نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- لاہور:سعودی عرب کی جیلوں سےرہائی پانے والے 28 قیدی وطن پہنچ گئے
  • بریکنگ :- رہائی پانے والےقیدیوں میں سے19 سرکاری اخراجات اور9 ذاتی خرچ پر لاہور پہنچے
  • بریکنگ :- لاہور: وطن پہنچنے والے قیدیوں کا استقبال وزیرمملکت فرخ حبیب نے کیا
Coronavirus Updates

ابانت۔۔۔ترکی کی خوبصورت جھیل

ابانت۔۔۔ترکی کی خوبصورت جھیل

اسپیشل فیچر

تحریر : رانا حیات


مشرق ِ وسطیٰ کے ممالک کے اکثر لوگ سیرو سیاحت کے لیے ترک علاقے ابانت کا رخ کرتے ہیں۔مشرق وسطیٰ کی 52 ٹریول ایجنسیوں کے نمائندے اپنے گاہکوں کے لیے سیر و سیاحت کے مقامات کا تعین کرنے کے لئے ابانت آتے ہیں۔لبنانی ٹورزم فرم آریہ الا سعید نے لبنان میں ترکی کو بہت پسند کیے جانے والی سرزمین قرار دیا ہے۔لبنانی سیاح نئی منزل ابانت کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہاں کی قدرتی خوبصورتی بڑی دلفریب ہے۔
ابانت ترکی کے بولو صوبے میں میٹھے پانی کی ایک خوبصورت جھیل ہے جو ہفتے کے آخر میں سیاحوں کی من پسند منزل بن چکی ہے جہاں زائرین کچھ زیادہ وقت نکال کر فطرت میں غرق ہوسکتے ہیں۔ لمبی سیر سے لے کر گھوڑوں کی دوڑ تک سے لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔
ایک زبردست تودہ گرنے کی وجہ سے بننے والی ، بڑی اور پْرامن جھیل ابانت گھنے جنگلات سے گھری ہوئی ہے ۔ جس میں بہت سے درختوں کی اقسام شامل ہیں جن میں یورپی سیاہ پائن ، ہارن بیامز ، ہیزلز ، پائن اور شاہ بلوط کے درخت شامل ہیں۔ بہت سارے جنگلی جانور بھی اس علاقے کو اپنا گھر بنائے ہوئے ہیں۔ ہرن سے لے کر بھورے ریچھ ، سرخ لومڑیوں سے خرگوش ، اور ابینٹ ٹراؤٹ (جو کہیں بھی نہیں ملتا ہے) تک یہاں موجود ہیں۔ جھیل ابانت ایک حقیقی نوعیت کا پارک ہے جہاں جانور آزادانہ طور پر گھومتے ہیں۔ قریب کے چھوٹے شہر مدورنو میں بہت سارے گیسٹ ہاؤسز موجود ہیں ، لیکن پانی کے کنارے واقع فائیو اسٹار بیئک ابانت ہوٹل یقینی طور پر سب سے مقبول ترجیح ہے۔
بہت سی سرگرمیاں ہیں جن میں ابانت میں سیاح حصہ لے سکتے ہیں ، جو اس کی سب سے پرکشش خصوصیات میں سے ایک ہے۔ آس پاس کے ماحول اور تازہ ہوا کی داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ جھیل کا پہلا اور سب سے لمباتجربہ چہل قدمی ہے۔ ان لوگوں کے لئے جو قدرے زیادہ سرگرم ہوتے ہیں ، ٹریکنگ راستے جو اونچائی تک سینکڑوں میٹر تک جاتے ہیں وہ واقعی فطرت کے بیچ ایک زبردست ورزش حاصل کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ جب آپ تھک جاتے ہیں تو ، آپ کسی درخت کے سائے کے نیچے بیٹھ کر قدرت کا نظارہ کرسکتے ہیں۔
ابانت کے آس پاس آپ کو ایسے گھوڑے بھی نظر آئیں گے جو جھیل کے آس پاس سفر کرنے کے انوکھے طریقے لئے ہوئے ہیں۔ چاہے آپ گھوڑے کی سواری سے واقف ہوں یا نہ ہوں ، قدرتی زمین کی تزئین سے اپنے راستے پر سوار ہونا یقینا ایک بہت اچھا تجربہ ہوتا ہے۔ ابانت جھیل کے آس پاس گھوڑوں کی تیار کردہ چھوٹی چھوٹی گاڑیوں (جسے فائٹن کہا جاتا ہے) کے ساتھ ٹور بھی کیا جاسکتا ہے ، جو 30 منٹ تک رہتا ہے ۔سردیوں میں ، جھیل ابانت مکمل طور پر منجمد ہوجاتی ہے لہٰذا کشتی کا کرایہ صرف گرم موسموں میں ہی دستیاب ہوتا ہے۔پانی کے کنارے واقع بہت سارے ریستورانوں میں آپ کچھ تازہ سمندری غذا کھا سکتے ہیں۔ سردیوں میں ، ریستوران اور کیفے اپنے آتش گیر مقامات کا تعین بھی کرتے ہیں ، لہٰذا اگر آپ موسم سرما میں ابانت جھیل پر جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ لکڑیوں کی جلی ہوئی آگ یا آتش دان سے بھی محظوظ ہوسکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

