نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سابق کپتان محمد حفیظ کا کرس گیل کےبیان کاخیرمقدم
  • بریکنگ :- ویسٹ انڈیزچیمپئن کےلیےپاکستان سےڈھیرساری محبتیں،محمدحفیظ
Coronavirus Updates

زود ہضم غذائیں کھائیں

زود ہضم غذائیں کھائیں

اسپیشل فیچر

تحریر : طاہرہ خالق خان


موسم گرما میں بھوک مر جاتی ہے کچھ کھانے کو جی نہیں کرتا، دل چاہتا ہے کہ ٹھنڈا ٹھار پانی ہر وقت حلق سے نیچے اترتا رہے۔ صبح بھوک نہیںلگتی اس کمی کو رات کے کھانے میں پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے نیند اڑ سکتی ہے۔ کیونکہ مرغن غذائوں سے خوب پیاس لگتی ہے جس سے رات کو بار بار آنکھ کھل سکتی ہے۔
اس موسم میں خواتین کو کھانوں میں بھی معمولی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب زیادہ بھاری اورہضم نہ ہونے والی غذائوں سے گریز کرنا ہی بہتر رہے گا۔خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی پر نظر رکھناضروری ہے، ان کی مقدار ہرگز نہ بڑھنے پائے۔گرمیوں میں چکنائی میں متعدد اقسام کے بیکٹیریاز نہایت تیزی سے پھلتے پھولتے ہیں۔اسی لئے بدہضمی کی شکایت عام رہتی ہے۔ لہٰذااس موسم میں غذائوں کوفرج میں رکھنے کی بجائے کسی غریب کے پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے استعمال کیجئے۔ خود بھی تازہ خوراک کھائیے اوربچ جانے والی تازہ خوراک اپنے ملازم یا کسی اور کو دے کر نیکیاں کمائیے ۔
دلیہ ، مکئی ، چاول اس موسم گرما کی بہترین غذائوں میں شامل ہیں۔یہ غذائیں آسانی سے ہضم ہو جاتی ہیں، انہیں زود ہضم غذائیں بھی کہا جاتا ہے۔ناشتہ کیلئے ایسے مشروبات مفید رہیں گے ۔ آپ کو مائع سے بھرپور پھلوں اور سبزیوں کو ترجیح دینا چاہئے۔ سبزیوں والی غذائیں بہتررہیں گی۔ خام یعنی کچی سبزیاں کھائی جا سکتی ہیں جن میں ٹماٹر، ککڑی ا ور کھیرا بھی شامل ہیں۔ ان میں پائی جانے والی سیال حیاتیات کی جسم کو ضرورت پڑتی ہے۔ دوپہر کے کھانے میں پتلی کٹی سبزیاں استعمال کی جا سکتی ہیں ۔ لیکن ان میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار مناسب نہیں ہوتی۔ جس سے صحت پر اثر پڑ سکتا ہے لہٰذا کاربوہائیڈریٹس والی غذائیں بھی لیجئے۔
سلاد کی تیاری کرتے وقت مایئونیز کو کم سے کم استعمال کیجئے۔ اس کی جگہ زیتون کے تیل اور لیموںکے رس کو اہمیت دیجئے۔
ناشتے میں آڑو، ناشپاتیاں، سیب ، سٹرابیری، راسبر ی کو اہمیت دیجئے۔ دود ھ کی مصنوعات ( مکھن، دہی گھر بنایا ہوا پنیر) کو استعمال کرنا چاہئے ۔یہ زود ہضم اور مکمل غذائیں ہیں ۔ تازہ لیموں کا رس، سبزیوں کو مزید زود ہضم بنا سکتا ہے۔اس موسم میں اگر سبز چائے پینا ضروری ہو تو راسبری کی پتیوں کے ساتھ ہربل چائے پینا بہتر رہے گا۔
گوشت اور میٹھی کی روٹی کو خوراک سے خارج کرنا ضروری ہے۔گرمیوں میں مصالحے کے استعمال سے ذائقہ تو مل جاتا ہے لیکن بہت زیادہ مصالحوں کا استعمال حدت اور پسینے کا باعث بن سکتا ہے ۔مزید پیاس لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ان کے مقابلے میں جیسا کہ میں کہہ چکی ہوں سبزیوں کو فوقیت دینا چاہئے ۔زیادہ نمکین غذائوں سے بھی گریز اچھا ہے۔ کیونکہ اس قسم کی غذائوں سے گرم موسم میں منہ پر دانے نکل سکتے ہیں۔اس لئے خوراک میں نمک کی مقدار کم کر دی جائے ۔ چینی کا استعمال بھی کم کیا جا سکتا ہے۔اس موسم میں کافی اور سوڈا کو بھی اپنی فہرست سے خارج کردینا چاہئے۔ کیونکہ یہ غذائیں انہضام کے نظام کی خرابی کا باعث بن سکتی ہیں۔
موسم گرما میں انجیراور سٹرابری بھی بہترین غذاء کاحصہ بن سکتے ہیں۔یہ مزیدار اور صحت مند پھل ہیں۔'' بیریز‘‘ مفید معدنیات ، وٹامن سی اور حیاتین ای سے بھرپور ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ ''بیریز‘‘ موٹاپا کم کرنے میں بھی مفید ہوتی ہیں۔ یہ پھل اضافی وزن سے چھٹکارا پانے میں آپ کی مدد کر سکتاہے۔ بیر انفیکشن کو بھی روکتا ہے۔ انجیر کو دہی یا گھر میںبنائے گئے پنیر کے ساتھ ملاکر کھانے کا بھی مشورہ دیا جاتا ہے۔ ناشتہ کے لئے، راسبریوں کو زیتون آئل یا پانی میں ملا کر کھائیے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا ،برطانوی نو آبادی سے آزادی تک!

