آثار لاہور شہر میں کہیں موجود نہیں۔ انار کلی تنازع پر جنرل مان سنگھ اور شہزادہ سلیم کی مسلح افواج کے درمیان جو خونریز جنگ ہوئی اس کے میدان جنگ، مرنے والوں اور زخمیوں کی تعداد کا کوئی علم نہیں۔ جنرل مان سنگھ تو مغل افواج کی کمان کر رہا تھا شہزادہ سلیم نے ایک بڑی فوج کہاں سے حاصل کی اور اس کی تنخواہ اور قیام و طعام کا بندوبست کیسے ہوا؟ جنرل مان سنگھ کی کامیابی کے بعد شہزادہ سلیم کی حامی اور اکبر کی مخالف فوج پر کیا گزری؟۔ یہ سب سوال ایسے ہیں جو اس قصے کو کمزورکرتے ہیں۔لاہور سول سیکرٹیریٹ میں جو انارکلی کے نام سے موسوم ہے وہ انار کلی کا مقبرہ نہیں بلکہ زین خان کوکہ کی صاحب زادی''صاحب جمال ‘‘کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ شہزادہ سلیم کی منکوحہ تھی۔ اس کا مقبرہ شہزادہ سلیم نے اپنے عہد میں تعمیر کروایا۔امتیاز علی تاج نے ولیم فنچ کے بیان کو بنیاد بنا یا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ اور تخلیق ادب کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ سید امتیاز علی تاج نے تاریخ اور تاریخ کے مسلسل عمل کے بارے میں بلاشبہ مثبت شعور و آگہی پروان چڑھانے کی سعی کی ہے۔ ان کے اسلوب میں تاریخی شعور کا جو منفرد انداز جلوہ گر ہے وہ زندگی کی ایسی معنویت کا مظہر ہے جو نئی بصیرتوں کی امین ہے۔(کتاب'' ادب دریچے ‘‘سے مقتبس)

اُزبکی پلائو اور مہمان نوازی

اُزبکی پلائو اور مہمان نوازی

اُزبکی پلائو تیار کرنے کے لیے ازبک مرد حضرات خصوصی مہارت رکھتے ہیں اور گھروں میں ہر چھوٹی بڑی تقریب میں ازبکی مرد حضرات ہی پلائو تیار کرتے ہیں۔ اس ہنر پرازبکی مردوں کو فخر بھی ہے۔ ازبکی پلائو میں چاول کے علاوہ باریک کٹی ہوئی گاجر،سیاہ کشمش، گوشت اور لہسن ثابت بغیر چھلے ہوئے استعمال کیے جاتے ہیں۔ صرف پلائو کی ضیافت کو اُزبک لوگ' اوش‘ کہتے ہیں۔ اُزبکی پلائو کی اہمیت اس ایک مثالی لطیفے سے عیاں ہوتی ہے کہ ایک دفعہ ایک تاجک دوست کے ہاں ایک ازبک مہمان آیا۔ تین چار روز تک وہ تاجک دوست کے ہاں مقیم رہا۔ ایک دن ہمسائے نے اُس سے دریافت کیا کہ آیا تمہارا وہ اُزبکی مہمان چلاگیا ہے۔ تاجک میزبان نے پریشانی کے انداز میں جواب دیا کہ یار ابھی تک تووہ یہاں ہی مقیم ہے۔ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ جب کہ میں نے اُس کی آئو بھگت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔اچھے سے اچھا کھانا پیش کرتا ہوں۔ لیکن وہ ہے کہ جا نے کا نا م ہی نہیں لے رہا۔اس جوا ب پر ہمسائے نے جو خود بھی ازبک لو گو ں کے کھا نوں کے آداب سے وا قف تھا، دوبارہ میزبان سے دریافت کیا کہـ''تم نے اس مہما ن کو ازبکی پلا ئو کھلا یا ہے‘‘۔اس نے جوا ب دیا کہ نہیں،تو پھر ہمسائے نے کہا کہ جب تک تم اس اُزبکی مہما ن کواُزبکی پلا ئو نہیں کھلا ئو گے وہ یہاں سے جائے گا نہیں۔کیو نکہ ازبکی پلا ئو کے بغیر خا طر مدا رت مکمل نہیں ہو تی۔ لہٰذا تاجک میزبا ن تے فورا ًازبکی پلا ئو کا اہتما م کیا اوراس کے فوراًبعداس ازبکی مہما ن نے تاجک دوست سے رخصت چاہی۔ اس وا قعہ سے آپ کو اندا زہ ہو گیا ہو گا کہ ُازبک لو گوں کے ہاں سب کھانوں میں ازبکی پلا ئو کی کتنی اہمیت ہے۔ہمارے ایک عزیز دوست جو کہ خود بھی ازبکی پلائوتیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ازبکی زبان کے ساتھ ساتھ اُردو زبان پر بھی عبور رکھتے ہیں اور ازبکی زبان کے علاوہ اُردو میں بھی چند کتابیں تحریر کر چکے ہیں وہ کئی دفعہ پاکستان بھی آ چکے ہیں۔ اور ہمارے 'محسن پاکستان ‘عزت مآب ڈاکٹرعبدالقدیر خاں کے خاص دوستوں میں سے ہیں۔وہ ہمیں خود صبح صبح منہ اندھیرے اپنی گاڑی میں اوش کھلانے لے جاتے تھے۔ اُن کا نام داد خاں نوری ہے۔ کئی دفعہ وہ ہماری پی آئی اے کی فلائٹس کے ذریعے بڑے بڑے گرمے اور تربوز جہاز کے کیپٹن کی وساطت سے جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کو تحفتاً بھجوایا کرتے تھے۔ازبکستان کے ہر گھریا فلیٹ میں ٹی وی،فریج اور گیس موجود ہوتی ہے۔ گھروں میں ٹھنڈا اور گرم پانی شہری انتظامیہ کی طرف سے مہیا کیا جاتا ہے، جوچوبیس گھنٹے موجود ہوتا ہے۔ سردیوں میں جبکہ باہر منفی آٹھ یا دس ٹمپریچر ہو تو گھر میں آپ ایک ہلکی سی بنیان پہن کر بھی آرام اور سکون سے بیٹھ سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کا گھر یا فلیٹ خود کار گرم رکھنے والے سسٹم سے آراستہ ہے اور یہ نظام پورے ازبکستان میں آپ کو ہر جگہ نظر آئے گا۔ حقیقتاً یہ روسی حکومت کا بہت بڑا کارنامہ تھا جو میں نے کئی دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بہت کم ہی دیکھا ہے۔اس کے علاوہ کتابوں کی شیلف بھی ہر گھر کی زینت ہوتی ہے۔کتاب ''سرائے جہاں ‘‘ سے اقتباس

مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مقبرہ جہانگیر۔۔عہد رفتہ کی عظیم یادگار

مغل بادشاہ جہانگیر کا اصل نام سلیم تھا جو 1564ء میں شہنشاہ اکبر کے ہاں راجپوت رانی مریم الزمانی کے بطن سے پیدا ہوا۔ 1605ء میں تخت نشین ہوا اور قریباً ساڑھے اکیس سال نہایت شان سے حکومت کرکے 8نومبر 1627ء کو کشمیر سے لاہور واپس آتے ہوئے راجوری کے مقام پر فوت ہوا۔ اُسے دریائے راوی کے کنارے واقع ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا کے وسط میں دفن کیا گیا۔ اس باغ کو جہانگیر نے باغ دل آمیز کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔ جہانگیر کا مقبرہ اُس کے بیٹے شاہجہاں نے بنوایا تھا۔مقبرۂ جہانگیر کو مغلیہ عہد میں تعمیر کئے گئے مقابر میں اہم مقام حاصل ہے۔ دریائے راوی کے دوسرے کنارے یعنی شاہدرہ کی طرف سے لاہور آئیں تو مغلیہ دور کی تعمیرات میں سے مقبرۂ جہانگیر، مقبرہ آصف جاہ اور ملکہ نور جہاں کا مقبرہ نمایاں نظر آتے ہیں ان کا شمار مغلوں کی تعمیر کردہ حسین یادگاروں میں ہوتا ہے۔مقبرہ ٔجہانگیر باغ ''دلکشا‘‘ میں واقع ہے۔ باغ دلکشا نواب مہدی قاسم کی ملکیت تھا جو اکبر بادشاہ کے قریبی ساتھیوں میں سے تھا۔ اُس نے یہ باغ 1556ء میں دریائے راوی کے پار بنوایا تھا، نواب مہدی خاں کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ جب مہر النساء بیگم ملکہ نور جہاں بنی تو اس نے اس کا نام باغ دلکشا رکھ دیا۔ اب لوگ باغ دلکشا کا نام بھول چکے ہیں اور اس ساری جگہ کو مقبرہ جہانگیر ہی کہا جاتا ہے۔ مقبرہ جہانگیر کی تعمیر کا آغاز ملکہ نور جہاں نے کیا تھا اور شاہ جہاں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ شہنشاہ اکبر کی وفات سن 1605ء میں ہوئی تو اس کا بیٹا جہانگیر ''نور الدین جہانگیر‘‘ کے لقب کے ساتھ تخت نشیں ہوا کیونکہ شہنشاہ اکبر کے2بیٹے مراد اور دانیال پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ جہانگیر 20 ستمبر 1569ء کو فتح پور سیکری میں پیدا ہوا، تخت نشین ہونے کے بعد اس نے کئی اصلاحات کیں۔ فریادیوں کی داد رسی کے لیے اپنے محل کی دیوار کے ساتھ ایک زنجیر لگوا دی جسے'' زنجیرِ عدل‘‘ کہا جاتا تھا۔ یہ زنجیر عدل بہت مشہور ہوئی جس کے ذریعے ہر کوئی اپنی شکایت بآسانی بادشاہ تک پہنچا سکتا تھا۔ یہ زنجیر 30 گز طویل تھی اور اس کے ساتھ سونے کی60 گھنٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس کو بادشاہ کے ذاتی کمروں میں موجود طلائی گھنٹیوں کے ایک جھرمٹ سے وابستہ کیا گیا تھا۔ شہنشاہ جہانگیر نے حکم دیا کہ شاہراہوں پر سرائے، کنویں اور مساجد تعمیر کی جائیں۔شہنشاہ جہانگیر کو بھی اپنے باپ اکبر کی طرح لاہور سے بہت زیادہ لگائو تھا اس نے 1622ء میں لاہور کو دارالسلطنت بنا لیا۔ 1624ء میں جب کشمیر کے سفر کے دوران اس کی وفات ہوئی تو اس نے وفات سے قبل لاہور میں دفن کیے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی چنانچہ اسے چہیتی بیگم ملکہ نور جہاں کے باغ دلکشا میں دفن کیا گیا۔ شاہ جہاں نے مقبرے کی تعمیر پر10 لاکھ روپے خرچ کیے تھے اور اخراجات کیلئے جاگیر مقرر کی گئی تھی۔ قرآن پاک پڑھنے کیلئے حفاظ مقرر کئے گئے جو باری باری ہر وقت مزار پر قرآن مجید پڑھا کرتے تھے، یہ سلسلہ سکھوں کے عہد حکومت میں ختم کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کی حدود میں ملکہ نور جہاں نے ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کروائی تھی۔ یہاں نور جہاں نے کافی عرصہ رہائش بھی اختیار کی اس لیے یہاں رہائشی عمارات بھی تعمیر کی گئی تھیں۔ ملکہ نور جہاں اور شہنشاہ جہانگیر کے مقبرے ایک ہی رقبے میں تھے لیکن جب انگریزوں نے ان کے درمیان ریلوے لائن بچھائی تو مقبرہ جہانگیر اور مقبرہ نور جہاں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا گیا۔مقبرہ جہانگیر کے چاروں کونوں پر خوبصورت مینار موجود ہیں ہر مینار100 فٹ بلند ہے اور اس کی61 سیڑھیاں ہیں۔ مقبرے کی عمارت ایک مربع نما چبوترے پر ہے۔ قبر کا تعویذ سنگ مرمر کا ہے اور اس پر عقیق، لاجورد، نیلم، مرجان اور دیگر قیمتی پتھروں سے گلکاری کی گئی ہے۔ دائیں اور بائیں اللہ تعالیٰ کے99 نام کندہ ہیں، سرہانے کی طرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی ہوئی ہے، پائنتی کی طرف یہ تحریر درج ہے ''مرقد منور اعلیٰ حضرت غفران پناہ نور الدین جہانگیر بادشاہ 1036 ہجری‘‘۔مزار کے چاروں جانب سنگ مرمر کی جالیاں لگی ہوئی ہیں جو سخت گرم موسم میں بھی ہال کو موسم کی حدت سے محفوظ رکھتی ہیں۔ مقبرے کا اندرونی فرش سنگ مرمر، سنگ موسیٰ اور سنگ ابری جیسے مختلف قیمتی پتھروں سے مزین ہے۔باغ دلکشا کے اندر پختہ روشیں اور راہداریاں موجود ہیں۔ مقبرہ ٔجہانگیر کا غربی دروازہ جس میں سے ہاتھی بمعہ سوار کے گزر سکتا تھا اور چار دیواری کے باہر جو 4 بہت بڑے کنویں تھے دریا برد ہو چکے ہیں صرف ایک کنواں اب بھی موجود ہے۔ باغ کے اندر آج بھی کھجور کے قدیم درخت موجود ہیں۔ باغ کی دیواروں کے ساتھ کمروں کی ایک لمبی قطار موجود ہے جہاں شاہی محافظ، سپاہی اور خدام رہا کرتے تھے۔ مقبرہ ہشت پہلو اور اندر سے گنبد نما ہے۔ مقبرہ کے میناروں سے لاہور شہر کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔شہنشاہ جہانگیر مصوری اور فنون لطیفہ کا بہت شوق رکھتا تھا اس نے اپنے حالات اپنی کتاب ''تزک جہانگیری‘‘ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ اس کتاب میں شہنشاہ جہانگیر اور ملکہ نور جہاں کے عشق و محبت کے دلچسپ قصے بھی درج ہیں۔نادر شاہ اور احمد شاہ کے حملوں اور سکھوں کے دور میں مقبرہ جہانگیر کو بہت نقصان پہنچا۔ سنگ مرمر کی جالیاں اور قیمتی پتھر اکھاڑ لیے گئے اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی بڑی شان و شوکت کے ساتھ کھڑی ہے اور عہدِ رفتہ کی یاد دلاتی ہے۔ 