قصہ مسلمانوں کے وفد کی لارڈ منٹو سے ملاقات کا

محمڈ ن ایجوکیشنل کانفرنس ڈھاکہ کے بعدہند کے مسلمانوں کے زعماء کی ایک سپیشل میٹنگ منعقد کی گئی تاکہ ہند کے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کی تشکیل ہو سکے۔ نواب وقار الملک نے صدارت فرمائی اور اُردو ز بان میں تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:''وقت اور حالات نے ہمارے لیے اب ضروری کر دیا ہے کہ ہند کی مسلم قوم ایک ایسوسی ایشن کی تشکیل کے لیے اکٹھی ہو جائے، تاکہ اُن کی اپنی ایک آواز ہو اور سُنی بھی جائے۔ بلکہ اِس آرگنائزیشن کا اِتنا جلال ہو کہ سمندر پار تک مسلمانوں کے مطالبات سنُے جائیں۔‘‘نواب آف ڈھاکہ نے کہا کہ حالات نے ہمیں اب مجبور کر دیا ہے کہ ہماری ایک تحریک یا پلیٹ فارم ہو کیونکہ اب تک انگلستان والوں کو مسلمانانِ ہند کے مسائل اور ناانصافیوں کی خبر نہیں کیونکہ اب تک انڈیا کے سیاسی مشاہیر یہ ہی کہتے چلے آرہے ہیںکہ اُن کی سیاسی جماعت (کانگریس)مسلمانوں کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اصلی مسائل نہ تو سمجھے گئے ،نہ پیش کیے گئے اور اب اُن ہی لوگوں کی بات سُنی جاتی ہے جو سیاسی پلیٹ فارم سے اُونچی آواز میں بولتے ہیں۔ لہٰذا مسلمان مجبوراً پیچھے رہ گئے۔ اپنے تمدّنی وقار اور فطرت پر ڈٹے رہے اور موقع پرست آگے بڑھ گئے اور دوسری قومیں اپنے مقاصد کی خاطر آگے بڑھ گئیں۔اس سے قبل یکم اکتوبر1906 ء کو 35 مضبوط ترین مسلم شرکاء کے وفد نے وائسرائے ہند لارڈ منٹو کیساتھ آغا خان کی سربراہی میں شملہ میںملاقات کی اور مسلمانانِ ہند کی جانب سے وائسرائے ہند کو خطاب کیا اور اپنے مطالبات پیش کیے ۔اِس وفد میں35ممبران تھے۔ بنگال صوبہ سے 5نمائندہ تھے۔ ایک نمائندہ آسام مشرقی بنگال سے تھا۔ اِن میں :1۔صاحبزادہ بختیار شاہ سربراہ میسور نواب فیملی2۔نواب بہادر سعید امیر حسین خان آف کلکتہ بنگال3۔نصیر حسین خیال کلکتہ بنگال4۔خان بہادر مرزا شجاعت علی کونسل جنرل مرشدآباد5۔عبدالرحیم بار ایٹ لاء کلکتہ6۔خان بہادر سید نواب علی چوہدری میمنمسلمانوں کے نمائندگان نے تحریری خطاب میں ہند کے مسلمانوں کے تمام سیاسی معاملات واضح کیے۔ مسلمانوں کے سماجی حقوق مثلاًسرکار ی دفاتر میں ملازمت مسلمانوں کے لیے بند تھی۔ اِسی طرح صوبائی سطح اور مرکز میں یونیورسٹی نہیں،میونسپل کمیٹی میں مسلمانوں کے راستے بند تھے۔مسلمانوں کی نہ تو کسِی بورڈ میں نمائندگی تھی اور نہ کسی یونیورسٹی ،سینٹ میں حصہ تھانہ ہی وائسرائے کونسل میں مسلمانوںکی شمولیت تھی اور خاص کر مشرقی بنگال آسام میں تو کیفیت 1905 ء کی تقسیم بنگال کے بعد مزید خراب ہو گئی اور مسلمانوں کے ساتھ ،برتائو غیرمناسب ، متصبانہ اور تفریق والا تھا۔خطاب کے دوران وضاحت کی گئی کہ جن ضلعوں یا صوبوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ۔ اُن علاقوں کے مسلمانوں کیساتھ حکومت کابرتائو اور سلوک مناسب نہیں ہے اور کانگریس لیڈروں کارویہّ غیر منصفانہ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ہر لحاظ سے پیچھے رکھا جا رہا ہے۔ اِسی طرح صوبہ سندھ اور پنجاب کاحال ہے۔مسلمانوں کے اِس اجلاس میں نواب سلیم اللہ خان اور سید نواب علی چوہدری تقسیم بنگال کے معاملے میں بضد تھے کہ اِس خطاب کی تحریر میں یہ بھی درج کیا جائے کہ مسلم آف بنگال کی بڑی خواہش ہے کہ تقسیم بنگال کو پروان چڑھایا جائے۔ لیکن پنجاب سے میاں محمد شفیع اور میاں شاہ دین اِس معاملہ کے حق میں نہ ہو سکے۔ لہٰذا خطاب میں بنگال کی تقسیم کا مسئلہ شامل نہ ہو سکا۔نواب محسن الملک بھی ہندوئوں کی مسلمانوں کے خلاف سرگرمیوں کے حق میں نہ تھے کہ اس سے مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب وفد تیار ہواتونواب سر سلیم اللہ خان جونواب سراسد اللہ خان کے فرزند ارجمند تھے اپنے باپ کی وفات1901 ء کے بعد نواب ہوئے اور 1903 ء میں نواب بہادر بنے وہ وفد میں شامل نہ ہوئے۔ سرسلطان آغا خان سوئم نے وفد کی قیادت کی۔جب یہ وفد شملہ میں منٹو وائسرائے ہند سے ملاِتووفد کو وائسرائے نے یقین دلایا کہ مسلمانوں کے مسائل کو ہمدردی سے سُنا جائے گا اور اُن کی جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔4 اکتوبر1906 ء کو وائسرائے ہند لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو لندن میں وفد کے بارے میں آگاہ کیااور تفصیلات کے ساتھ اسلامیان ہند کے مسائل اوردیگر سیاسی حالات سے آگاہ کیا۔ مورلے نے منٹو کی تجاویز اور سفارش کوپسندیدگی کی نظر سے دیکھا اور لارڈ منٹو کی تعریف کی کہ آپ نے ایک نازک مسئلہ کو نہایت ذہانت اور قابلیت سے حل کیا۔لارڈ منٹو نے تمام35 بڑی شخصیتوں کا جائزہ لیا اور حکومت برطانیہ کی کوتاہیوں اور کانگریس کی پوشیدہ گمراہیوں سے آگاہی حاصل کی ۔کیونکہ خطاب میں نہایت استدلال اور عالمگیر قانون کا حوالہ دیا گیاتھا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے مطالبات کے تاثرات نے وائسرائے کا ذہن پوری طرح سے صاف کر دیا ۔ لارڈ منٹو نے لارڈ مورلے کو واضح طور پر اطلاع کی:''ہند کے مسلمانوں کا وفد آیا اُن کی تکالیف ، شکایات جائز ہیں۔ غور طلب ہیں ۔ اُن کا ازالہ کرنا ضروری ہے اور حکومت برطانیہ کی جانب سے اُن کو حوصلہ اور تسلّی دی گئی ہے۔‘‘گویا نواب محسن الملک نے مسلمانانِ ہند کی پوری ترجمانی کی ۔ہند کے مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں صاف ستھری اپیل پیش کی گئی اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اس کا جواب لارڈ منٹو نے دیا۔اِس ملاقات کا بڑا اہم نتیجہ مسلم لیگ کی تخلیق کی صورت میں برآمد ہوا۔ مسلمانوں کو حوصلہ میسّر آیا اور اُن میں خود اعتمادی کی لہرپیدا ہوئی کہ ان کی شکایات اور باتیں اچھی طرح سنی جا سکتی ہیں۔اگر ہم کسی مقام پر کھڑے ہو جائیںاور30 دسمبر 1906ء کا تاریخی دن ہمیں تمام معاملات کی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح اِس تنظیم نے محنت کی اور جُدا ملک حاصل کیا۔ مسلم لیگ کی تشکیل میں بنگال کے مسلمانوں کا بڑا کردار رہا اور سب سے زیادہ خلوص نواب سرسلیم اللہ خان آف ڈھاکہ کی طرف سے رہا۔