سری لنکا کو نو آبادی بنانے کا عمل 1505 ء میں شروع ہوا جب پرتگیزوں نے اس پر قبضہ کیا۔ پھر1815ء میں برطاینہ نے پورے جزیرے کو فتح کرلیا۔ 1948ء میں سری لنکا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ جب برطانیہ نے سری لنکا پر قبضہ کیا تو اس نے اسے سیلون ( Ceylon )کا نام دیا آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی 1972ء تک سری لنکا کی نو آبادی حیثیت( Dominion Status )برقرار رہی ۔اصل میں1802ء میں ہی ایمنیز معاہدے کے بعد برطانیہ کے پاس جزیرے کا وہ حصہ چلا گیا جو ولندیزیوں کے پاس تھا۔1803ء میں برطانیہ نے کنیڈی پر حملہ کردیا لیکن اس حملے کو پسپا کردیا گیا۔ اسے کنیڈی کی پہلی جنگ(Kandyan war )کہا جاتا ہے کنیڈی کی دوسری جنگ میں اسے فتح کرلیا گیا اور یوں سری لنکا کی آزادی کا خاتمہ ہوگیا۔سری لنکا مجموعی طورپر 443 برس تک نو آبادی بنا رہا۔ پہلے پرتگیزیوں نے نو آبادی( 1505-1658) بنائے رکھا پھر یہ جزیرہ ولندیزیوں (1658-1796 )کے زیر تسلط رہا اور پھر اسے1796 سے 1948 تک برطانیہ نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا۔ 1815ء میں جب برطانیہ نے اسے مکمل طورپر فتح کیا تو سری لنکا کے ساحلی علاقوں کو فرانس نے اپنی نو آبادی بنائے رکھا تھا۔ 1815ء میں یہ ساحلی علاقے بھی برطانیہ کے قبضے میں آگئے۔ البتہ سری لنکا کے اندرونی علاقوں پر سنہالہ کے بادشاہ کی حکومت تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ کو یہ ضرورت کیوں پڑی کہ وہ سری لنکا کو نو آبادی بنائے۔ اس کی وجہ نپولین کی مشہور جنگیں تھیں۔ برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر فرانس نے نیدر لینڈ کا کنٹرول حاصل کر لیا تو پھر سری لنکا فرانس کی نو آبادی بن جائے گا۔1802ء میں ایمنیز معاہدے کی وجہ سے فرانس اور برطانیہ کی دشمنی عارضی طورپر ختم ہوگئی۔سری لنکا کی آزادی کی تحریک بہت پر امن تھی جس کا مقصد آزادی کا حصول اور حکومت خود کرنے کا اختیارلینا تھا۔ برٹش سیلون کو اقتدار پر امن طریقے سے منتقل کرنے کا مطالبہ آہستہ آہستہ زور پکڑتا گیا۔ ایشیا میں برطانوی راج نے اس وقت زور پڑا جب نپولین کو واٹر لو میں شکست سے دو چار ہوتا پڑا۔ برطانوی راج کے وقار کوبھارت، افغانستان اور جنوبی افریقہ میں ہلکا سا نقصان پہنچا۔ 1914ء تک برطانوی راج کو کوئی چیلنج نہ کرسکا۔ سری لنکا کی معیشت کا دارومدار زراعت اور غیر ملکی زر مبادلہ پر تھا۔ سری لنکا میں زمین بڑی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس کی وجہ سے مختلف ممالک کی آپس میں کئی جنگیں ہوئی تھیں۔ 1830ء کے عشرے میں سری لنکا میں کافی( Coffee )متعارف کروائی گئی اس کے علاوہ سیلون ٹی بڑی مشہور ہوئی۔ چائے کے باغات بنائے گئے اور یورپ کے لوگوں نے خوب دولت بنائی۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے جنوبی بھارت سے بڑی تعداد میں تامل کارکنوں کو بلایا جو بہت جلد سری لنکا کی آبادی کا 10 فیصد حصہ بن گئے۔سیلون قومی کانگرس( CNC )کی بنیاد خود مختاری حاصل کرنے کے لئے رکھی گئی لیکن یہ پارٹی جلد ہی نسلی بنیادوں پر ٹوٹ گئی۔ اس کاسب سے بڑا سبب یہ تھا کہ سیلون کے تاملوں نے اقلیتی حیثیت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ سیلون قومی کانگرس آزادی کی خواہاں نہیں تھی۔ تحریک آزادی کے آرزو مند واضح طورپر دو حصوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک وہ جوآئین پسند تھے یہ لوگ آہستہ آہستہ تبدیلی کے ذریعے سیلون کی حیثیت میں تبدیلی چاہتے تھے تا کہ آزادی کا سفر آسان ہوجائے۔ زیادہ انقلابی گروپ کولمبو یوتھ لیگ ، گونا سنگھے کی مزدور تحریک اور جافنا یوتھ کانگرس سے منسلک ہوگئے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران سری لنکا جاپان کے خلاف برطانوی اڈہ تھا۔15 اپریل 1942ء کو جاپان کی نیوی نے کولمبو پر بمباری کی جس کی وجہ سے بھارتی تاجرسری لنکا سے نکل گئے۔ آخر کار سنہالی لیڈر ڈی ایس سنہانائکے کی قیادت میں جدوجہد کرنے والے آئین پسندوں نے آزادی کی جنگ جیت لی۔جنگ عظیم دوم کے بعد سنہالی لیڈرنے آزادی کے مسئلے پر سیلون نیشنل کانگرس کی چھوڑ دی ۔ انہوں نے بعد میں یونائٹیڈ نیشنل پارٹی بنالی۔1947ء کے انتخابات میں یو این پی نے پارلیمنٹ کی اتنی زیادہ نشستیں نہیں جیتیں لیکن سولومان نیدرانائیکے اور جی جی پونم بالم کی تامل کانگرس کے ساتھ مخلوط حکومت میں شامل ہوگئی۔ سری لنکا1972ء میں جمہوریہ بنائے1978ء میں آئین متعارف کروایا گیا۔ جس کی رو سے صدر کو ریاست کا سربراہ بنایا گیا۔1983ء میں سری لنکا میں خانہ جنگی شروع ہوگئی1971ء اور 1987ء میں مسلح بغاوتیں ہوئیں۔2009ء میں25 سالہ خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وکی پیڈیا،جدید دورہ کا انسائیکلوپیڈیا

وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہر شعبہ زندگی کی رسائی انسانی ہاتھوں سے نکل کر بذریعہ ٹیکنالوجی جدید مشینوں پر منتقل ہوتی جا رہی ہے اسی طرح انسائیکلوپیڈیا بھی اب کتابوں سے نکل کر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند انچ کی ایک چھوٹی سی سکرین پر منتقل ہو چکا ہے۔ ذرا غور کریں کہاں موٹی موٹی ضخیم اور بھاری بھر کم کتابوں پر مشتمل معلومات کا ذخیرہ اور کہاں چند انچ کی سکرین جہاں چند سیکنڈ کے اندر اندر دنیا بھر کی معلومات کا خزانہ آپ کی انکھوں کے سامنے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل فون کی سکرین پر نظر آ رہا ہوتا ہے۔ اس جدید دور کا یہ انسائیکلو پیڈیا ''وکی پیڈیا ‘‘ کے نام سے جاناجاتا ہےوکی پیڈیا ایک ڈیجیٹل انسائیکلو پیڈیا ہے جو انٹر نیٹ سے منسلک ہے۔ یوں کہیں کہ یہ انسائیکلو پیڈیا کی ایک جدید شکل ہے۔ جس پر دنیا بھر کے انٹر نیٹ صارفین باہمی خیالات اور نظریات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔یہ انسائیکلو پیڈیا جسے '' وکی میڈیا فاؤنڈیشن ‘‘ کے نام سے ایک غیر منعفتی تنظیم نے شروع کیا۔ وکی پیڈیا دراصل'' نیو پیڈیا‘‘ کی ابتدائی شکل ہے ۔یہ 9 مارچ 2000 میں ایک ویب پورٹل کمپنی ''بومس ‘‘ کی نگرانی میں شروع کی گئی۔ اس کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو جمی ویلز تھے اور ایڈیٹر انچیف لیری سینگر تھے۔ جنہوں نے 15جنوری 2001 کو مل کر وکی پیڈیا کا آغاز کیا۔انسائیکلو پیڈیا کے بنیادی تصور کی توسیع کے نظرئیے کے تحت اس کا نام ''وکی پیڈیا " تجویز کیا گیا اور یہی حتمی قرار پایا۔ ابتدا میں وکی پیڈیا صرف انگریزی زبان تک محدود تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت اور افادیت کے باعث یہ دوسری زبانوں تک پھیلتا چلا گیا۔ اردو وکی پیڈیا کا اجراء 27جنوری 2004 کو کیا گیا تھا۔یکم ستمبر 2021 سے اردو وکی پیڈیا میں ایک لاکھ 65 ہزار سے زائد مضامین شائع کئے گئے جبکہ 11ہزار پانچ سو کے لگ بھگ فائلیں لوڈ کی گئیں۔اب وکی پیڈیا پر 130 سے بھی زائد زبانوں کے 30لاکھ سے زیادہ موضوعات سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔وکی پیڈیا ویب پر مبنی ایک کثیرالاستعمال انسائیکلوپیڈیا کا نعم البدل ہے۔جو پوری دنیا میں ہر لمحے کروڑوں انسانوں کے زیر استعمال رہتا ہے۔اس کی خاص اور منفرد بات یہ ہے کہ اس کے مواد کی ہرخاص وعام کو ترمیم کی اجازت ہوتی ہے۔ یہ انٹر نیٹ کی دنیا کی مقبول ترین اور مشہور ترین ویب سائٹ ہے جس پر ہر لمحے لاکھوں لوگ معلومات شیئر کر رہے ہوتے ہیں۔

