نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی ادارہ صحت کےیورپین ڈائریکٹرہینس کلوگےکی خبرایجنسی سےگفتگو
  • بریکنگ :- اومی کرون سےکوروناوباایک نئےفیزمیں داخل ہوگئی،یورپین ڈائریکٹرڈبلیوایچ او
  • بریکنگ :- اومی کرون ویرینٹ سےکوروناوباکےعام بیماری بننےکی امیدپیداہوگئی،ہینس کلوگے
  • بریکنگ :- اومی کرون کےبعدیورپ میں کوروناوباختم ہونےکی طرف جارہی ہے ،ہینس کلوگے
  • بریکنگ :- امیدہےاومی کرون کےبعدکوروناموسمی فلوکی شکل اختیارکرلےگا، ڈائریکٹرڈبلیوایچ او
Coronavirus Updates

حکائیت ِ سعدیؒ، طاقت اور تجربہ

حکائیت ِ سعدیؒ،   طاقت اور تجربہ

اسپیشل فیچر

تحریر :


ایک مرتبہ میں بلخ سے بامیان کی طرف جا رہا تھا۔ راستہ خطرناک تھا اور میری رہنمائی کیلئے ایک نوجوان میرے ساتھ ہو لیا۔ جو نیزہ بردار ہتھیار پوش ہونے کے ساتھ اتنا طاقتور تھا کہ دس قوی افراد بھی اس کی کمان پر چلہ نہ چڑھا سکتے تھے اور دنیا بھر کے پہلوان کشتی میں اس کو نہ پچھاڑ سکتے تھے۔چونکہ ناز و نعمت میں پلا ہوا تھا، کبھی آگ برساتے سورج کی تپش سے واسطہ پڑا تھا نہ کبھی اندھیری راتوں کا بھیانک چہرہ دیکھا تھا، نہ بہاروں کے نقارے کی آواز کان میں پڑی تھی اور نہ سواروں کی تلواروں کی چمک اس نے دیکھی تھی۔ نہ کبھی دشمن کے ہاتھوں قیدی بنا تھااور نہ ہی اس کے چاروں طرف تیروں کی بارش ہوئی تھی۔ راستے میں ہم آگے پیچھے دوڑ رہے تھے میں نے دیکھا کہ جو بوسیدہ دیوار راہ میں آتی اس کو گرادیتااور بڑے سے بڑے درخت جڑ سے اُکھاڑ پھینکتا اور فخر سے یہ شعر پڑھتا ''ہاتھی کہاں ہے آکر پہلوان کے بازو اور کندھے دیکھے اور شیر کہاں ہے آکر مرد کے ہاتھ اور پنجے دیکھے‘‘۔
اسی اثنا میں دو ڈاکو ایک بڑے پتھر کے پیچھے سے نمودار ہوئے اور ہم سے جنگ کرنے کی ٹھان لی۔ ایک کے ہاتھ میں لاٹھی تھی جب کہ دوسرے کے پاس موگری پتھر ۔میں نے پہلوان صاحب سے کہا دیکھتے کیا ہو؟ دشمن سر پر آ گیا ہے اور لڑنے پر آمادہ ہے۔جو بہادری اور طاقت تیرے پاس ہے وہ دکھا کیونکہ دشمن اپنے پائوں سے چل کر گویا شیر کی کچھار میں آ گیا ہے۔میں نے دیکھا کہ پہلوان صاحب کے چھکے چھوٹ گئے۔ ہاتھ سے تیر کمان گر گیا اور جسم لرزہ براندام تھا۔
ضروری نہیں کہ تیر کے نشانے سے بال کو چیر دینے والا حملے کے وقت بھی ٹھہر سکے۔
میں نے اندازہ لگا لیا کہ پہلوان کے اوسان خطا ہو چکے ہیں، اب عافیت اسی میں ہے کہ جان کی خیر منائی جائے۔
کام بڑا ہو تو کسی تجربے کار کو بھیج ، جوبپھرے ہوئے شیر کو بھی کمند کے حلقے میں پھنسا لے۔ جوان اگر موٹی گردن اور ہاتھ کے جسم والا ہی کیوں نہ ہو، جب دشمن سامنے آئے گا تو اس کے جوڑ ہلنے لگیں گے۔ لڑائی تجربہ کار ہی لڑ سکتا ہے، جیسے شرعی مسئلہ عالم ہی بتا سکتا ہے۔
ظاہری طور پر بڑے مضبوط اور پہلوان قسم کے لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ جب کوئی ان کے مقابلے میں آ جائے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو جائے تو ایسے کھسکتے ہیں جیسے گیڈر کے ساتھ کوئی رشتہ داری ہو اور اس بزدلی کو صبر اور بردباری کا نام دیتے ہیں۔ حالانکہ جہاں بس چلتا ہو وہاں اتنے بڑے ظالم بن جاتے ہیں کہ فرعون و یزید بھی کانپ جاتے ہوں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