(جاری ہے)(کتاب ''مسلم لیگ اورتحریک پاکستان‘‘ سے اقتباس)اس سے قبل نواب سرسلیم اللہ خان نے آل انڈیا محمڈن کنفیڈریشن کی سکیم تیار کی اور مسلمانوں کے اہم لیڈرز اورجماعتوں کو ارسال کی۔ اس کا مقصد ایک ہی تھا کہ ہند کے مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جائے اورانڈین نیشنل کانگریس کے بڑھتے ہوئے اثر سے مسلمانوں کو بچایا جائے اور نوجوان مسلم نسل کے لیے مواقع پیدا کیے جائیں کہ جو سیاست میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیںایک سیاسی پلیٹ فارم پر ہی وہ ا پنامافی الضمیر بیان کر سکیں گے۔ اگر مسلم قوم کا کوئی سیاسی موثر پلیٹ فارم نہ ہوا تو مسلمان نوجوان کانگریس کی طرف رُخ کریں گے اور پھروہ برطانیہ کا آلہ کاربن کر رہ جائیں گے۔لہٰذا نواب سرسلیم اللہ خان نے مسلم زعماء کو ایک تحریر روانہ کی جس میں کنفیڈریسی (Confedracy) آف مسلم ڈھاکہ کی تشکیل کا ذکر تھا کہ محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد دسمبر1906 ء میں مسلمانوں کے لیے ایک سیاسی پلیٹ فارم تیار ہونا چاہیئے۔ وہ تقسیم بنگال کے بڑے حامی تھے اور مشرقی بنگال کو مسلم بنگال بنانا چاہتے تھے۔ اُن کی سعی جمیلہ سے ڈھاکہ یونیورسٹی کا اعلان 1911ء دہلی دربار میں ہوا تھا۔نواب سلیم اللہ خان نے اپنے رفقاء کی مدد سے کنفیڈریسی آف مسلم ڈھاکہ کے حوالے سے اس میں کافی تبدیلیاں لائی گئیں۔ تاہم مسلم کنفیڈریسی کی رُوح اور مقصد کی تعریف کی گئی۔ نواب آف ڈھاکہ کا مسلمانوں کی اِس سیاسی جماعت کی تشکیل میں بڑ ا حصہ تھا کہ ہند کے اتنے بڑے زعماء کو ڈھاکہ میں مدعو کرنے کا اہتمام کیا تاکہ مسلمانوں کے لیے ایک بااثر سیاسی پلیٹ فارم مضبوط بنیادوں پر مہیا کیاجائے۔اس طرح آل انڈیامسلم لیگ کی بنیاد30 دسمبر1906 ء میں سرنواب سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پررکھی گئی اور محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے بعد نواب وقار الملک کی صدارت میں سیاسی تنظیم کے بنانے کا فیصلہ ہوااور مسلم لیگ کی تشکیل پر اتفاق رائے ہوا۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے مقاصد میں سے اوّلین مسلمانوں کے لیے مذہب میں آزادی اور مذہب کی مذہبی ترقی و تشریح تھی۔اخلاقی قدروں کی تقویت سیاسی اور مالی حالات کے پیش نظر اخلاقی قدرو ں کے استحکام پر تبدیلی کا اظہار کیا گیا۔ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اچھے ،مناسب تعلقات ،پرُ امن زندگی اور برطانوی حکومت کی رضامندی کو شامل کیاگیااور پہلے ریزولیشن میں صاف صاف تحریر کیا گیا کہ مسلمانوں کی ترقی اور فوائد کے لیے جماعت تشکیل دی گئی ہے۔ قرارد اد میں ظاہر کیا گیا کہ یہ مسلمانانِ ہند کی میٹنگ جو ڈھاکہ میں 30 دسمبر1906 ء کو منعقد ہوئی ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ ہند کے مسلمانوں کی رہنمائی اور حفاظت کے لیے ایک سیاسی ایسوسی ایشن آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے معرضِ وجود میں آگئی ہے۔جس کے فی الحال یہ مقاصد ہوں گے:1۔اسلامیانِ ہند کی طرف سے برٹش حکومت کے لیے اچھے فرمانبرداری جذبات و واقعات ہوں گے۔ یہ اس لیے کیا گیاکہ نئی تنظیم سے حکومت برطانیہ کو غلط فہمی میسّر نہ آ جائے۔2۔ہند کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق اور مسائل کی حفاظت کرنا اور حکومت برطانیہ کو آگاہ کرنا ۔3۔ مسلمانوں کے تعلقات دوسری تحریکوں کے ساتھ استوار کرنا،یہ لیگ کے مقاصد تھے۔آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں سر سلیم اللہ خان کی رہائش گاہ پر30دسمبر1906 ء کو رکھی گئی اور دو ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی بشمول نواب وقار الملک اور نواب محسن الملک تشکیل دی گئی تاکہ لیگ کا آئین تیار کیا جائے جو آئندہ کراچی کے سیشن میں پیش کیا جائے۔ لہٰذا کمیٹی کی رپورٹس اور کارکردگی 29 دسمبر1907 ء کو لیگ کے سیشن میں پیش کی گئیں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے عہدیداروں کا انتخاب مارچ1908 ء میں لکھنؤ میں ہوا۔اِسی اثناء میں بنگالی بیرسٹر امیر علی نے جو لندن میں سکونت اختیار کر چکے تھے، لندن برانچ آف آل انڈیا مسلم لیگ تخلیق کی۔ اس کی افتتاحی تقریب Caxton ہال لندن ویسٹ منسٹر6 مئی1908 ء کو ہوئی ۔ جسٹس امیر علی لندن میں اس کے صدر چُنے گئے۔ وہ واحد جوشیلے ،ذہین وکیل مسلمان تھے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیوں کا اظہار کُھل کر کیا۔ اس برانچ نے ہند کے مسلمانوں کے لیے کافی اچھے اثرات مرتب کیے اور یہاں سے علیٰحدگی کی تحریک کی ابتداء ہوئی اور کانگریس کی لیڈر شپ میں ڈر اور خوف مسلمانوں کی ایک علیحدہ سیاسی تنظیم کے وجود میں آنے سے پیدا ہونے لگا۔ کانگریس مسلمان لیڈر بھی مسلم لیگ کے نام،وجود،عمل،ترقی سے خوف کھانے لگے۔جسٹس امیر علی وہی تو تھے جنہوں نے سنٹر ل نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کلکتہ میں بنائی تھی اور تعلیمی اعتبار سے مسلمانوں میں شعور کو اُجاگر کیا۔ حسن علی آفندی آف کراچی کی امیر علی سے علیگڑھ میں ملاقات ہوئی اور حسن علی آفندی کو اپنی ایسوسی ایشن سندھ کراچی میں بنانے کی ترغیب دی۔ چنانچہ حسن علی آفندی نے نیشنل محمڈن ایسوسی ایشن کراچی بنائی۔ خود صدر چُنے گئے۔ آپ نے سندھ مدرسۃ الاسلام کی بنیاد رکھی اور اِسی سندھ مدرستہ الاسلام سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒنے تعلیم حاصل کی۔ گویا نواب سرسلیم اللہ خان ، میاں عبدالطیف اور جسٹس امیر علی بنگال صوبہ کے ایسے نامورشاہین ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بہت کچھ کیا ۔ سرسید احمد خان نے بھی مردانہ وار تعلیم کے میدان میں جنگ لڑی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے 10 اکتوبر1913 ء کو مسلم لیگ میں شمولیت حاصل کی اور1923 ء کو کانگریس سے علیٰحدگی اختیار کی۔ علامہ اقبال ؒ کا الہٰ آباد کا خطبہ 1930 ء کا بھی آزاد مملکت حاصل کرنے میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔کتاب ''مسلم لیگ اور تحریکِ پاکستان ‘‘ سے اقتباس  (بقیہ اگلے ڈائجسٹ میں یوم آزادی کے حوالے سے لگا نا ہے) 