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل۔۔۔خواجہ خورشید انور کے گنڈا بند شاگرد

وزیر افضل جیسا شاندار موسیقار بھی دنیا سے چلا گیا۔گذشتہ دنوں ان کا انتقال ہوا تو موسیقی کے شائقین غمزدہ ہو گئے۔وزیر افضل واحد موسیقار تھے جنہیں خواجہ خورشید انور کا گنڈا بند شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور وہ ہمیشہ اس بات پر فخر کیا کرتے تھے۔اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب کا گھرانہ گانے بجانے سے وابستہ نہیں تھا جبکہ وزیر کا تعلق موسیقار گھرانے سے تھا۔ موسیقار گھرانوں کو خود اور اپنے ورثے پر ہمیشہ بہت مان رہا اس کے باوجود وزیر ایک موسیقی سے تعلق نہ رکھنے والے گھرانے کے شاگرد بنے۔بتدا میں وزیر افضل فلموں کی پس پردہ موسیقی ترتیب دیا کرتے تھے۔ انہیں پنجابی فلموں کے معروف ہدایت کار اسلم ایرانی نے اپنی فلم' 'چاچا خواہ مخواہ‘ ‘ کی پس پردہ موسیقی کے لیے سائن کرلیا۔ اسلم ایرانی کی اپنے مستقل موسیقار بابا جی اے چشتی سے اَن بن ہو گئی اور وزیر افضل کو کچھ گیت ترتیب دینے کا موقع مل گیا۔ منیر حسین اور عنایت حسین بھٹی کی آوازوں میں ان کا پہلا ہی گیت مقبول ہوا 'ایتھے وگدے نے راوی تے چناں بیلیا۔‘ان کی اگلی فلم 'زمین‘ 1965 میں ریلیز ہوئی جومہدی حسن کے ایک انتہائی لاجواب گیت کی وجہ سے امر ہو گئی۔ مشیر کاظمی کے لکھے گیت 'شکوہ نہ کر گلہ نہ کر یہ دنیا ہے پیارے،‘ کی دھن اور مہدی حسن کی پرسوز آواز آج بھی دل درد سے بھر دیتی ہے۔ ۔اپنی تیسری فلم 'دل دا جانی‘ سے وہ نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے بلکہ اپنی فنی مہارت کی دھاک بٹھانے میں بھی کامیاب رہے۔ جب ہم 'سیونی میرے دل دا جانی‘ سننے بیٹھتے ہیں تو حزیں قادری کے سادہ بول، میڈیم نور جہاں کی درد میں ڈوبی آواز اور وزیر افضل کی سْچی دھن دل کی فضا کو پوری طرح سوگوار کر دیتی ہے۔1968 ان کی ریلیز ہونے والی آٹھ پنجابی فلموں میں کامیاب ترین 'جماں جنج نال‘ تھی۔ یہ ممکن ہی نہیں کوئی شخص موسیقی کا پرستار ہو اور اس نے 'کیندے نے نیناں، تیرے کول رہنا‘ نہ سنا ہو۔ میڈم نور جہاں نے اپنی لوچ دار آواز سے حزیں قادری اور وزیر افضل کی محنت کو چار چاند لگا دیے۔ اس فلم کا ایک اور قابل ذکر گیت مہدی حسن کی آواز میں ہے 'گھنڈ مکھڑے توں لاؤ یار۔‘فلموں سے ہٹ کر وزیر افضل نے ٹی وی اور ریڈیو کے لیے بھی انتہائی خوبصورت گیت کمپوز کیے جن میں میرا لونگ گواچا (مسرت نذیر)، چھاپ تلک سب چھین لی (ناہید اختر)، رنگوا دے چنریا (ناہید اختر)، رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی (افشاں) اور سات سروں کا بہتا دریا (پرویز مہدی) شامل ہیں۔'رْکھ ڈولدے تے اکھ نئیں لگدی، نمی نمی وا وگدی‘ کے انتہائی خوبصورت بول احمد راہی نے لکھے تھے۔ پنجاب کا لوک کلچر اس گیت کے ایک ایک مصرعے سے چھلکتا ہے۔وزیر افضل اپنے لازوال گیتوں کی وجہ سے ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے۔