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

فیملی ڈاکٹر کا انتخاب کیسے کریں؟

آپ کا معالج ایسا شخص ہونا چاہیے جس سے آپ مانوس ہوں جس کو آپ کے مسائل سے دلچسپی ہو اور جو اس بات کو پسند کرتا اور ہمت افزائی کرتا ہو کہ آپ اپنی صحت اور اس سے متعلقہ معاملات سے اس کو پور ی طرح باخبر رکھیں۔وہ نہ صرف آپ سے واقف ہو بلکہ دیگر اہل خاندان سے بھی شناسائی رکھتا ہو اور اسے آپ کے خاندانی پس منظر سے آگاہی ہو کہ وراثت میں کونسی بیماریاں رہی ہیں اور فیملی کے افراد کن بیماریوں میں مبتلا رہ چکے ہیں ۔ اس کو آپ کی بیماریوں کا بھی علم ہو اور آپ کی آئندہ مصروفیات زندگی سے بھی وہ باخبر ہو تاکہ درست انداز میں تشخیص کرسکے۔ صرف اسی طرح کی معلومات سے ہی وہ آپ کو آپ کے طرز زندگی سے متعلق مشورے دے سکتا ہے اور آپ کے مسائل صحت کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ایک اچھے ڈاکٹر میں 3 خصوصیات ہونی چاہییں، اول تعلیم و تربیت، دوم کردار اور سوم مریض سے دلچسپی و ہمدردی۔ ۔۔فیملی ڈاکٹر کے انتخاب کے ضمن میں اس کی مہارت تو از حد ضروری ہے تاکہ وہ مرض کی درست تشخیص کرسکے اور درست طریقہ علاج تجویز کرے۔ اچھا ڈاکٹر وہ ہے جسے آپ کی فیس سے زیادہ آپ کی خیرو عافیت میں دلچسپی ہونی چاہیے ۔ اسے اس قدر ایماندار ضرور ہونا چاہیے کہ جب اسے محسوس ہو کہ مرض کے ضمن میں آپ کو کسی ماہر کے پاس بھیجنا ضروری ہے تو وہ کوئی تامل نہ کرے۔ مریض سے ہمدردی ڈاکٹر کی اپنی شخصیت اور مزاج پر بھی منحصر ہوتی ہے ، کچھ ڈاکٹر بہت خداترس ہوتے ہیں اور کچھ مریض میں زیادہ دلچسپی بھی نہیں لیتے۔ مریض کی ڈھارس بندھانے سے مریض کافی حد تک مطمئن ہوجاتا ہے ، علاج اپنی جگہ ایک حیثیت رکھتا ہے لیکن مریض کی ڈھارس اور قوت مدافعت بڑھانے سے جلد صحت یابی کی طرف گامزن ہواجاسکتا ہے ۔ اسے چاہیے کہ وہ نہایت صبر و سکون سے آپ کی بات سنے۔اس کے پاس وقت ہو تاکہ وہ آپ کے تمام سوالات کے جوابات دے سکے۔ معائنے جو ضروری ہوں وہ کرے اور احتیاط بتائے ، یہ وہ باتیں ہیں جو صحت برقرار رکھنے یا زائل شدہ صحت کی بحالی کیلئے ضروری ہیںایک عام آدمی کو معالج سے متعلق یہ اندازہ لگانے کیلئے کہ وہ پیشہ ورانہ لحاظ سے جامع ، قابل اعتماد ہے اور اپنا کام جانتا ہے ، چند باتیں جاننی بہت ضروری ہیں ۔اول یہ کہ پہلی ملاقات پر وہ مریض کی مفصل روداد سنتا ہے اور مریض سے اس کی ولادت، بلکہ قبل از ولادت کے تمام واقعات معلوم کرتا ہے اور ان واقعات کا موجودہ صحت سے تعلق معلوم کرتا ہے ۔ پھر ان سب معلومات کو ایک دستاویز کی صورت میں اپنے کلینک رکھتا ہے ۔ دوم یہ کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں تفصیلی معائنہ کرتا ہے ۔ ان تفصیلی معائنوں میں جسم کے تمام اعضا ء کا معائنہ اور لیبارٹری ٹیسٹ بھی شامل ہیں جن کی ابتدائی معائنے کے بعد ضرورت پڑتی ہے۔ ایک تجربہ کار ڈاکٹر صرف مریض کی ان شکایات پر ہی اپنے علاج کی بنیاد نہیں رکھتا جو مریض اسے سناتا ہے بلکہ وہ اصل مرض کی پوری تشخیص کیلئے اپنی بھرپور کوشش کرتا ہے ۔اپنے ڈاکٹر کا انتخاب کرنے سے قبل ان باتوں پر توجہ ضرور کریں۔اپنے محلے یا علاقے میں جو ہسپتال اچھی شہرت رکھتا ہے یا معیار کا ہے وہاں کے استقبالئے سے رابطہ کرکے ڈاکٹر کے حوالے سے معلومات حاصل کریں۔اچھے ڈاکٹر کے بارے میں اپنے محلے یا علاقے کے افراد سے بھی بات کریں۔ ہسپتال سے ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ اہلیت اور قابلیت سے متعلق بھی اطمینان کرلیں۔ اگر وہ مزاجاً آپ سے مطابقت رکھتا ہے تو اس کا انتخاب کرلیں۔ آخر میں اس ڈاکٹر سے یہ معلوم کرلیں کہ رات کو ہنگامی ضرورت کے وقت کیا طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔کیا وہ آسکتا ہے یا متبادل انتظام کرسکتا ہے ۔ آپ اپنے ڈاکٹر کو شروع میں ہی یہ بتادیں کہ تندرست رہنا چاہتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ مریض ہونے کے بعد ہی ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ صحت مند رہتے ہوئے بھی ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے کہ تندرست کس طرح رہا جاسکتا ہے ۔ یہ بات نہایت ضرور ی ہے کہ جب آپ ایک مرتبہ ڈاکٹر کا انتخاب کرلیں تو پھر اس پر اعتماد کریں اور اس کی ہدایات پر عمل کریں۔