دنیا کا پہلا ریڈیو براڈکاسٹر

دنیا کا پہلا ریڈیو براڈکاسٹر

ریجنالڈ فیسینڈین کا تعلق برمودا سے تھا۔ ریجنالڈ کی وجہ شہرت دنیا کے پہلے ریڈیو براڈکاسٹر کی حیثیت سے جانی جاتی ہے۔ ریجنالڈ کو یہ اعزاز 1900 میں ریڈیو کے ذریعے کامیابی سے پہلا صوتی پیغام منتقل کرنے اور 1906 میں براڈکاسٹنگ کی دنیا کا پہلا باقاعدہ براڈکاسٹر مقرر ہونے پر دیا گیا۔ریجنالڈ جب ہائی سکول کا طالب علم تھا تو ایک دن اس کے سائنس کے ٹیچر نے اسے کہا کہ تم نے کیاسوچ کے سائنس کے مضامین کا انتخاب کیا ہے، میرے خیال میں تم سے مضامین کے چناؤ میں غلطی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کہ ریجنالڈ اپنے ٹیچر کے سوال کا جواب دیتا، ٹیچر نے نہ جانے کیا سوچ کے طنز کرتے ہوئے ایک اورسوال کر ڈالا کیا تم سائنسدان بننا چاہتے ہو؟ریجنالڈ جو بنیادی طور پر کم گو اور حساس طبیعت کا مالک تھا بولا''جی ہاں سر آپ نے صحیح سوچا ہے میں ایک سائنس دان بننا چاہتا ہوں۔میں کچھ نیا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔اس جواب پر نہ صرف ٹیچر ہنس دیا بلکہ پوری کلاس میں قہقہے گونج اٹھے۔ریجنالڈ جو تھامس ایڈیسن سے حد درجہ متاثر تھا اور اس نے اسے اپنا آئیڈیل بنا رکھا تھا تک کسی نہ کسی طور رسائی چاہتا تھا۔چنانچہ اس نے سکول کی ملازمت سے علیحدگی اختیار کر لی۔تھامس ایڈیسن بارے لوگ محض اتنا جانتے ہیں کہ یہ برقی قمقمے یعنی الیکٹرک بلب کا موجد ہے جبکہ الیکٹرک بلب سے لیکر ٹیلی گرافک کے شعبے تک ایڈیسن کی ایجادات کی تعداد 1093 ہیں۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسکی تمام ترایجادات ''پیٹنٹ ‘‘ ہیں۔ ( پیٹنٹ بین الاقوامی طور پر موجدوں کے تصورات اور کام کو تحفظ فراہم کرنے والے ان قوانین کا ایک حصہ ہے جنہیں املاک دانش یا آئی پی آر کہا جاتاہے)۔سکول کی ملازمت چھوڑنے کے بعد یہ تھامس ایڈیسن کے پاس ملازمت کا خواب دیکھتے دیکھتے نیویارک آن پہنچا۔ اس نے ابتدائی طور پرہر وہ حربہ استعمال کیا جو ایڈیسن کے ہاں ملازمت حاصل کرنے کے لئے کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اسے مسلسل مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ آخر اس نے ایڈیسن کے نام ایک خط لکھ ڈالا جس میں اس نے اس کے ساتھ بجلی کے شعبے میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس خط میں اس نے شروع ہی میں یہ لکھا کہ'' اگرچہ وہ سردست بجلی کے متعلق کچھ نہیں جانتا لیکن وہ یقین دلاتا ہے کہ یہ کام وہ جلد سیکھ جائے گا‘‘۔ابتدائی طور پر ایڈیسن نے اس کی درخواست کو رد کر دیا۔ لیکن ریجنالڈ نے ہمت نہ ہاری اور کچھ عرصہ بعد ''ایڈیسن مشین ورکس ‘‘ میں بطور ٹیسٹر خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ اسکی'' ایڈیسن نیٹ ورک ‘‘ میں داخلے کی بہت بڑی کامیابی تھی۔ریجنالڈ نے کچھ عرصے بعد کیمسٹ کے عہدے پر کام شروع کر دیا اور وقت نے ثابت کر دکھایا کہ ایڈیسن کا چناؤ صحیح تھا۔ریجنالڈ ایک بہترین کیمسٹ نکلا جو بجلی کی تاروں کی موصلیت کا کام کر رہا تھا۔ اس نے یہاں مسلسل تین سال تک کام کیاجس کے بعد اسے وہاں سے فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے نیو یارک میں ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کمپنی اور میسا چوسٹس میں اسٹینلے کمپنی میں کام کیا۔چونکہ ریجنالڈ پہ ہر وقت کچھ کرنے کی دھن سوار رہتی تھی اس لئے یہ ''ایڈیسن‘‘ چھوڑنے سے پہلے ہی ٹیلی فونک اور ٹیلی گرافک کے شعبے سمیت بہت ساری اپنی ایجادات کو پیٹنٹ کرا نے میں کامیاب ہو چکا تھا۔اس کی سب سے کامیاب ایجادات میں ''ریڈیو لہروں کی تشکیل اور'' ہیٹرو ڈین اصول‘‘کی ایجادات شامل تھیں۔ان ایجادات سے فضائی لہروں کے رستے میں مداخلت کے استقبال اور منتقلی کی راہیں کھل گئی ہیں۔ریجنالڈ نے 1900میں تاریخ کا پہلا صوتی پیغام فضا میں منتقل کیا۔ اس کے چھ سال بعد اس نے اپنی ہی اس ایجاد کو مزید بہتر بنا کے بحراو قیانوس کے ساحل سے بحری جہازوں کے ذریعے اپنے ٹرانس بحراوقیانوس کی آواز اور موسیقی کی نشریات نشر کرنے کے لئے اپنا سامان استعمال کیا۔ چنانچہ 1920تک ہرطرح کے جہازوں نے ریجنالڈ فیسینڈین کی'' گہرائی سے چلنے والی ٹیکنالوجی ‘‘ پر انحصار کرنا شروع کر دیا۔1929 میں اس نے جہاز کے اندر بیٹھ کر جہاز سے نیچے کی گہرائی ماپنے کا آلہ '' فیتھو میٹر‘‘ایجاد کر کے امریکن سائنس سوسائٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ریجنالڈ فیسنڈین نے اپنی ایجادات کی 500سے زائد پرپیٹنٹ حاصل کیا۔