بچپن سے آپ اور ہم چاند کا دنیاوی نام ''چندا ماموں‘‘ ہی سنتے آئے ہیں۔ ظاہر ہے یہ نام چاند سے پیار کی علامت ہے۔ ''ماموں کے گھر ‘‘ سب سے پہلے جانے والا ایک امریکی خلاء باز تھا، جسے چاند پر قدم رکھنے والا دنیا کا پہلا انسان قرار دیا جا چکا ہے۔اس انسان نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کو چھوڑ کر کسی سیارے یعنی چاند کو چھو کر نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ تاریخ میں چاند پر قدم رکھنے والے پہلے شخص کی حیثیت سے اپنا نام درج کرا لیا۔ تاریخ اس شخص کو نیل آرم سٹرانگ کے نام سے جانتی ہے۔امریکی ایک عرصہ تک فخر سے اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ نظام شمسی کے سیارے زمین کے گرد گھومنے والے چاند کی سطح پر پہلا قدم ایک امریکی کا تھا جس کا نام نیل آرم سٹرانگ تھا۔نیل آرم سٹرانگ 5 اگست 1930ء کو امریکی ریاست اوہایو میں پیدا ہوئے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے خاندان کا تعلق جرمن سے تھا۔ نیل نے صرف 15سال کی عمر میں اپنی بے پناہ خود اعتمادی اور ذہانت کے سبب ہوا بازی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا تھا جبکہ عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس وقت تک ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل نہ کر پائے تھے۔ 26 جنوری 1949ء کو نیل نے نیوی جوائن کر لی اور 16اگست 1950 جب نیل ابھی بیس برس کے تھے وہ ایک مکمل پائلٹ بن چکے تھے۔ چنانچہ 29 اگست 1951ء کو نیل نے پہلی مرتبہ کورین جنگ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائے۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 ستمبر 1951ء کو وونسن کے مغربی حصہ میں انہوں نے 560 کلو میٹر کی رفتار سے سطح زمین کے انتہائی قریب آ کر بمباری کی جس سے ان کی مہارت اور دلیری کا پتہ چلتا تھا۔ کوریا کی اس جنگ میں نیل نے 121 گھنٹے ہوا میں گزارے۔ اس جنگ میں انہوں نے کل 78 اڑانیں بھریں۔ ان کی دلیری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث انہیں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا۔ آرم سٹرانگ ابھی 22سال کے تھے جب 23 اگست 1952ء کو انہوں نے نیوی کو خیر آباد کہہ دیا۔نیوی چھوڑنے کے بعد نیل واپس پرڈیو آگئے۔جہاںانہوںنے یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا سے گریجویشن کرنے کے بعد انڈیانا کی پرڈیو یونیورسٹی سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ سدرن کیرولینا سے ایروسپیس انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔آرم سٹرانگ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1962ء میں ناسا جوائن کر لیا اور پہلی بار 1966ء میں ناسا کی خلائی مہم ''جیمینائے 8‘‘ میں اپنا پہلا خلائی سفر شروع کیا۔ یوں نیل اپنے پہلے خلائی سفر میں بھیجے گئے امریکہ کے پہلے شہریوں میں سے ایک بنے۔ اس مہم میں انہوں نے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ اسکاٹ کے ساتھ دو انسان بردار خلائی جہازوں کو متصل کرنے کا کام سر انجام دیا۔نیل آرم سٹرانگ کا دوسرا خلائی سفر 20 جولائی 1969ء ''اپالو 11‘‘ کا وہ تاریخی مشن تھا جس میں انہوں نے اپنے ساتھی ہزایلڈرن کی رفاقت میں لگ بھگ اڑھائی گھنٹے چاند پر چہل قدمی کی تھی۔ اس دوران ان دونوں نے چاند کی سر زمین کا جائزہ لیا، تصاویر لیں، مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کئے۔ اس کے بعد انہوں نے چاند پر امریکی پرچم لہرایا اور وہاں پر ایک تختی نصب کی جس پر یہ تحریر درج تھی''یہ وہ جگہ ہے جہاں سیارہ زمین سے آکر انسان نے پہلی مرتبہ قدم رکھا، جو پوری انسانیت کیلئے امن کا پیغام لے کر یہاں آیا‘‘نیل آرم سٹرانگ نے جب پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا تو ان کے الفاظ جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، تاریخ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے ''ایک انسان کا یہ چھوٹا سا قدم انسانیت کے لئے ایک لمبی جست ہے‘‘۔اس کے بعد دونوں خلاباز خلائی گاڑی ''ایگل‘‘ کے ذریعے چاند کا چکر لگاتے ہوئے واپس ''اپالو 11‘‘ جہاز تک پہنچے اور پھر 24جولائی 1969ء کو واپس زمین پر اترے۔''اپالو11‘‘ نیل کا آخری خلائی سفر تھا۔ اس کے بعد انہیں ناسا کے ایڈوانس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ یہ عہدہ تکنیکی کے بجائے خالصتاً دفتری امور سے متعلق تھا۔ جو نیل کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ ایک سال بعد ہی نیل نے اس عہدے کو خیر آباد کہہ دیا اور سنسناٹی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خلائی انجینئرنگ خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔25اگست 2012ء کو نیل آرم سٹرانگ جو پچھلے کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے 82 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا '' آنجہانی نیل آرمسٹرانگ نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے ہیرو تھے، جنہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا‘‘۔مائیکل کولنز جو اپالو مشن 11میں نیل کے معاون پائلٹ اور ساتھی تھے نے کہا ''وہ ایک نفیس اور شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ میں ان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔‘‘ناسا کے سربراہ چارلس بولڈن نے کہا ''وہ امریکہ کے عظیم محققین میں سے تھے۔ اور جب بھی خلائی سائنس کی تاریخ لکھی جائے گی، نیل آرم سٹرانگ کا نام اس تحریک میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔‘‘