 کم ازکم ایک گھنٹہ مطالعہ،کامیابی کا راز

کم ازکم ایک گھنٹہ مطالعہ،کامیابی کا راز

کہتے ہیں کہ ہر بڑے آدمی کی کامیابی کاراز مطالعہ ہوتا ہے۔کچھ نیا سیکھنے کا جنون کسی بھی انسان کو مطالعہ کا عادی بنادیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کامیاب افراد مطالعہ کے شوقین ہوتے ہیں۔ مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس مطالعہ کے رسیا ہیں،وہ روزانہ رات کو اپنے بیڈ پر جانے سے قبل ایک گھنٹہ کتب بینی کرتے ہیں۔ ان کی کتابوں کے موضوعات سیاسی یا حالات حاضرہ سے متعلق ہوتے ہیں۔ایسیکس یونیورسٹی میں کی گئی ایک تحقیق کے نتائج کے مطابق دن میں صرف چھ منٹ کا مطالعہ ذہنی دبائو کی سطح کو68فیصد کم کردیتا ہے۔ مطالعہ کو ماہرین مینٹل ورک آ رٹ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اگر آپ بھی کامیاب کیریئر کے خواہشمند ہیں تو طالب علمی کے زمانے سے ہی باقاعدگی سے مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ شروع میں آدھا گھنٹہ دیں اور بعد میں آہستہ آہستہ مطالعہ کا وقت بڑھاتے جائیں۔ایک ریسرچ کے دوران دنیا کے امیر ترین 1200 افراد کو پرکھا گیاتو ان میں ایک عادت مشترک پائی گئی اور وہ تھی پڑھنا۔مطالعے کے سربراہ اسٹیو سیبولڈ جو کہ خود بھی ایک ارب پتی تھے، اُنہوں نے تین دہائیوں کے دوران ان افراد کے انٹرویوز کیے جس میں یہ بات سامنے آ ئی کہ یہ تمام افراد پڑھ کر خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔اسٹیو لکھتے ہیں کہ آپ کسی بھی امیر شخص کے گھر جائیں سب سے پہلے آپ وہاں موجود کتابوں کی ایک بڑی سی لائبریری دیکھیں گے جسے انہوں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔ان کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس ناولز، ٹیبلائیڈ اور تفریحی میگزینز پڑھتی ہے لیکن امیر تفریح حاصل کرنے کے بجائے مستند کتابیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔

’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

’’انشا جی اُٹھو اب کوچ کرو‘‘

عرفان کھوسٹ واقعہ بیان کرتے ہیں''میری اور استاد امانت علی خان کی اچھی خاصی دوستی تھی۔وہ اتنے ہمدرد اور مخلص انسان تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔جب میں نے ریڈیو پہ کام شروع کیا تو استاد امانت علی خان کا طوطی بولتا تھا۔کسی وجہ سے ریڈیو پہ میرے پروگرام بند ہو گئے اور میں بہت دل گرفتہ تھا۔امانت علی خان سے اُس وقت تک میری محض سلام دُعا ہی تھی۔مجھے پریشان دیکھا تو پوچھنے لگے کیا ہوا؟۔میں نے بتا دیا۔اُنہوں نے فوری طور پر ڈی جی کو فون کیا اور میرے پروگرام بحال کرائے‘‘عرفان کھوسٹ کے بقول ایسی شاندار شخصیت میں نے نہیں دیکھی ۔اخلاص اور محبت کا پیکر!گزشتہ روز برصغیر میں کلاسیکی موسیقی کے ماہر اِسی گائیک استاد امانت علی خان کی 47 ویں برسی منائی گئی۔استاد امانت علی خان کے گائے ہوئے کلاسیکی گیت اور غزلیں آ ج بھی بان زد عام ہیں۔پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے استاد امانت علی خان 1922 میں بھارتی پنجاب کے علاقے ہوشیار پور (شام چوراسی) میں پیدا ہوئے۔ موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد اختر حسین خان سے حاصل کی۔شروع میں امانت علی خان اپنے بھائی استاد فتح علی خان کے ساتھ مل کرگایا کرتے تھے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر گانا شروع کیا۔قیام پاکستان کے بعد استاد امانت علی خان اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ مستقل طور پر لاہور شفٹ ہو گئے اور منٹو پارک کے قریبی علاقے میں رہائش پذیر ہو گئے۔ انہوں نے کم عمری میں ہی دادرا، ٹھمری، کافی اور غزل کی گائیکی میں مہارت حاصل کر لی تھی۔اُن کی گائی ہوئی چند مشہور غزلوں میں ' 'ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام ہی آئے‘‘، ''موسم بدلا رُت گدرائی، اہل جنوں بے باک ہوئے‘‘ اور ''یہ آرزو تھی تجھے گل کے روبرو کرتے‘ ‘وغیرہ شامل ہیں۔موسیقی کے ماہرین کے مطابق استاد امانت علی خان کی گائیکی کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اونچی ٹون میں گاتے ہوئے بھی اپنی آواز پر مکمل کنٹرول رکھتے ۔ماہرین موسیقی کے مطابق انہیں معجزاتی گلوکار بھی کہا جاتا ہے۔ راگ راگنیوں کو تسخیر کرنے والے فن کاروں میں ان جیسا کوئی بھی نہیں ہے، استاد امانت علی خان کی آواز اور گائیکی کا انداز ہمیشہ سر تال سے ہم آہنگ رہا، ایک ایسا فن کار، جو بکھرتاتو سمیٹا نہیں جاتا تھااور جب سمٹتا تو ہاتھ نہیں آتا تھا۔ استاد امانت علی خان صرف 45 برس جئے۔ وہ کہا کرتے تھے، ہمیں رضاکارانہ طور پر اپنی عمریں کم کر لینی چاہئیں تاکہ تھوڑی تھوڑی آسودگی سب کے حصے میں آجائے۔ان کے ملنے والوں میں دانشوروں، شاعروں، صحافیوں اور ادیبوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ شاید اسی لیے استاد امانت علی خان کی طرف سے گائیکی کے لیے غزلوں کا انتخاب بھی بہت عمدہ ہوا کرتا تھا۔ یوں تو ان کے گائے ہوئے تقریباً سارے کلام کو موسیقی کے شائقین نے پسند کیا لیکن ابن انشا کی غزل "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" کو اپنی آواز سے سجانے کے بعد اُنہیں جوشہرت ملی اس کی مثال ڈھونڈنا آسان نہیں ہے۔اس کی دُھن مرحوم خلیل احمد نے تیار کی تھی ۔47 سال بعد بھی لوگ استاد امانت علی خان کو شوق سے سنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے مداح موجود ہیں۔ یہ بات ان کے فن کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے اور یہ ان کے اچھا فنکار ہونے کا بھی ایک ثبوت ہےاُن کا گایا ہوا ملی گیت''اے وطن پیارے وطن‘‘ وطن سے محبت کا عظیم نذرانہ ہے جسے آ ج بھی ہر کوئی سنتا ہے۔عرفان کھوسٹ ہی ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں''میں نے پہلی بار سکوٹر خریدا تو خان صاحب سے کہا کہ ا ٓئیں میرے ساتھ بیٹھیں ۔اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ میں پہلی بار سکوٹر چلانے لگا ہوں۔وہ میرے ساتھ بیٹھ گئےتھوڑی دُور گئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں خوش نصیب ہوں کہ آ ج پہلی بار سکوٹرچلا رہا ہو ں اور آ پ میرے ساتھ بیٹھے ہیں۔امانت علی خان صاحب کو جب علم ہوا کہ میں نے پہلی بار سکوٹر چلایاہے تو وہ فوری طور پر اتر گئے۔بھلا وہ ایک اناڑی ڈرائیورکے ساتھ بیٹھ کر اپنی جان کو خطرے میں میں کیوں ڈالتے۔استاد امانت علی خان کے صاحبزادے اسد امانت علی خان اور شفقت امانت علی خان نے شام چوراسی گھرانے کی روایتی کلاسیکی موسیقی کو خوب رنگ لگائے تاہم شفقت نے مغربی انداز موسیقی کو بھی اپنایا ہے۔ شفقت امانت علی خان کا کہنا ہے:''ہمارے گھرانے میں فنکار نئے نئے تجربے کرتے رہے ہیں۔ استاد امانت علی خان نے غزل بھی گائی۔ خود میرے تمام گانے بھی کسی نہ کسی راگ کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جس طرح لوگ بچوں کو دوائی میٹھی چیز کے ساتھ دیتے ہیں ہم بھی جدید انداز میں کلاسیکی روایت کو ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔‘‘ماہرین موسیقی کا کہنا ہے استاد امانت علی خان کا گایا ہوا کلام کانوں کو بڑا آسان لگتا ہے مگر اُسے اُن کی طرح گانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔آج کے گلوکار ان کی گائیکی سے روشنی حاصل کر سکتے ہیں۔استاد امانت علی خان کے بڑے بیٹے اسد امانت علی خان کی آواز اور انداز یقینی طور پر والد سے مختلف تھا تاہم پٹیالہ گھرانے کا حسن اُن سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔وہی چاشنی اُن کی آ واز کو بھی چار چاند لگا دیتی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے صاحبزادے ہوں یا چھوٹے بھائی حامد علی خان ۔۔پٹیالہ گھرانے کو امانت علی خان جیسا ہیرا دوبارہ نہیں مل سکا۔