زود ہضم غذائیں کھائیں

زود ہضم غذائیں کھائیں

موسم گرما میںبھوک مر جاتی ہے کچھ کھانے کو جی نہیں کرتا، دل چاہتا ہے کہ ٹھنڈا ٹھار پانی ہر وقت حلق سے نیچے اترتا رہے۔ صبح بھوک نہیںلگتی اس کمی کو رات کے کھانے میں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے نیند اڑ سکتی ہے۔ کیونکہ مرغن غذائوں سے خوب پیاس لگتی ہے جس سے رات کو بار بار آنکھ کھل سکتی ہے۔اس موسم میں خواتین کو کھانوں میں بھی معمولی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب زیادہ بھاری اورہضم نہ ہونے والی غذائوں سے گریز کرنا ہی بہتر رہے گا۔خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی پر نظر رکھناضروری ہے، ان کی مقدار ہرگز نہ بڑھنے پائے۔گرمیوں میں چکنائی میں متعدد اقسام کے بیکٹیریاز نہایت تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں۔اسی لئے بدہضمی کی شکایت عام رہتی ہے۔ لہٰذااس موسم میں غذائوں کوفرج میں رکھنے کی بجائے کسی غریب کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے استعمال کیجئے۔ خود بھی تازہ خوراک کھائیے اوربچ جانے والی تازہ خوراک اپنے ملازم یا کسی اور کو دے کر نیکیاں کمائیے ۔دلیہ ، مکئی ، چاول اس موسم گرما کی بہترین غذائوں میں شامل ہیں۔یہ غذائیں آسانی سے ہضم ہو جاتی ہیں، انہیں زود ہضم غذائیں بھی کہا جاتا ہے۔ناشتہ کیلئے ایسے مشروبات مفید رہیں گے ۔ آپ کو مائع سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دینا چاہئے۔ سبزیوں والی غذائیں بہتررہیں گی۔ خام یعنی کچی سبزیاں کھائی جا سکتی ہیں جن میں ٹماٹر، ککڑی ا ور کھیرا بھی شامل ہیں۔ ان میں پائی جانے والی سیال حیاتیات کی جسم کو ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر کے کھانے میں پتلی کٹی سبزیاں استعمال کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن ان میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار مناسب نہیں ہوتی۔ جس سے صحت پر اثر پڑ سکتا ہے لہٰذا کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں بھی لیجئے۔سلاد کی تیاری کرتے وقت مایئونیز کو کم سے کم استعمال کیجئے۔ اس کی جگہ زیتون کے تیل اور لیموںکے رس کو اہمیت دیجئے۔ناشتے میں آڑو، ناشپاتیاں، سیب ، سٹرابیری، راسبر ی کو اہمیت دیجئے۔ دود ھ کی مصنوعات ( مکھن، دہی گھر بنایا ہوا پنیر) کو استعمال کرنا چاہئے ۔یہ زود ہضم اور مکمل غذائیں ہیں ۔ تازہ لیموں کا رس، سبزیوں کو مزید زود ہضم بنا سکتا ہے۔اس موسم میں اگر سبز چائے پینا ضروری ہو تو راسبری کی پتیوں کے ساتھ ہربل چائے پینا بہتر رہے گا۔گوشت اور میٹھی کی روٹی کو خوراک سے خارج کرنا ضروری ہے۔گرمیوں میں مصالحے کے استعمال سے ذائقہ تو مل جاتا ہے لیکن بہت زیادہ مصالحوں کا استعمال حدت اور پسینے کا باعث بن سکتا ہے ۔مزید پیاس لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ان کے مقابلے میں جیسا کہ میں کہہ چکی ہوں سبزیوں کو فوقیت دینا چاہئے ۔زیادہ نمکین غذائوں سے بھی گریز اچھا ہے۔ کیونکہ اس قسم کی غذائوں سے گرم موسم میں منہ پر دانے نکل سکتے ہیں۔اس لئے خوراک میں نمک کی مقدار کم کر دی جائے ۔ چینی کا استعمال بھی کم کیا جا سکتا ہے۔اس موسم میں کافی اور سوڈا کو بھی اپنی فہرست سے خارج کردینا چاہئے۔ کیونکہ یہ غذائیں انہضام کے نظام کی خرابی کا باعث بن سکتی ہیں۔موسم گرما میں انجیراور سٹرابری بھی بہترین غذاء کاحصہ بن سکتے ہیں۔یہ مزیدار اور صحت مند پھل ہیں۔'' بیریز‘‘ مفید معدنیات ، وٹامن سی اور حیاتین ای سے بھرپور ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ''بیریز‘‘ موٹاپا کم کرنے میں بھی مفید ہوتی ہیں۔ یہ پھل اضافی وزن سے چھٹکارا پانے میں آپ کی مدد کر سکتاہے۔ بیر انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔ انجیر کو دہی یا گھر میںبنائے گئے پنیر کے ساتھ ملاکر کھانے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ ناشتہ کے لئے، راسبریوں کو زیتون آئل یا پانی میں ملا کر کھائیے ۔

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے،محمد رفیع ۔۔فلمی دنیا نے تم سا نہیں دیکھا

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ ساکہیں جسے،محمد رفیع ۔۔فلمی دنیا نے تم سا نہیں دیکھا