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

 ندیم اور قوی خان کی آرٹ فلم ''مٹی کے پتلے‘‘ کو روس میں ایوارڈ ملاریاض شاہد کی ''سسرال‘‘ کوپاکستان کی عظیم فلموں میں شمار کیاجاتا ہےایک زمانے میں انڈیا کی آرٹ فلموں کا بڑا چرچا تھا۔80ء اور 90ء کی دہائی میں بالی وڈ میں بے شمار آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ آرٹ فلم کیا ہے؟ اس پر مختلف آراء ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آرٹ فلم بہرحال وہ فلم ہے جو حقیقت کے قریب ہوتی ہے اور اس میں کمرشل ازم مفقود ہوتا ہے۔ یعنی یہ وہ فلم ہے جو تجارتی بنیادوں پر نہیں بنائی جاتی۔ انڈیا میں بہت سی آرٹ فلمیں ایسی بھی بنائی گئیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی کی گئی اور ان فلموں کے اداکاروں نے بھی بالی وڈ کے اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کئے۔ اس دور میں جو آرٹ فلمیں مشہور ہوئیں۔ ان میں ''نشانت، چکرا، پرش، منڈی، پار، سلام بمبے، مرچ مصالحہ، منتھن، گدھ، گمن، کملا، یہ نزدیکیاں،آکردش، ایک پل، اردھ ستیہ، اندھا یدھ، ہولی اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ ویسے تو دلیپ کمار کی فلم ''شکست‘‘ اور ''سگنیہ‘‘ کو بھی آرٹ فلم کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح امتیابھ بچن کی فلم ''سوداگر‘‘ اور'' میں آزاد ہوں‘‘ بھی شاید آرٹ فلموں کی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔ بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے تو آرٹ فلم کی اصطلاح تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں فلم اچھی ہوتی ہے یا بری۔آرٹ فلموں کے حوالے سے بالی وڈ کے جن فنکاروں نے شہرت حاصل کی ان میں نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹیل، گلبھشن، گھربیندرا، فاروق شیخ، دپتی نول، گرش کرنارڈ، مارک زبیر اور دیگر کئی فنکار شامل ہیں۔ ڈمپل کپاڈیا نے بھی ''ردالی‘‘ میں زبردست اداکاری کی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ وہ صرف کمرشل فلموں کی ہی اداکارہ نہیں، بلکہ آرٹ فلموں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بالی وڈ میں بننے والی آرٹ فلموں کے معروف ہدایتکاروں میں ستیہ جیت رے، سعید مرزا، گوند نہلانی اور شیام بینگل کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بہت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔کیا پاکستانی فلمی صنعت نے بھی آرٹ فلمیں بنائیں؟ اس کا جواب اثبات میں ہے۔ یہ فلمیں اس زمانے میں بنائی گئیں جب کمرشل اور آرٹ فلموں کی اصطلاحیں اتنی عام نہیں تھیں آرٹ فلم کی تعریف جو بعد میں کی گئی۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ واقعی یہاں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں میں جاگو ہوا سویر، مٹی کے پتلے، بدنام، نیلا پربت، دھوپ اور سائے اور سسرال شامل ہیں۔ خلیل قیصر کی فلم 'دی کلرک‘‘ کو بھی اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ''سسرال‘‘ کے علاوہ باقی کوئی فلم بھی باکس آفس پر اتنی کامیاب نہ ہو سکی لیکن فلم کے بڑے بڑے ناقدین نے ان فلموں کے موضوعات کے حوالے سے انہیں بہت سراہا۔''مٹی کے پتلے‘‘ میں ندیم اور قوی خان جیسے فنکار شامل تھے اور اس فلم کو روس میں ایوارڈ ملا۔ یہ فلم مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔ ''نیلا پربت‘‘ معروف صحافی اور دانشور احمد بشیر کی تخلیق تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے فلم بینوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ یعنی وہ اس فلم کے اچھوتے موضوع کا صحیح معنوں میں ادراک ہی نہ کر سکے۔ اس فلم میں نیلو، محمد علی اور آغا طالش نے اہم کردار ادا کئے تھے۔ ''سسرال‘‘ کو بلاشبہ پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ یہ ریاض شاہد کی ذہانت کا کمال تھا کہ ایسے انوکھے موضوع پر فلم بنائی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ اس فلم کے گیت منیر نیازی نے لکھے اور موسیقی حسن لطیف نے دی۔ بھارت کے مشہور اداکار بلراج ساہنی نے ''سسرال‘‘ کو پاکستان کی پہلی آرٹ فلم قرار دیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں آرٹ فلمیں بہت کم بنائی گئیں لیکن اپنے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔آج کی نوجوان نسل کو یہ علم ہونا چاہیے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بھی بڑے بڑے ہدایتکار، سکرپٹ، رائٹر، اداکار اور ہدایتکار موجود تھے۔ جنہوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہدایتکار اقبال شہزاد کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جنہوں نے سعادت حسن منٹو کے افسانے''جھمکے‘‘ کو سلولائیڈ کے فتے پر منتقل کیا اور ''بدنام‘‘ جیسی یادگار فلم تخلیق کی۔ جن لوگوں کو یہ فلم ابھی تک یاد ہے انہیں علائو الدین کا یہ مشہور مکالمہ بھی یقیناً یاد ہوگا''کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کون لایا ہے یہ جھمکے‘‘؟ اب تو خیر سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن اس بات سے کون اختلاف کر سکتا ہے کہ بہترین کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اسے سرانجام دینے والوں کا نام بھی تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے   