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

ملکہ زبیدہ اور نہرِ زبیدہ

اس حقیقت سے تو کسی کو انکار نہیں کہ تاریخ اچھے الفاظ میں صرف انہی کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے مفاد عامہ کے لئے بے لوث خدمات سرانجام دی ہوں ۔ تاریخ جہاں فلاحی کام کرنے والوں کے کارناموں سے بھری پڑی ہے وہیں سیاہ کرتوت کے حامل افراد کے سیاہ کارناموں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں کثرت سے ملتا ہے۔جب ہم خلافت عباسیہ کے پانچویں خلیفہ ہارون الرشید کے دور خلافت پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان کی نیک نامی کے ساتھ کچھ نہ کچھ انتظامی خامیوں کا ذکر بھی تاریخ کی کتابوں میں ملتاہے۔ ہارون الرشید اس لحاظ سے خوش قسمت گردانے جائیں گے کہ ان کی شریکِ حیات ایک نیک، پارسا،خدا ترس اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار خاتون تھیں ۔زبیدہ بنت جعفر ، عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی چچازاد اور بیوی تھیں۔ ان کا ابتدائی نام اگرچہ " امۃ العزیز " تھا لیکن ان کے دادا جنہیں ان سے بے پناہ پیار تھا اسے ''زبیدہ ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے تھے چنانچہ بچپن ہی سے ان کا یہ نام شہرت اختیار کر گیا اور اصل نام امۃ العزیز قصہء پارینہ بن گیا۔زبیدہ 762 عیسوی میں موصل میں پیدا ہوئیں۔ اس وقت ان کے والد موصل کے گورنر تھے۔ زبیدہ انتہائی خوش شکل،ذہین ، نرم گو ،رحم دل مخیراور انتہائی خوش پوش خاتون تھیں۔سن 782 عیسوی میں جب یہ بیس برس کی عمر کو پہنچیں تو انکی شادی خلیفہ ہارون الرشید سے ہو گئی۔کہتے ہیں ہارون الرشید اس شادی پر اسقدر خوش تھے کہ انہوں نے بلا تفریق ہر خاص و عام کو شادی کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔ملکہ زبیدہ کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ 23سال تک ایکوسیع و عریض سلطنت کی خاتون اول رہیں۔ ہارون الرشید کا 23 سالہ دورخلافت ملکہ زبیدہ کے شاہانہ عروج کا دور تھا۔ انہوں نے اقتدار میں رہ کر فلاحی کاموں میں حیرت انگیز طور پر حصہ ڈالا۔ انہوں نے عراق سے مکہ معظمہ تک حاجیوں اور مسافروں کے لئے جگہ جگہ سرائیں تعمیر کرائیں ، کنویں کھدوائے۔اس زمانے میں تواتر سے آتی آندھیوں کے سبب سال کے بیشتر حصے یہ رستہ مٹی سے ڈھک جاتا تھا جس کے سبب مسافر اکثر راستہ بھول جاتے اور کئی کئی دن صحرا میں بھٹکتے رہتے تھے۔ چنانچہ ملکہ زبیدہ نے لاکھوں دینار خرچ کر کے راستے کے دونوں جانب پختہ دیواریں تعمیر کرائیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملکہ نے اپنے ذاتی خرچ پر کئی مسجدیں بنوائیں۔ علاوہ ازیں ملکہ زبیدہ نے ایک نہر عار کوہ بنان سے بیرو تک بنوائی اور اس پر متعدد پل بھی بنوائے۔ جن کے نشانات آج بھی موجود ہیں ۔انہیں اب بھی'' تناظر زبیدہ ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔''انسائیکلو پیڈیا برٹا نیکا‘‘ کے مطابق ملکہ زبیدہ نے ایران کے ایک پر فضا مقام سے متاثر ہو کر تبریز نامی ایک شہر بھی آباد کیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کی کتابوں میں مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ کا ذکر بھی ملتا ہے جو دوسری ہجری میں حادثاتِ زمانہ کے ہاتھوں تقریباً اجڑ چکا تھا , ملکہ زبیدہ نے اس تاریخی شہر کے تشخص کو بحال کرنے کے لئے اسکی ازسرنو تعمیر کرائی۔یوں تو ملکہ زبیدہ کے رفاہی کاموں کی فہرست خاصی طویل ہے لیکن ملکہ کا ایک کارنامہ جو رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا۔وہ '' نہر زبیدہ ‘‘ جیسے کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبے کی تکمیل تھی۔