1952 ء میں ہندوستان میں ایک فلم ریلیز ہوئی جس کا نام تھا ''بیجوباورا‘‘ اس فلم کی موسیقی نوشاد صاحب نے مرتب کی تھی اور اس کے شاہکار گیت شکیل بد ایونی نے تحریر کئے تھے۔ اس سے پہلے نوشاد صاحب استاد بڑے غلام علی خان سے محمد رفیع کا ذکر کر چکے تھے، لیکن انہوں نے رفیع صاحب کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ لیکن جب استاد بڑے غلام علی خان نے ''بیجوباورا‘‘ کے گیت سنے تو وہ حیرت کے سمندر میں ڈوب گئے۔ اس فلم کے ان گیتوں نے تو استاد بڑے غلام علی خان پر سحر طاری کردیا۔ ان گیتوں کا ذکر ذیل میں کیا جارہا ہے۔1-اے دنیا کے رکھوالے،2 من تڑپت ہری درشن کو آج،3-تو گنگا کی موج میں جمنا کا دھاراان گیتوں میں رفیع صاحب نے جس خوبصورتی سے کلاسیکل گائیکی میں بھی اپنے فن کا چراغ جلایا ، اس کی مثال کمی ہی ملتی ہے۔ استاد بڑے غلام علی خان نے نوشاد صاحب سے کہا کہ وہ محمد رفیع سے ملاقات کے آرزو مند ہیں۔ جب رفیع صاحب کو علم ہوا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ مٹھائیوں کے ٹوکرے لے کر استادمحترم کے پاس پہنچ گئے۔ استاد محترم نے انہیں چاندی کا روپیہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ استاد نے انہیں ایک مستند گائیک تسلیم کرلیا ہے۔ اس سے پہلے وہ میڈم نور جہاں اور لتا منگیشکر کو بھی چاندی کا روپیہ دے چکے تھے۔ محمد رفیع کو 1947ء میں ریلیز ہونے والی شوکت حسین رضوی کی فلم ''جگنو‘‘ سے بریک مل چکا تھا۔ اس فلم میں انہوں نے میڈم نور جہاں کے ساتھ ایک دوگانا بھی گایا تھا جو سپر ہٹ ہوا تھا۔ اس دوگانے کے بول تھے''یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے‘‘۔محمد رفیع نے ''جگنو‘‘ میں مہمان اداکار کے طورپر بھی کام کیا تھا۔محمد رفیع 24 دسمبر 1924ء کو ضلع امرتسر کے گائوں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حاجی علی محمد تھا۔ چھ بھائیوں میں سے ان کا نمبر دوسرا تھا۔ 1935ء میں محمد رفیع کے والد لاہور آگئے اور بھاٹی گیٹ میں کام کرنے لگے۔ محمد رفیع نے کلاسیکی موسیقی استاد عبدالواحد خان،پنڈت جیون لال مٹو اور فیروز نظامی سے سیکھی۔13 برس کی عمر میں لاہور میں انہوں نے عوام کے سامنے گائیکی کا مظاہرہ کیا۔ اس تقریب میں کے ایل سہگل بھی موجود تھے۔1944ء میں انہوں نے سب سے پہلے زینت بیگم کے ساتھ پنجابی فلم''گل بلوچ‘‘ کیلئے یہ دوگانا گایا''سونئے نی ہیرئے نی‘‘ اس کی موسیقی شیام سندر نے ترتیب دی تھی۔ اسی سال آل انڈیا ریڈیو سٹیشن نے انہیں گانے کی دعوت دی۔1945ء میں انہوں نے اپنی پہلی ہندی فلم'' گائوں کی گوری‘‘ کیلئے گیت گایا۔ ممبئی میں مشہور نغمہ نگار تنویر نقوی نے محمد رفیع کا تعارف نامور فلمسازوں سے کرایا، جن میں عبدالرشید کاردار ، محبوب خان ، اور اداکار و ہدایتکار نذیر شامل ہیں۔ شیام سندر بھی ممبئی میں تھے۔ انہوں نے محمد رفیع اور جی ایم درانی سے ایک دوگانا گوایا جس کے بول تھے۔''اجی دل ہوقابو میں تو دلدار کی ایسی تیسی‘‘ نوشاد صاحب نے جو ان سے جو پہلا گیت گوایا اس کے بول تھے'' ہندوستان کے ہم ہیں‘‘ اس میں ان کے ساتھ شیام کمار ، علائو الدین اور دوسرے بھی شامل تھے۔ یہ گیت اے آر کاردار کی فلم ''پہلے آپ‘‘ کیلئے گایا گیا۔''جگنو‘‘ سے پہلے وہ فلم ''لیلیٰ مجنوں‘‘ 1945ء میں بھی سکرین پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے نوشاد صاحب کیلئے کئی کورس گائے جن میں ان کا ساتھ کے ایل سہگل نے دیا۔ ان میں1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ''شاہ جہاں‘‘ بھی شامل تھی جس میں یہ کورس شامل تھے۔''میرے سپنوں کی رانی‘‘ ،''روحی ، روحی‘‘ 1946ء میں محبوب خان کی فلم ''انمول گھڑی‘‘ کیلئے انہوں نے یہ انمول گیت گایا''تیرا کھلونا ٹوٹا بالک‘‘ اس کے بعد 1947ء میں میڈم نور جہاں کے ساتھ ان کا دوگانا بڑا مشہور ہوا جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد رفیع صاحب نے بھارت میں قیام کو ترجیح دی، میڈم نور جہاں پاکستان آگئیں۔1949ء میں موسیقاروں نے رفیع صاحب سے سولو گیت گوائے۔ ان موسیقاروں میں نوشاد صاحب ، شیام سندر اور حسن لال بھگت رام شامل تھے۔ محمد ر فیع کے پسندیدہ گلوکارکے ایل سہگل تھے۔ ان کے علاوہ وہ جی ایم درانی سے بھی بہت متاثر تھے۔ وہ پہلے درانی کے سٹائل میں گاتے تھے بعد میں وہ اپنے انداز میں گانے لگے۔ انہوں نے درانی کے ساتھ بھی کچھ نغمات بھی گائے جیسے ''ہم کو ہنستے دیکھ زمانہ جلتا ہے‘‘ اور ''خبر کسی کو نہیں وہ کدھر دیکھتے ‘‘ (فلم بے قصور1950ء) 1948ء میں رفیع صاحب کو پنڈت جواہر لعل نہرو نے گائیکی کے لئے اپنے گھر بلایا تھا۔ 1948ء میں ہی بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر پنڈت نہرو نے انہیں سلور میڈل سے نوازا۔