سویٹ ہوم سے سمارٹ ہوم تک! گھر میں نصب ہر چیز کا کنٹرول اینڈ رائیڈ فون میں ہوگا

سویٹ ہوم سے سمارٹ ہوم تک! گھر میں نصب ہر چیز کا کنٹرول اینڈ رائیڈ فون میں ہوگا

سمارٹ گھر کیا ہوتا ہے؟ ایسا گھر جہاں انٹرنیٹ، آرٹیفشل انٹیلی جنس، روبوٹ، سینسرز، کیمروں، الیکٹرانک ڈیوائسز، سمارٹ فونز اور کمپیوٹرزکی حکومت ہو گی سمارٹ گھر کہلائے گا۔سمارٹ گھر اپنے مالکان کے بارے میں انسانوں سے زیادہ جانتے ہوں گے، ان کی آواز، انگلیوں کے نشان، آنکھوں کی پتلیوں کے رنگ اور ان کے چہرے سب مل کر گھر میں لگے آلات پر اپنا حکم چلائیں گے۔ روبوٹ آپ کے گھروں کی سروسز مثلاً صفائی، دھلائی اور خریداری کریں گے۔ ڈرونز سمارٹ گھروں میں ادویات اور گروسری ڈلیور کریں گے۔ سینسرز گھروں میں لگے ایئر کنڈیشنرز، باتھ روم شاورز، گیزر، ٹی وی چلائیں گے۔ گھر کے درجہ حرارت کو کنٹرول کریں گے۔ آپ اپنے گھر کے قریب پہنچیں گے تو گھر کا گیٹ کھل جائے گا اور اس کے ساتھ ہی گھرکے لاک، لائٹس اور اے سی سب کچھ خودبخود آن ہو جائے گا۔ اور ان سب چیزوں کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں پکڑے ایک اینڈرائیڈ فون میں ہو گا۔ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی کے مطابق اس وقت 12ارب سے زیادہ ڈیوائسز ''آئی او ٹی‘‘ کے ساتھ منسلک ہو چکی ہیں۔ اگر آپ کو آفس جا کر یاد آتا ہے کہ آپ گھر کا اے سی یا لائٹ بندکرنا بھول گئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ اپنے موبائل فون سے اپنے سمارٹ گھر کا اے سی یا لائٹ بند کر سکتے ہیں۔ سمارٹ گھر میں سینسرز اور سرورز ہوتے ہیں جو گھر میں نصب ایک سنٹرل ہب یا گیٹ وے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ ہم کہیں بھی ہوں اپنے سمارٹ فون سے اس گیٹ وے کو میسیج کر دیتے ہیں ہمارا سمارٹ فون اور گھر دونوں ایک کلائوڈکے ساتھ آپس میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ تمام ڈیوائسز اسی گیٹ وے کے ذریعے آپس میں کنٹیکٹ کرتی ہیں۔ سمارٹ گھرمیں ہم ''IFTTT‘‘ کی مدد سے اپنی پسند کی کنڈیشنز یا آپشن بھی سیٹ کر سکتے ہیں جیسے کہ اگر ہمارے گھر کا درجہ حرارت 25ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو گھر کا اے سی خود بخود آن ہو جائے گا۔ گھر کے لان میںگھاس کا موئسچر اگر کم ہوجاتا ہے تو پانی کا شاور خود بخود آن ہو جائے گا۔ہم اپنے گھر کو کہیں پر بھی بیٹھ کر مانیٹر کر سکتے ہیں، گھر کی یوزر پریفرنسز سیٹ کر سکتے ہیں۔ دروازوں کے لاک، گیزر کا تھرموسٹیٹ، روبوٹ ویکیوم کلینر ہر چیز انٹر نیٹ کے ساتھ منسلک ہوگی۔ یہ تمام ڈیوائسز ایمازون کی الیکسا گوگل کے اسسٹنٹ اور ایپل کے سری جیسے ڈیجیٹل اسسٹنٹس کی مدد سے خدمات انجام دیتی ہیں۔ فیس بک کی جگہ میٹاورس کے آنے کی دیر ہے آپ اپنے گھر میں بیٹھے ڈیجیٹل اوتار کی مدد سے ہزاروں میل دور پھر رہے ہوں گے۔سمارٹ گھر کو چلانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایک اچھا سا انٹر نیٹ کنکشن درکار ہوگا جو بلاتعطل اپنی سروسز فراہم کرسکے کیونکہ اگر انٹرنیٹ کی سروس مہیا ہو گی تو سمارٹ گھر کے دروازے آپ پر کھل سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ نہیں آرہا تو شاید آپ سمارٹ گھرکے اندر ہی قید ہو جائیں، گھر سے باہر ہیں تو انٹرنیٹ سروس بحال ہونے تک آپ کو باہر ہی انتظار کرنا پڑے گا۔سمارٹ گھر میں رہنے والے خاندان کے ہر فرد کو جدید ڈیوائسز اور ریموٹ کنٹرولز کا درست استعمال آنا چاہئے۔ جس فرد کو بھی ان جدید ڈیوائسز کے استعمال یا گائیڈ لائنز سے آگاہی نہ ہوئی اس کیلئے ایک سمارٹ گھر میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔سمارٹ گھروں کے حوالے سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر ان کا ڈیٹا ہیک ہو گیا تو ایساگھر انتہائی غیر محفوظ تصور ہو گا۔ گویا آپ کا سمارٹ گھر ایک ہیکر کے رحم و کرم پر ہوگا۔ اگر اسے گھر کے پاس ورڈ تک رسائی ہو گئی تو وہ بہت نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اس لیے جب تک سمارٹ گھروں میں فول پروف سائبر سکیورٹی نہیں دی جائے گی پورا گھر غیر محفوظ تصور ہوگا۔آٹومیشن کی طرف جانے سے ہمیں نِت نئی سہولتیں تومیسر آرہی ہیں مگر ان سہولیات کی وجہ سے ہم جسمانی طورپر سستی اور کاہلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹی وی کا چینل بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول سے بدل دیتے ہیں۔ بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی پنکھا آن آف کیا جا سکتا ہے۔ جب سمارٹ گھروںمیںہر چیز سمارٹ فون، ریموٹ یا آواز کے سگنل کی تابع ہو گی تو جسمانی نقل وحرکت بھی اتنی کم ہوتی جائے گی جو کسی طور ہماری صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔سمارٹ گھروںمیں نصب ہونے والی ڈیوائسزمہنگی ہونے کی وجہ سے گھر کے مالک کی جیب پر خاصا بوجھ ثابت ہوسکتی ہیں ان کی کوالٹی اور معیار سے ہی گاہک میںاعتماد اور بھروسہ پیدا ہوگا۔گھٹیا معیار کی ڈیوائسز ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ جس کمپنی کی ڈیوائسز استعمال میں آسان اور معیاری اور جدید ہوں گی گھر کا مالک ہمیشہ انہیں خریدنے کو ہی ترجیح دے گا۔سمارٹ گھروں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی ٹیکنالوجی تبدیل ہوتی ہے ڈیوائسز کام نہیں کرتیں۔ مثلاً کچھ گھروں کے لاک صرف ایپل کے فون کے ذریعے کام کرتے ہیں کسی اینڈرائیڈ فون پر بالکل بے کار ثابت ہوتے ہیں۔ کئی تھرمو سٹیٹس گوگل کے Assistant کی مد دسے تو کام کرتے ہیں لیکن Siriکے ساتھ نہیں چلتے۔ ایپل سے چلنے والے لاک اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والی فیملی کے لیے بالکل بیکار ہیں۔تاہم ٹیک انڈسٹری کے ایپل، سام سنگ، گوگل اور ایمازون جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے ہوم ٹیکنالوجی کو اپڈیٹ کرتے ہوئے ایک نیا سٹینڈرڈ متعارف کرایا ہے جسے Matter کا نام دیا گیا ہے جو سمارٹ گھر میں استعمال ہونے والی 100سے زائد ڈیوائسز کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے یعنی کمیونیکیشن کے قابل بنا دیتا ہے خواہ وہ کسی بھی برانڈ کی ہوں۔ اس لیے آئندہ آپ جب اپنے سمارٹ گھر کیلئے کوئی لاک خرید رہے ہوں گے تو اس کے اوپر لکھا ہوگا کہ یہ Matterکے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔سمارٹ گھر کاالارم کلاک آپ کو جگانے کے ساتھ ساتھ آپ کے کمرے کی لائٹس کو بھی روشن ہونے کا سگنل دے دے گا۔ آخری بات یہ کہ چونکہ اس میں تمام برقی آلات صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال ہو ں گے ورنہ خود بخود بند ہو جائیں گے اس لیے بجلی اور توانائی کی مد میں کافی بچت ہو گی۔ گھر میں اگرکسی جگہ سے گیس لیکج ہوتو فوراً ایک الارم بجنا شروع ہو جائے گا اور اہل خانہ کواس خطرے سے آگاہ کردے گا۔سمارٹ ہوم میں رہنے والے تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل آن لائن رابطے میں رہتے ہیں۔ ملازمت پر جانے والے والدین گھر میں موجود بچوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں اور ان کی آن لائن نگرانی کر سکتے ہیں۔عمر رسیدہ اور معذور افراد اپنے موبائل فون کی مدد سے پورے گھر کی ضروریات سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنے قریبی لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیںجو انہیں بروقت ریسکیو کر سکتے ہیں۔