نہر زبیدہ کی تعمیر کا پس منظر: صدیوں سے مکہ مکرمہ اور دیگر سعودی علاقوں میں پانی کی قلت کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔کہتے ہیں خلیفہ ہارون الرشید سے بہت پہلے بھی ایک دفعہ پانی کا اس قدر سنگین بحران پیدا ہو گیا تھا کہ محض ایک مشکیزہ دس درہم تک بکنے لگا۔ ایک دفعہ جب ملکہ زبیدہ حج کی غرض سے مکہ مکرمہ میں تھیں تو انہوں نے اہل مکہ اور حجاج کرام کو درپیش پانی کی قلت دیکھی تو اسی لمحے انہوں نے مکہ مکرمہ میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے مستقل انتظام کرنے کا ارادہ کر لیا ۔اس کا مقصد اہل مکہ اور حجاج کرام کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کو یقینی بناناتھا۔ملکہ نے ہنگامی بنیادوں پر جب دنیا بھر کے ماہرین کو یہ ذمہ داری سونپی تو طویل جدوجہد کے بعد ماہرین نے اطلاع دی کہ انہیں دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے۔ایک مکہ مکرمہ سے لگ بھگ پچیس میل کی دوری پر جبکہ دوسراچشمہ کرا کی پہاڑیوں میں نعمان نامی وادی کے دامن میں واقع ہے ۔ ان چشموں کا مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہیں تھا کیونکہ درمیان میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے رکاوٹ ڈالتے نظر آ رہے تھے۔ ملکہ جو اس نیک کام کا تہیہ کر چکی تھیں انہوں نے اس موقع پر جو احکامات جاری کئے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے آج بھی زندہ ہیں،''ان چشموں کا پانی مکہ تک پہنچانے کے لئے ہر قیمت پر نہر کھودو۔اس کام کے لئے جتنا بھی خرچ آئے پروا نہ کرو حتی کہ اگر کوئی مزدور ایک کدال مارنے کی اجرت ایک اشرفی بھی مانگے تو دے دو ‘‘۔ملکہ کا حکم اور ارادے رنگ لے آئے۔تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔ منصوبے کے تحت مکہ مکرمہ سے 35 کلو میٹر شمال مشرق میں وادی حنین کے ''جبال طاد ‘‘سے نہر نکالنے کا پروگرام بنایا گیا۔ایک نہر جس کا پانی ''جبال قرا ‘‘ سے '' وادی نعمان ‘‘ کی طرف جاتا تھا اسے بھی نہر زبیدہ میں شامل کر لیا گیا۔یہ مقام عرفات سے 12 کلومیٹر جنوب مشرق کی جانب واقع تھا۔علاوہ ازیں منٰی کے جنوب میں صحرا کے مقام پر واقع ایک تالاب ''بئیر زبیدہ ‘‘کے نام سے تھا جس میں بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاتاتھا۔چنانچہ اس تالاب سے سات کاریزوں کے ذریعہ پانی نہر تک لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے ایک چھوٹی نہر مکہ مکرمہ اور ایک عرفات میں مسجد نمرہ تک لے جائی گئی۔اور یوں اللہ نے اہل مکہ اور حجاج کرام کی سن لی اور نہر کا یہ تاریخی منصوبہ تکمیل کو پہنچا۔بہت سارے لوگوں کے لئے یہ انکشاف شاید نیا ہو گا کہ اس نہر کا بنیادی نام ''عین المشاش ‘‘تھا لیکن اللہ تعالی کو شاید ملکہ زبیدہ کے نام کو اسی نہر کے توسط سے دوام بخشنا مقصود تھا جس کے سبب یہ ''نہر زبیدہ ‘‘کے نام سے شہرت اختیار کر گئی۔نہر زبیدہ 1200 سال تک مکہ مکرمہ اور ملحقہ علاقوں تک فراہمی آب کا بڑا ذریعہ رہا۔ پھر 1950 کے بعد اس نہر سے پمپوں کے ذریعہ پانی کھینچنے کاسلسلہ زور پکڑتا گیا جو رفتہ رفتہ نہر کی خشکی تک آن پہنچا۔آج بھی اس کا ایک بڑا حصہ محفوظ حالت میں موجود ہے۔بلا شبہ یہ ایک کٹھن اور بظاہر ناممکن منصوبہ تھا جسے ملکہ زبیدہ کی مدبرانہ حکمت عملی اور انتھک کاوشوں کے طفیل کامیابی ملی۔نہر زبیدہ درحقیقت اسلامی ورثے کا ایک نادر نمونہ اور انجنئیرنگ کا لازوال شاہکار ہے۔ اس کی تعمیر دیکھ کر آج بھی انجینئر اور ماہر تعمیرات حیرت میں پڑ جاتے ہیں کہ صدیوں پہلے فراہمی آب کے اس عظیم اور کٹھن منصوبے کو کیسے پایہء تکمیل تک پہنچایا گیا ہوگا۔