50ء اور60ء کی دہائی میں محمد رفیع نے بھارتی فلم صنعت پر راج کیا، انہوں نے نوشاد صاحب کے علاوہ جن موسیقاروں کے ساتھ کام کیا ان میں مدن موہن ، ایس ڈی برمن ، لکشمی کانت پیارے لال ، کلیان جی آنند جی، روی ،شنکر جے کشن اور او پی نیئر کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ آرڈی برمن نے بھی ان سے خاصے گیت گوائے لیکن انہوں نے 70ء کی دہائی میں کشور کمار سے زیادہ گیت گوائے۔ اصل میں آر ڈی برمن، کشور کمار اور راجیش کھنہ کی ایک تکون بن گئی تھی۔ محمد رفیع صاحب اس لئے منظر عام سے غائب ہوگئے۔ آرڈی برمن کو پہلا بریک'' تیسری منزل‘‘ سے ملاتھا جس میں رفیع صاحب نے بڑے دلکش گیت گائے تھے اور اس فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ رفیع صاحب کے خلاف سازش کی گئی تھی اور انہیں گلوکاری کے میدان سے ہٹانے کیلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ۔ لیکن پھر بھی جہاں کوئی مشکل گیت ہوتا تھا ، رفیع صاحب کو ہی یاد کیا جاتا۔ 1964ء میں راجکپور نے اپنی فلم ''سنگم‘‘ کا ایک گیت رفیع صاحب سے گوایا تھا کیونکہ وہ گیت کوئی اور نہیں گا سکتاتھا۔ راجکپور نے ہمیشہ مکیش کو ترجیح دی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ مکیش کی آواز ان کے لئے بہت مناسب ہے۔ بہر حال شنکر جے کشن نے یہ گیت رفیع صاحب سے گوایا جو سپر ہٹ ہوگیا۔ رفیع صاحب کی آواز جن اداکاروں کیلئے بہت مناسب خیال کی جاتی تھی ان میں دلیپ کمار ، دیوآنند، شمی کپور، راجندر کمار، جے مکر جی خاص طورپر قابل ذکر ہیں، شمی کپور کی مقبولیت کا ایک راز یہ بھی تھاکہ ان پر رفیع صاحب کے شاندار گانے عکس بند ہوئے تھے۔ بلکہ شمی کپور کی اپنی خواہش بھی یہ ہوتی تھی کہ ان پر رفیع صاحب کے گائے گیت فلمبند کئے جائیں۔ اسی طرح راجندر کمار پر بھی رفیع صاحب کے بڑے دلکش گیت فلمبند کئے گئے۔رفیع صاحب نے طربیہ اور المیہ گیت بڑی تعداد میں گائے۔ اس کے علاوہ انہیں کورس گانے میں بھی مہارت حاصل تھی انہوں نے غزلیں بھی گائیں اور بھجن بھی گائے۔انہوں نے شکیل بدایونی ، ساحر لدھیانوی ، آنند بخشی، مجروح سلطانپوری ، اسد بھوپالی، گلزار ، راجندر کرشن اور اندیور کے لکھے ہوئے گیتوں کو بڑی خوبصورتی سے گایا۔ 50ء اور 60ء کی دہائی میں دیو آنندپر بھی زیادہ تر رفیع صاحب کے گائے ہوئے گیت عکس بند کئے جاتے تھے اور ان میں بے شمار گیت سپر ہٹ ہوئے۔محمد رفیع نے لتا منگیشکر ، آشابھونسلے، گیتادت اور ثمن کلیان پور کے ساتھ سب سے زیادہ گیت گائے۔ لتا منگیشکر کے ساتھ انہوں نے بہت گایا۔ لکشمی کانت پیارے لال نے440 دوگانے رفیع صاحب اور لتا منگیشکر سے گوائے۔ ایس ڈی برمن اور او پی نیئر نے ان کی آواز کو بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا۔ او پی نیئر نے ایک بار کہا تھا کہ اگر محمد رفیع نہ ہوتا تو پھر اوپی نیئر بھی نہ ہوتا۔ محمد رفیع ، آشا بھونسلے اور او پی نیئر نے شاہکار گیت تخلیق کئے۔ ان کی فلموں میں ''نیا دور‘‘(1957ء) ، ''تم سا نہیں دیکھا‘‘(1957ء) ، ''ایک مسافر ایک حسینہ‘‘ (1962ء) اور ''کشمیر کی کلی‘‘ شامل ہیں۔ رفیع صاحب نے ''برہمچاری‘‘ کے لئے شنکر جے کشن کی موسیقی میں روک این رول (Rock`n Roll) گایا۔ اس زمانے میں یہ موسیقی کی جدید قسم تھی جسے مغرب میں ایلوس پریسلے نے متعارف کرایا تھا۔ مذکورہ بالا موسیقاروں کے علاوہ رفیع صاحب نے اوشا کھنہ، سانک روی، ایس ابن تری پاٹھی اور این دتا کے ساتھ بھی کام کیا۔ رفیع صاحب کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ فلمسازوں کے ساتھ بہت تعاون کرتے تھے۔ معاوضے کے معاملے میں ان کا کسی سے جھگڑا نہیں ہوا۔ جتنا کسی نے دے دیا انہوں نے قبول کرلیا۔ وہ عاجزی اور انکساری کا مجسمہ تھے۔انہوں نے کبھی رائلٹی کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ حالانکہ اس مسئلے پر ان کا دیگر گلوکاروں سے جھگڑا بھی ہوا اور وہ ان سے ناراض ہوگئے۔ آج بھی بھارتی میڈیا محمد رفیع کو ہندوستان کا سب سے سریلا گلوکار تسلیم کرتا ہے۔ویسے تو رفیع صاحب کے گائے ہوئے شاہکار گیتوں کی تعداد ان گنت ہے لیکن ہم ذیل میں قارئین کیلئے ان کے کچھ لازوال گیتوں کا ذکر کر رہے ہیں۔1-اے دنیا کے رکھوالے۔ 2-کھویا کھویا چاند۔ 3-یاد نہ جائے۔ 4-سوبار جنم لیں گے۔5-بار بار دیکھو۔6-ہم بے خودی میں تم کو پکارے چلے گئے۔7-تیرے بن سونے نین ہمارے۔8-مدھو بن میں رادھیکا ناچے رے۔9-ہوئے ہم جن کے لئے برباد۔10-دل میں چھپا کے پیار کا۔11-مانگ کے ساتھ تمہارا۔12 - نین لڑ گئے رے۔13-ہم توچلے پردیس ۔14-چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے۔15-آج پرانی راہوں سے۔اس کے علاوہ ان کے بے شمار دوگانے اور کورس بھی انتہائی مقبول ہوئے۔ انہیں پدما شری کے علاوہ کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نیشنل ایوارڈ بھی دیئے گئے۔31 جولائی 1980ء کو یہ عظیم گلوکار55 برس کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگیا۔ان جیسا کوئی دوسرا گلوکار اب شاید کبھی نہ آئے۔