جوڑوں‘‘ کے درد’’

جوڑوں‘‘ کے درد’’

انسان کو عرش پہ بنے جوڑوں کی وساطت سے دنیا میں لانے کا اہتمام ہوا۔ پھر انسانی جسم میں 360 جوڑوںکی موجودگی نے جوڑوں کی اصطلاح کو انسان سے لازم کر دیا۔ یوں انسان کے اندر کے جوڑوں اور عرش پہ بنے جوڑوں کے اپنے اپنے درد متعارف ہوئے پر یہاں فقط اک دوجے کے لباس قرار دیئے گئے جوڑوں کے گفتہ، شگفتہ و نا گفتہ دردوں کا تذکرہ ہے۔جوڑوں کے درد کی تاریخ انسانی تخلیق سے جُڑی ہے۔ اسی درد کے موجب انسان جنت بدر ہوا اور یہی درد زمین پر پہلے قتل کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا ۔ وقت گزرا تو بنی نوع انسانیت میں وٹامن شی، وٹامن ''ہی‘‘ اور پروٹین کی کمی شدت اختیار کر گئی اور ان کا محض ایک دوسرے پہ گزارا مشکل ہونے لگا۔ لہٰذاشرعی و غیر شرعی کثیرالازواجی اور دیگر رشتوںکے ساتھ منہ بولی بیویوں کا رواج بھی عام ہو گیا۔ جوڑوں کی اقسام دیکھیں تو ان میں مثالی جوڑے، چھچھورے جوڑے، ِبن بتوڑے جوڑے، گھگھو گھوڑے جوڑے، توڑے مروڑے جوڑے، لمبے چوڑے جوڑے اور بھگوڑے جوڑے شامل ہیں، ان میں ہمیشہ جوڑ توڑ جاری رہتا ہے۔ بلحاظ قسمت یہ جوڑے پہلے، دوسرے، چوتھے اور ساتویں آسمان پہ بنائے جاتے ہیں۔ سبھی جوڑے اپنے اپنے حصے کی خوشیاں اور درد ساتھ لاتے ہیں اور ان کے معاشقے قیدِ شریعت سے دوچار ہو کر کثرتِ اطفالی کو فروغ دیتے ہیں۔ بالی عمر کے جوڑے نظر بازوں کی عمیق نظروں کے باعث غیر محفوظ شمار ہوتے ہیں لیکن خستہ سال و حال جوڑے محفوظ مگر غیر محظوظ ہوجاتے ہیں۔ ہر جوڑا ہر روز ایک دن پرانا ہوجاتا ہے۔ بڑھتی عمرسر پر بھاری گزرتی ہے اور مرد کا سر باہر سے جبکہ عورت کا اندر سے خالی ہونے لگتا ہے۔ کہہ سکتے ہیں کہ بچپن میں یہ درد نا ہونے کے برابر پر پچپن میں سَوا ہو جاتے ہیں۔ازمنہ قدیم میں گھر کا پانی لانے کی ذمہ داری گوریوں کے کندھوں پر تھی لیکن مکافات عمل کے تحت آج پنگھٹ کی بجائے فلٹر سے پانی لانے کا کام مردوں کے سر ہے۔ اچھی صورت بری شے ہے کیونکہ جو ڈالے، بری نظر ہی ڈالے۔ کوئی ''غیر‘‘ اگر زیادہ اچھی لگنے لگے تو اس پہ بری نظر پارسائوں پر بھی واجب ٹھہر جاتی ہے۔ یوں جوڑوں کے یک طرفہ، دو طرفہ یا سہ طرفہ درد اٹھنے کے سلسلے دراز ہونے لگتے ہیں۔ پھر مزاجوں کے تفاوت کے نزلے بھی جوڑوں کے اعضائے رئیسہ پر گر تے ہیں۔ ایک فریق میر کے سرہانے تو دوسرا توپ کے دہانے پہ کچھ کہنے کہلانے کا خوگر ہوتا ہے۔ بیویوں کو شوہروں کی معلومات کم مگر بیوائوں کو ان کے اصل ٹھکانوں کا وثوق سے علم ہوتا ہے۔ ویسے بھی پہلی بیوی سے ٹوٹ کر محبت کا رواج کہاں؟۔ یوسفی کے مطابق شاہ جہان نے بھی آٹھویں بیوی کیلئے محل بنوایا۔ عرب ممالک میں یک زوجئیے کو مسکین سمجھا جاتا ہے۔ دیکھا دیکھی اپنے ہاں کا یک زوجیہ بھی اس درد کی شدت محسوس کرتے ہوئے شرح خاوندگی میں اضافے کی ''ہِڈک‘‘ میں مبتلا رہتا ہے ۔ شاعر نے خوب کہا ہے!میں تو اہل ہوں کسی اور کا میری اہلیہ کوئی اور ہےمیں ردیف ِ مصرعہ، عشق ہوں میرا قافیہ کوئی اور ہےکسی تجربے کی تلاش میں میرا عقدِ ثانوی ہوگیامیری اہلیہ کو خبر نہیں میری اہلیہ کوئی اور ہےبنی نوع مردانیت میں کچھ ایسے مردِ آزاد بھی ہیں کہ پیری میں رال ٹپکانے سے باز نہیں آتے اور نہ ہی سگی یا سوتیلی بیویوں میں فرق کرتے ہیں۔ ہمسائے سے زیادہ ہمسائی کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ یوسفی نے سچ کہا تھا کہ سیانا مرد نظریں نیچی اور نیت خراب رکھتا ہے۔ کنوارے ان دردوں سے مُستثنٰی ہیں کیونکہ کنوراے پن کی ایک دن کی زندگی شادی شدہ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے۔ تاہم ان میں سے کچھ آئوٹ سٹینڈنگ کی تلاش میں خود ''آئوٹ‘‘ سٹینڈنگ ہو جاتے ہیں۔ ان کے اپنے ڈھیروں درد ہیں جیسےتیرے وعدے اگر وفا ہوتےہم مجازی سہی، خدا ہوتےالبتہ ماہرین مجنوں، رانجھا، مرزا، پُنوں اور ماہیوال کے دردوں کی طبی،اخلاقی اور شرعی نوعیت وضع کرنے سے یکسر قاصر ہیں۔ ان کے علاوہ جوڑوں کے درد کے اسباب میں ساس کا وجود ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ اسی طرح گھر دامادی اور زن مریدی بھی ان دردوں کی شدت بڑھاتی ہیں۔ زن مرید وں میںحسن ِ ظن اور حسنِ زن کے موجزن ہونے کے موجب ''تھلے لگنے‘‘ کی خداداد صلاحیت پائی جاتی ہے جو اسے معاشرے میںشرم کے مقام پر فائز کرتی ہے۔ ان کے دلوں میں خوفِ الٰہی و اہلیہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ ایسے شوہر حقِ شوہریت اور'' بیگم ڈانٹ کام‘‘ میں فرمانبردارانہ مہارتوں کے بل بوتے پر چھپے خصم نکلتے ہیں۔ گل ِ نوخیز اخترکے مطابق خواتین کو شکوہ رہتا ہے کہ بھوک نا لگنے کے باوجود ان کا وزن بڑھتا جارہاہے ۔سسرال نے آج تک بہو تسلیم نہیں کیا ،اوپر سے شناختی کارڈ پر غلط تاریخ پیدائش لکھوا دی ہے ۔میری قسمت میں سکون کہاں؟ میرے سارے بھائی رن مرید ہیں۔خالو کے بیٹے کے رشتے میں مجھ سے مشورہ تک نہیں کیا گیا ۔ شوہر شاپنگ پہ نہیں لے جاتا۔یہ کوئی زندگی ہے۔ شکیل ہی ٹھیک تھا ۔ ادھر حضرات کے بھی نرالے درد ہیں جیسے ،پائوں دبوانا کہاں کی شرافت ہے۔ سارے تولئے ایک ہی دن دھونا ضروری ہیں؟۔ پھر بستر کی چادر سے منہ بھی صاف نہیں کرنے دیتی۔ موبائل سے کون سی ویڈیو پہلے ڈیلیٹ کی جائے۔گھر میں کوئی چیز وقت پر نہیں ملتی۔ لڑکیوں کو انکل کہتے شرم نہیں آتی ۔شیو آج کی جائے یا پرسوں؟ وغیرہ۔غرض یہ دنیا کے تمام خطوں میں پایا جانے والا سب سے بڑا انسانی ازدواجی عارضہ ہے جس کے وقتی مداوے بھلے عقدِ ثانی ،دولت کی روانی اور من مانی سہی مگرجُز مرگ شائد ہی کوئی ابدی علاج ہو۔مشہور زمانہ و زنانہ ڈرامہ''میرے پاس تم ہو‘‘ کے انجام سے بھی یہی پیغام ملا کہ مرد عورت کے بچھڑجانے سے ہرگز نہیں بلکہ اس کے واپس آنے کے خدشے سے مر جاتا ہے ۔تاہم آخر میں بنی نوع نسوانیت کی عظمت میں اعتراف لازم ہے کہ مرد کی طرح عورت کے قلب و نظر پر بھی قفل نہیں ہوتے مگرجب کبھی دلوں اور گھروں کے ٹوٹنے کی نوبت آ پہنچے تو عورت ہی ہے جو فطری صلاحیتوں سے اپنی خواہشات قربان کرکے خود اور خود سے جُڑے بہت سے افراد کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے ۔سمارٹ گھر کیا ہوتا ہے؟ ایسا گھر جہاں انٹرنیٹ، آرٹیفشل انٹیلی جنس، روبوٹ، سینسرز، کیمروں، الیکٹرانک ڈیوائسز، سمارٹ فونز اور کمپیوٹرزکی حکومت ہو گی سمارٹ گھر کہلائے گا۔سمارٹ گھر اپنے مالکان کے بارے میں انسانوں سے زیادہ جانتے ہوں گے، ان کی آواز، انگلیوں کے نشان، آنکھوں کی پتلیوں کے رنگ اور ان کے چہرے سب مل کر گھر میں لگے آلات پر اپنا حکم چلائیں گے۔ روبوٹ آپ کے گھروں کی سروسز مثلاً صفائی، دھلائی اور خریداری کریں گے۔ ڈرونز سمارٹ گھروں میں ادویات اور گروسری ڈلیور کریں گے۔ سینسرز گھروں میں لگے ایئر کنڈیشنرز، باتھ روم شاورز، گیزر، ٹی وی چلائیں گے۔ گھر کے درجہ حرارت کو کنٹرول کریں گے۔ آپ اپنے گھر کے قریب پہنچیں گے تو گھر کا گیٹ کھل جائے گا اور اس کے ساتھ ہی گھرکے لاک، لائٹس اور اے سی سب کچھ خودبخود آن ہو جائے گا۔ اور ان سب چیزوں کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں پکڑے ایک اینڈرائیڈ فون میں ہو گا۔ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی کے مطابق اس وقت 12ارب سے زیادہ ڈیوائسز ''آئی او ٹی‘‘ کے ساتھ منسلک ہو چکی ہیں۔ اگر آپ کو آفس جا کر یاد آتا ہے کہ آپ گھر کا اے سی یا لائٹ بندکرنا بھول گئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ اپنے موبائل فون سے اپنے سمارٹ گھر کا اے سی یا لائٹ بند کر سکتے ہیں۔ سمارٹ گھر میں سینسرز اور سرورز ہوتے ہیں جو گھر میں نصب ایک سنٹرل ہب یا گیٹ وے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ ہم کہیں بھی ہوں اپنے سمارٹ فون سے اس گیٹ وے کو میسیج کر دیتے ہیں ہمارا سمارٹ فون اور گھر دونوں ایک کلائوڈکے ساتھ آپس میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ تمام ڈیوائسز اسی گیٹ وے کے ذریعے آپس میں کنٹیکٹ کرتی ہیں۔ سمارٹ گھرمیں ہم ''IFTTT‘‘ کی مدد سے اپنی پسند کی کنڈیشنز یا آپشن بھی سیٹ کر سکتے ہیں جیسے کہ اگر ہمارے گھر کا درجہ حرارت 25ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو گھر کا اے سی خود بخود آن ہو جائے گا۔ گھر کے لان میںگھاس کا موئسچر اگر کم ہوجاتا ہے تو پانی کا شاور خود بخود آن ہو جائے گا۔ہم اپنے گھر کو کہیں پر بھی بیٹھ کر مانیٹر کر سکتے ہیں، گھر کی یوزر پریفرنسز سیٹ کر سکتے ہیں۔ دروازوں کے لاک، گیزر کا تھرموسٹیٹ، روبوٹ ویکیوم کلینر ہر چیز انٹر نیٹ کے ساتھ منسلک ہوگی۔ یہ تمام ڈیوائسز ایمازون کی الیکسا گوگل کے اسسٹنٹ اور ایپل کے سری جیسے ڈیجیٹل اسسٹنٹس کی مدد سے خدمات انجام دیتی ہیں۔ فیس بک کی جگہ میٹاورس کے آنے کی دیر ہے آپ اپنے گھر میں بیٹھے ڈیجیٹل اوتار کی مدد سے ہزاروں میل دور پھر رہے ہوں گے۔سمارٹ گھر کو چلانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایک اچھا سا انٹر نیٹ کنکشن درکار ہوگا جو بلاتعطل اپنی سروسز فراہم کرسکے کیونکہ اگر انٹرنیٹ کی سروس مہیا ہو گی تو سمارٹ گھر کے دروازے آپ پر کھل سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ نہیں آرہا تو شاید آپ سمارٹ گھرکے اندر ہی قید ہو جائیں، گھر سے باہر ہیں تو انٹرنیٹ سروس بحال ہونے تک آپ کو باہر ہی انتظار کرنا پڑے گا۔سمارٹ گھر میں رہنے والے خاندان کے ہر فرد کو جدید ڈیوائسز اور ریموٹ کنٹرولز کا درست استعمال آنا چاہئے۔ جس فرد کو بھی ان جدید ڈیوائسز کے استعمال یا گائیڈ لائنز سے آگاہی نہ ہوئی اس کیلئے ایک سمارٹ گھر میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔سمارٹ گھروں کے حوالے سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر ان کا ڈیٹا ہیک ہو گیا تو ایساگھر انتہائی غیر محفوظ تصور ہو گا۔ گویا آپ کا سمارٹ گھر ایک ہیکر کے رحم و کرم پر ہوگا۔ اگر اسے گھر کے پاس ورڈ تک رسائی ہو گئی تو وہ بہت نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اس لیے جب تک سمارٹ گھروں میں فول پروف سائبر سکیورٹی نہیں دی جائے گی پورا گھر غیر محفوظ تصور ہوگا۔آٹومیشن کی طرف جانے سے ہمیں نِت نئی سہولتیں تومیسر آرہی ہیں مگر ان سہولیات کی وجہ سے ہم جسمانی طورپر سستی اور کاہلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹی وی کا چینل بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول سے بدل دیتے ہیں۔ بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی پنکھا آن آف کیا جا سکتا ہے۔ جب سمارٹ گھروںمیںہر چیز سمارٹ فون، ریموٹ یا آواز کے سگنل کی تابع ہو گی تو جسمانی نقل وحرکت بھی اتنی کم ہوتی جائے گی جو کسی طور ہماری صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔سمارٹ گھروںمیں نصب ہونے والی ڈیوائسزمہنگی ہونے کی وجہ سے گھر کے مالک کی جیب پر خاصا بوجھ ثابت ہوسکتی ہیں ان کی کوالٹی اور معیار سے ہی گاہک میںاعتماد اور بھروسہ پیدا ہوگا۔گھٹیا معیار کی ڈیوائسز ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ جس کمپنی کی ڈیوائسز استعمال میں آسان اور معیاری اور جدید ہوں گی گھر کا مالک ہمیشہ انہیں خریدنے کو ہی ترجیح دے گا۔سمارٹ گھروں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی ٹیکنالوجی تبدیل ہوتی ہے ڈیوائسز کام نہیں کرتیں۔ مثلاً کچھ گھروں کے لاک صرف ایپل کے فون کے ذریعے کام کرتے ہیں کسی اینڈرائیڈ فون پر بالکل بے کار ثابت ہوتے ہیں۔ کئی تھرمو سٹیٹس گوگل کے Assistant کی مد دسے تو کام کرتے ہیں لیکن Siriکے ساتھ نہیں چلتے۔ ایپل سے چلنے والے لاک اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والی فیملی کے لیے بالکل بیکار ہیں۔تاہم ٹیک انڈسٹری کے ایپل، سام سنگ، گوگل اور ایمازون جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے ہوم ٹیکنالوجی کو اپڈیٹ کرتے ہوئے ایک نیا سٹینڈرڈ متعارف کرایا ہے جسے Matter کا نام دیا گیا ہے جو سمارٹ گھر میں استعمال ہونے والی 100سے زائد ڈیوائسز کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے یعنی کمیونیکیشن کے قابل بنا دیتا ہے خواہ وہ کسی بھی برانڈ کی ہوں۔ اس لیے آئندہ آپ جب اپنے سمارٹ گھر کیلئے کوئی لاک خرید رہے ہوں گے تو اس کے اوپر لکھا ہوگا کہ یہ Matterکے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔سمارٹ گھر کاالارم کلاک آپ کو جگانے کے ساتھ ساتھ آپ کے کمرے کی لائٹس کو بھی روشن ہونے کا سگنل دے دے گا۔ آخری بات یہ کہ چونکہ اس میں تمام برقی آلات صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال ہو ں گے ورنہ خود بخود بند ہو جائیں گے اس لیے بجلی اور توانائی کی مد میں کافی بچت ہو گی۔ گھر میں اگرکسی جگہ سے گیس لیکج ہوتو فوراً ایک الارم بجنا شروع ہو جائے گا اور اہل خانہ کواس خطرے سے آگاہ کردے گا۔سمارٹ ہوم میں رہنے والے تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل آن لائن رابطے میں رہتے ہیں۔ ملازمت پر جانے والے والدین گھر میں موجود بچوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں اور ان کی آن لائن نگرانی کر سکتے ہیں۔عمر رسیدہ اور معذور افراد اپنے موبائل فون کی مدد سے پورے گھر کی ضروریات سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنے قریبی لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیںجو انہیں بروقت ریسکیو کر سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