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

ستاروں کے ذریعے راستہ تلاش کرنا

چمکتے ستاروں کو محو حیرت دیکھنا انسان کی ازل سے ہی فطرت ہے اور اسی فطرت نے اسے ستاروں کے علوم حاصل کرنے کی طرف رغبت دلائی اور اس نے گہرے سمندروں میں راستہ ڈھونڈنے کیلئے ستاروں کا سہارا لیا اور ماڈرن دنیا کے جدید آلات آنے سے ہزاروں سال پہلے بحری جہاز بان اپنی سمت کا تعین اور راستہ تلاش کرنے کیلئے ستاروں سے مدد لیتے تھے۔ ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کے چند بنیادی اصول بیان کئے گئے ہیں۔ستاروں کے 6 بنیادی گروپ:اجرام فلکی سے راستہ معلوم کرنے کیلئے 6 بنیادی ستاروں کے گروہوں کا پتہ ہونا ضروری ہے ان گروہوں میں ستارے ایک خاص ترتیب سے چمکتے ہیں اور زمین جیسے جیسے سْورج کے گرد گھومتی ہے یہ آسمان پر اپنی پوزیشن بدلتے ہیں اور ان گروہوں میں 6 اہم گروہ ہیں ۔1۔گریٹ بیئر:اردو میں اسے دُب اکبر کہتے ہیں اور انگلش میں اسے گریٹ بیئر کہا جاتا ہے، یہ 7 ستاروں کا ایک گروہ ہے جو آسمان پر جنوب کی طرف آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اس گروہ کو جنوب کی سمت کا تعین کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔2۔ ارسا مائین:ارسا مائینر کو اردو میں دُب اصغر کہا جاتا ہے اور انگلش میں اسے لیٹل بیئر کہا جاتا ہے، دب اصغر ستاروں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے انتہائی اہم گروہ ہے کیونکہ اسکے کنارے پر نارتھ ستارہ موجود ہے جو نارتھ کی سمت بتاتا ہے۔3۔ کیسیوپیا:کیسیوپیا 5 ستاروں کا گروہ ہے جو ٹیڑھے ڈبلیو کی شکل میں آسمان پر دکھائی دیتے ہیں اور اگر دب اکبر کے ستارے نظر نہ آرہے ہوں تو کیسیوپیا کے گروہ سے نارتھ کی پوزیشن معلوم کی جاتی ہے۔4۔ اورین:ستاروں کا یہ گروہ صدیوں سے راستہ معلوم کرنے کیلئے استعمال ہوتا آ رہا ہے اور جہاں جدید آلات کام کرنا بند کر دیں وہاں اورین سٹارز راستہ بتانے میں مدد کرتے ہیں، یہ گروہ ہنٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ ناردن نصف کرہ کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔5۔ کرکس:ان ستاروں کو ساؤدرن کراس بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ نصف کرہ پر سائوتھ کی طرف واضح دکھائی دیتے ہیں جس سے سائوتھ کی سمت کا تعین کیا جاسکتا ہے۔6۔ سینچورس:یہ ستاروں کا ایک بہت بڑا جھرمٹ ہے جو آسمان پر سائوتھ کی طرف دکھائی دیتا ہے اور ساودرن کراس کے ساتھ یہ سائوتھ کی صحیح سمت کا تعین کرنے میں مددکرتا ہے۔نارتھ سٹار کی تلاش:نارتھ سٹار کو پولیرس بھی کہتے ہیں اور اگر دب اکبر اور دب اصغر صاف دکھائی دے رہے ہیں تو اسے تلاش کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کیونکہ یہ دونوں کے درمیان چمکتا ہے اور اسے ڈھونڈ لینے کے بعد چاروں سمتوں کا تعین کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ اس سے نارتھ کی صحیح پوزیشن کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اگر دب اکبر دکھائی نہ دے رہا ہو مدہم ہو یا ہوریزن میں چھپ گیا ہوتو نارتھ سٹار کا پتہ5 ستاروں کے گروہ کیسیوپیا سے لگایا جاتا ہے یہ گروہ دب اکبر کے بالکل مخالف سمت پر دب اکبر کے مدہم ہونے کی صورت میں واضح نظر آتا ہے اور کیسیوپیا کے درمیان والے ستارے سے ایک سیدھی لائن دب اکبر کے کنارے والے ستارے تک کھینچی جائے تو درمیان میں نارتھ سٹار مل جائے گا اور جب یہ مل جائے تو نظر کو سیدھے اسے کے نیچے ھوریزن پر لیکر آئیں اور نارتھ کو پوائنٹ کر لیں۔نارتھ مل جائے تو باقی تینوں سمتوں کو ڈھونڈنا آسان ہو جاتا ہے۔طول یعنی Latitude جاننے کا طریقہ پرانے زمانے میں جہاز بان اپنے طول جاننے کیلئے نارتھ سٹار ڈھونڈتے تھے اور پھر آسمان پر اس کی بلندی سے طول کا اندازہ لگایا جاتا تھا اس کیلئے سیکسٹینٹ وغیرہ جیسے ٹول استعمال کیے جاتے تھے۔عرض یعنی LONGITUDE جاننا:سمتوں کا تعین ہونے کے بعد اور طول جاننے کے بعد پرانے جہاز بان جب تک عرض کا حساب نہیں لگاتے تھے تب تک ان کا راستہ تلاش کرنے کا کام ادھورا رہتا تھا اور عرض کا حساب صرف ستاروں سے لگانا انتہائی مْشکل کام ہے اور جہاز بان عام طور پر عرض کا حساب ستاروں کے طلوع اور غروب کی پوزیشن سے لگایا کرتے تھے جس سے ان کو ایک اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہ منزل سے کتنی دور ہیں۔