کام کریں ۔۔۔۔

کام کریں ۔۔۔۔

جہاں بھی دیکھیں ،انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا۔ ہرطرف آسیب کے ہی سایے ہیں۔کوئی کام بھی ڈھنگ اورطورطریقے کے مطابق ہوتا نظرنہیں آرہا۔ہر جائز اور مبنی بر حق کام میں بھی روایتی سستی وکوتاہی کاہی عمل دخل نظر آتاہے۔ کرسیوں بیٹھے افراد کام ہی نہیں کرنا چاہتے۔ہاتھوں پر ہاتھ رکھے،آلتی پالتی مارے،خوش گپیوں میں مصروف،چائے پانی پیتے ،سارا ورکنگ ڈے گزار کر ،گھر کی راہ سدھارلیتے ہیں اورمظلومین ہائے اور سسکیاں بھرتے ہی رہ جاتے ہیں اور ہوتاکچھ بھی نہیں۔محرومین حق کے لیے صدائیں لگاتے نظرآتے ہیں مگرحق ہے کہ اداہی نہیں ہوپاتا۔متاثرین ہیں کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھی کچھ حاصل نہیں کرپاتے ۔ فائلوں کے انبار لگے ہیں مگر کوئی دیکھنا ہی پسند نہیں کرتا۔عہدے اور اختیار کے نشے میں کام اور فائلوں کو ہاتھ لگانا شجرممنوعہ سمجھا جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے ہیں جوکام لٹکائے ،فائلوں کو دیمک زدہ الماریوں میں زمانے بھرکی کثافتوں اور غلاضتوں میں ڈالے موڈ اور مزاج بخیر ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں ، کوئی کام بھی فوری یابروقت نہیں کرتے۔ناجانے کیا بات ہے کہ کام اور فائلوں سے ایسے گھبراتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی آفت ،مصیبت یا تکلیف دہ چیز ہو۔ایسا لگتا ہے کہ ہمیں کام کو لمبا کرنے کی عادت اور لت لگ چکی ہے کیا ہمیں صرف یہی پسند ہے کہ ائیرکنڈیشنرکمرہ ہو،خود ہوں اور خدمت کیلئے ملازم ،نوکر چاکر ہوں اور کچھ نہ ہو،کام تو بالکل ہی جھوٹ ہوجائے ۔انتظار ،انتظاراور انتظار کی پالیسی اوراِس عمل سے ذہنی کوفت سے دوچار افراد پریشانی کے بعد پھر کوستے نظر آتے ہیں ۔ اپنے کام اور حقوق بروقت نہ ملنے کے سبب ٹوٹے دل اور بوجھل قدموں کیساتھ گلہ شکوہ وشکایت کرتے پائے جاتے ہیں مگر افسوس کہ ایسے بے بس افرادکو اُن کے جائز کاموں کیلئے بھی ذلیل ورسوا ہونا پڑتاہے اور دفتروں کی خاک چھاننا پڑتی ہے اورکام ہیں کہ مرض بڑھتاگیا ،جوں جوں دواکی والا معاملہ ہوتاہے۔لٹکتالٹکتا ،لٹک کرہی رہ جاتاہے پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ پاتا۔ہمیں کام کرنا ہوگا۔۔۔تبھی ملک ترقی کر سکے گا وگرنہ نہیں۔ 

چقندر وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور

چقندر وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور

چقندر کا شمار جڑوں والی میٹھی سبزیوں میں ہوتا ہے، تحقیقات بتاتی ہیں کہ اس کا جوس صحت کے لیے کافی فائدہ مند ہوتا ہے کیونکہ اس میں جسم کے لئے ضروری وٹامنز اور معدنیات ہوتے ہیں۔بلڈپریشر میں مفید:۔غیرملکی میگزین میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق بلڈ پریشر کو کم کرنے میں چقندر کا جوس فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق جو لوگ روزانہ چقندر کا جوس پیتے ہیں انہیں بلڈ پریشر کی بیماری کم ہوتی ہے۔ چقندر کے جوس میں نائٹریٹ ہوتا ہے جو خون میں نائٹرک ایسڈ میں تبدیل ہوتا ہے اور خون کی نالیوں میں وسعت اور سکون کا باعث بنتا ہے۔جسمانی کارکردگی بڑھاتا ہے:۔چقندر کا جوس پلازما نائٹریٹ کی سطح کواور جسمانی کارکردگی کو بڑھاتا ہے اور یہ ان لوگوں کے لئے بہترین ہے جو سائیکلنگ کرتے ہیں یا پیدل سفر کرتے ہیں، اس سے جسم میں آکسیجن کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔چقندر کا جوس نائٹریٹ مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے، یہ ہضم ہونے کے بعد نائٹریٹ آکسائڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے، جو بدلے میں شریانوں کو وسعت اور آرام دیتا ہے۔چقندر کا جوس ڈیمنشیا کو کم کرنے میں فائدہ مند ہے:۔ایک طبی تحقیق کے مطابق چقندر میں موجود نائٹریٹ خاص طور پر عمر رسیدہ افراد کے دماغ میں خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتے ہیں اور ان کے منفی اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کا ایک کپ دن میں استعمال ڈیمنشیا اور دماغ اور دیگر عصبی امراض کو سست کرتا ہے۔صحت مند وزن برقرار رکھنے میں چقندر کے جوس کے فوائد:۔چقندرکے جوس میں کم کیلوریز اورکم چربی ہوتی ہے، لہٰذا یہ ان لوگوں کے لئے ایک بہترین انتخاب ہے جو ڈائیٹ کرتے ہیں۔اس کا جوس دن کے آغاز میں جسم کو توانائی اور غذائی اجزا ء مہیا کرتا ہے۔کینسر سے لڑنے میں معاون:۔چقندر کا جوس اینٹی آکسیڈینٹ سے مالا مال ہوتا ہے، پانی میں حل ہوجاتا ہے۔ اس میں موجود اجزا میں کچھ کینسر سیلز کے خلاف حفاظتی صلاحیت رکھتے ہیں۔چقندر کے جوس میں شامل ایک اہم اینٹی آکسیڈینٹ ہوتا ہے جو خاص نوع میں پایا جاتاہے۔ خاص طور پر اس قسم کے اینٹی آکسیڈینٹ جسم کو کینسرکے خلیوں سے بچاتا ہے۔چقندر کا جوس اعصاب کے لیے فائدہ مند:۔پوٹاشیم اعصاب اور پٹھوں کو صحیح طریقے سے کام کرنے میں مدد کرتا ہے، اور اگر پوٹاشیم کی سطح بہت کم ہو تو تھکاوٹ، کمزوری اور پٹھوں میں کھچاؤپیدا ہوسکتا ہے۔چقندر کے جوس کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ یہ پوٹاشیم سے مالا مال ہوتا ہے، اعتدال میں اسے پینے سے پوٹاشیم کی زیادہ سے زیادہ سطح برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔جلد کے لیے فائدہ مند:۔چقندر کا جوس خون کو ناپاک اور زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے ، جو جلد صاف اور اس کی چمک کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔چقندر کے جوس میں وٹامن سی ہوتا ہے ، جو جلد کو صاف کرنے اور اس کو مہاسوں سے بچانے کے لئے بہت ضروری ہے۔دل کی صحت کے لیے:۔چقندر کے جوس میں بیٹالین ہوتی ہے، جو جسم میں قدرتی طور پر ہومو سسٹین کو کم کرنے کے لئے ایک اہم مادہ ہے۔ جسم میں ہومو سسٹین کی گردش نظام کے لیے بہت ساری صحت کی پریشانیوں کا باعث بنتی ہے۔چقندر کے جوس میں کافی مقدار میں پوٹاشیم عام طور پر فالج اور دل کی بیماریوں کے امکانات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔چقندر کا جوس ایک صحت بخش غذا ہے۔ اس میں بہت سے وٹامنز، اینٹی آکسیڈینٹ، اور جسم کے لئے ضروری عناصر ہوتے ہیں۔ چقندر کے جوس میں فائبر کی کثرت کی وجہ سے اس کا استعمال ہاضمہ کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، اور یہ قبض کو روکنے میں بھی مدد کرتا ہے۔