برسی: ارشاد احمد حقانی24جنوری 2010ء کو انتقال کر جانے والے ارشاد احمد حقانی کا شمار پاکستان کے مقبول کالم نگاروں میں ہوتا تھا۔ وہ 1928ء میں قصور میں پیدا ہوئے۔ قصور کالج سے بطور استاد وابستہ رہے، 1981ء میں لاہور آ کر مقبول جریدے کے ساتھ منسلک ہو گئے۔ ان کا کالم ''حرف تمنا‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتا رہا۔ 1996ء میں جب صدر سردار فاروق احمد خان لغاری نے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی تو ملک معراج خالدکی نگران کابینہ میں تین ماہ وزیر اطلاعات بھی رہے۔اداکار رضوان واسطی24جنوری 2011ء کو فوت ہونے والے رضوان واسطی ریڈیو پاکستان کراچی کے معروف نیوز براڈکاسٹر اور فلم و ٹیلی ویژن اداکار تھے۔ وہ 1937ء میں لاہور میں پیدا ہوئے لیکن خاندان کراچی منتقل ہونے کے باعث انہوں نے قانون کی ڈگری سندھ مسلم لا کالج سے مکمل کی۔ فنی کریئر کا آغاز 1960ء میں ریڈیو پاکستان کراچی سے کیا۔ 70ء اور 80ء کے عشروں میں سرکاری ٹی وی کے متعدد ڈراموں میں کام کیا جن میں ''خدا کی بستی‘‘، ''انا‘‘، ''افشاں‘‘، ''آبگینے‘‘، آگاہی‘‘ اور ''دوسرا آسمان‘‘ شامل ہیں۔ ان کی اہلیہ طاہرہ واسطی اور بیٹی لیلیٰ واسطی بھی ٹی وی کی مقبول اداکارائیں تھیں۔غزالہ رفیق (اداکارہ و صداکارہ )24 جنوری 1977ء کو پاکستان کی معروف فنکارہ غزالہ رفیق خالق حقیقی سے جا ملیں۔ وہ 1939ء کو پیدا ہوئیں،اصل نام بلقیس انصاری تھا۔ 1957ء میں ریڈیو پاکستان کراچی سے کریئر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ریڈیو ڈراموں میں صداکاری کے ساتھ کئی پروگراموں کی کمپیئرنگ بھی کی۔ کراچی ٹیلی وژن کے قیام کے بعد پروڈیوسر عبدالکریم بلوچ کی سندھی سیریل ''زینت‘‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ان کے یادگاراردو ڈراموں میں گڑیا گھر، پت جھڑ کے بعد،آخری موم بتی اور مرزا غالب شامل ہیں۔سالگرہ:میشا برٹن(ہالی وڈ سٹار)ماڈل و اداکارہ میشا برٹن24جنوری 1986ء میں انگلینڈ میں پیدا ہوئیں۔ ہالی وڈ کی فلموں ''دی سکستھ سینس‘‘، ''نوٹنگ ہل‘‘ اور ''لان ڈاگز‘‘ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی میشا نے 8سال کی عمر میں ٹی وی سے ادااکاری کا آغاز کیا۔ وہ بیشمار کمرشل کرنے کے ساتھ مختلف کمپنیوں کی برانڈ ایمبسیڈر کے طور پر بھی کام کر رہی ہیں۔ وہ دو بار ٹین چوائس ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔اہم واقعات :''آگ کا دریا‘‘(سپرہٹ پاکستانی فلم)1966ء میں آج کے دن پاکستانی سپرہٹ فلم ''آگ کا دریا‘‘ نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ کاروباری اعتبار سے یہ ایک سپرہٹ فلم قرار پائی تھی۔ اس ایکشن اور میوزیکل فلم کی خاص بات یہ تھی کہ اس فلم سے اداکار محمد علی کو سپر سٹار کا درجہ حاصل ہوا۔ اس فلم میں شامل نورجہاں، نسیم بیگم، سلیم رضا، احمد رشدی اور مسعود رانا کے گائے ہوئے گیت بھی لوگوں میں بے پناہ مقبول ہوئے۔کاسٹ میں شمیم آراء، لہری اور ساقی شامل تھے۔''اپرچونیٹی‘‘(خلائی جہاز)2004ء میں ناسا کی ''اپرچونیٹی‘‘ نامی خلائی گاڑی مریخ پر اتری جسے 7 جولائی 2003ء کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ مسلسل 15 برس تک مریخ پر گھومنے اور وہاں کی انتہائی قیمتی معلومات فراہم کرنے والے خلائی جہاز کو امریکی خلائی ادارہ ناسا تقریباً ناکارہ قرار دے چکا ہے۔ 2018ء میں مریخ پر ریت کا شدید طوفان آیا تھا جس کے بعد سے ''اپر چونیٹی‘‘ کا زمین سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔ ماہرین نے بار بار اس کی جانب سگنل بھیجے لیکن اس کمانڈ کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد ماہرین نے اتفاق کیا کہ اب یہ روبوٹ زمین سے دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کرسکے گا۔

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

٭...معمر افراد یعنی عمررسیدہ لوگوں کی فہرست میں سویڈن پہلے نمبر پر ہے جہاں یہ شرح16.4 فیصد ہے جبکہ ملک میں بوڑھوں کی تعداد 4.7 فیصد ہے۔152 ممالک میں سب سے آخری نمبر مالی کا ہے جہاں بزرگ افراد کی شرح صرف 1.4 فیصد ہے۔٭...آئر لینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں مردوں کی طبعی عمر سب سے زیادہ ہے۔سب سے کم عمر والے لوگ کیسپین میں رہتے ہیں جہاں اوسط عمر 25 برس ہے۔٭...دنیا میں عورتوں کی سب سے زیادہ طبعی عمر بھی آئرلینڈ میں ہے جہاں یہ شرح79.20 ہے۔٭...میملز کے کھانے کی رفتار اکثر تیز ہوتی ہے لیکن سب سے تیز کھانا کھانے والے میمل کا نام سٹار نوڈ مول ہے۔ وینڈر بلٹ یونیورسٹی امریکہ کی طر ف سے کی جانے والی ر یسرچ کے مطابق سٹارنوڈ کے کھانے کی رفتار 120سیکنڈ ہے ۔٭...کسی ایک کلب میں ایک ہی شخص کا سب سے زیادہ سکوائش چیمپین شپ جیتنے کا ریکارڈ برطانیہ کے کورل کیمرون کے پاس ہے اس نے سکاٹ لینڈ کے تھرسو سکوائش کلب میں23 میچز جیتے جن میں 19 چیمپن شپ بھی شامل ہیں۔٭...55سالہ لوئس واشکانسکے دنیا کا وہ شخص ہے جس کا دل کی تبدیلی کا تیز ترین آپریشن کیا گیا۔یہ آپریشن 1967ء میں جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹائون میں محض 5گھنٹے میں کیا گیا۔ جس میں ڈاکٹروں کی30 رکنی ٹیم نے حصہ لیا ۔لوئس کو لگایا جانے والا دل ایک 28سالہ نوجوان ڈینس انڈرویل کا تھا۔لوئس اس آپریشن کے بعد 18سال تک زندہ رہا۔