نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی میئر کراچی کو بااختیار بنانےپر متفق
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کےدرمیان بلدیاتی قانون میں ترمیم پر اتفاق،ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ ہوا ہے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت کا وفد مذاکرات کے بعد روانہ
Coronavirus Updates

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

اسپیشل فیچر

تحریر :


٭... برازیل میں 40لاکھ سے زائد گاڑیاں پیٹرول کے بجائے ''گیسوہول‘‘ کو بطور ایندھن استعمال کرتی ہیں، ''گیسوہول‘‘ ایک تیل ہے جو کہ گنے سے حاصل کیا جاتا ہے۔
٭...آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ الیگزینڈر گراہم بیل نے ٹیلیفون ایجاد کیا لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ اور بیوی سے ٹیلیفون پر بات نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ دونوں سماعت سے محروم تھیں۔
٭...Bookkeeper انگریزی زبان کا وہ واحد لفظ ہے جس میں مسلسل تین بارڈبل حروف ایک ساتھ آتے ہیں۔
٭...کشش ثقل کے اثرات کی وجہ سے آپ کا وزن اس وقت تھوڑا کم ہوجاتا ہے جب چاند عین آپ کے سر کے اوپر آجاتا ہے۔
٭...چھ ٹانگو ں والے جانوروں میں لال بیگ کا شمار دنیا کے تیز ترین جانوروں میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک میٹر کا فاصلہ صرف ایک سیکنڈ میں طے کر لیتا ہے۔
٭...صرف دو جانور ایسے ہیں جو سر کو موڑے بغیر پیچھے کی جانب دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جن میں پہلا خرگوش اور دوسرا طوطا ہے۔
٭...اٹلی کا شہر وینس 118 چھوٹے سمندری جزیروں پر تعمیر کیا گیا ہے، جنہیں 400 پلوں کی مدد سے ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا۔
٭...ایک بلیووہیل روزانہ 3 ٹن غذا کھا سکتی ہے،اور یہ بغیر کھائے 6 ماہ تک زندہ رہ سکتی ہے۔
٭...اگر گھنٹوں آپ کمپیوٹر اسکرین کے سامنے گزارنے کے بعد سفید کاغذ کو دیکھیں گے تو وہ گلابی دکھائی دے گا۔


روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
سمندروں پر دوڑائیں یا ہوا میں اڑائیں  سولر لگژری کشتی تیار

سمندروں پر دوڑائیں یا ہوا میں اڑائیں سولر لگژری کشتی تیار

سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہم لوگ حیرت کا مجسمہ بنے کھڑے ہیں کہ دنیا کیا ہے، کیا ہو رہی ہے۔"اٹلی کی ایک فرم نے حال ہی میں ایک تفریحی کشتی (Luxury Yacht)کا ڈیزائن تیار کیا ہے جو دنیا کے تمام سمندروں پر تیر بھی سکتی ہے اور اونچا اُڑ بھی سکتی ہے۔ اسے لگژری بوٹ بھی کہا جا رہا ہے۔ اس مہنگی کشتی کا ڈیزائن روم میں موجود ایک فرم "لذارینی ڈیزائن سٹوڈیو" نے بنایا ہے۔ یہ خشک کاربن فائبر ڈھانچہ 60گرہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اور اس کی وجہ شمسی توانائی سے چلنے والے چار پنکھے اور ہیلیم گیس سے بھرے ہوئے دو چھوٹے ہوائی جہاز ہیں۔ اس کشتی کی رفتار کی تیزی میں شمسی توانائی کے پنکھے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ کشتی اُڑ بھی سکتی ہے اور پانی پر تیرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ تفریحی ہوائی کشتی ہوا میں رہتی ہے کیونکہ اس کے چھوٹے ہوائی جہاز ایک ایسی گیس سے بھرے ہوتے ہیں جو ہوا سے ہلکی ہوتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ان چھوٹے ہوائی جہازوں کی قیمت کیا ہوگی؟ اس کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب یہ بنائے جائیں گے۔ اگرچہ فرم کا یہ کہنا ہے کہ یہ چھوٹے جہاز پرائیویٹ مالکوں کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کیے گئے ہیں۔خشک کاربن فائبر ڈھانچے کی مجموعی طور پر لمبائی 300فٹ کے قریب ہوگی جبکہ مرکزی ڈیک150میٹر لمبا اور 80میٹر چوڑا ہوگا۔ ہوائی کشتی کے دو جڑواں چھوٹے ہوائی جہاز چار لاکھ کیوبک میٹر ہیلیم گیس پر مشتمل ہیں۔ یہ دبی ہوئی گیس (Compresser gas)ہے جو عام طور پر مائع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہاں اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ ہیلیم وہ گیس ہے جو بڑی مشکل سے مائع میں تبدیل ہوتی ہے اور اسے آٹھ گھومنے والے انجن آگے بڑھاتے ہیں۔ان انجنوں کو پاورفل بیٹریاں اور شمسی پینلز(Solar Panels)طاقت فراہم کرتے ہیں۔لزارانی فرم کے مطابق یہ جہاز زیادہ سے زیادہ 70میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑیں گے اور اس کا دورانیہ 48 گھنٹوں سے زیادہ ہوگا۔ فرم کا کہنا ہے کہ ہوائی یا تفریحی کشتی گھومنے پھرنے کے شوقین لوگوں کیلئے بہترین ایجاد ثابت ہوگی۔ ہوائی یا تفریحی کشتی کی اڑان کافی زیادہ ہوگی۔ اس کا بڑا سبب دو چھوٹے ہوائی جہاز ہوں گے۔ اس کی خاصیت یہ ہوگی کہ اس میں تین کمرے ہوں گے جہاں مسافروں کی رسائی نہیں ہوگی کیونکہ ان میں ہیلیم گیس ہوگی۔ ہر چھوٹے ہوائی جہاز پر مسافروں کیلئے پانچ نوکر چاکر ہوں گے اور مسافر کھڑکی سے آسمان کا نظارہ کر سکیں گے۔ ہر چھوٹے جہاز کی پچھلی طرف ایک ایسا کھلا پلیٹ فارم ہوگا جہاں کھڑکی کے بغیر باہر دیکھا جا سکتا ہے۔ مسافر ان لہروں کو دیکھ سکیں گے جن کا نظارہ وہ اپنے نیچے کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ جب یہ کشتی اُڑے گی تو مسافر پانچ ہزار فٹ کی بلندی تک تازہ ہوا سے لطف اندوز ہوں گے۔دونوں چھوٹے ہوئی جہازوں کو چار کاربن پل مرکزی کمرے سے جوڑیں گے جن کے ذریعے مسافر چل پھر سکیں گے۔ یہ مرکزی کمرہ دراصل وہ اجتماعی جگہ ہوگا جہاں مسافر اکٹھے ہو سکیں گے، آرام کر سکیں گے اور کھانا کھا سکیں گے۔ مسافروں کیلئے یہ جگہ خوبصورت نظارے دیکھنے کیلئے بہت زبردست ہو گی۔ اس کی ایک اور خاصیت یہ ہوگی کہ اس میں سوئمنگ پول ہوگا، ایک لاؤنج ہوگا جس میں قالین بچھا ہوگا اورایک وسیع رہنے کا کمرہ ہوگا جس میں مسافر رات کا کھانا کھا سکیں گے۔ ہر چھوٹے ہوائی جہاز کے نیچے ایسے تہہ خانے ہوں گے جن میں گیس یا ہوا بھری جا سکتی ہے۔ یہ تہہ خانے ہوا سے بھر جاتے ہیں جب پانی ان کے نزدیک پہنچتا ہے۔ اس سے یہ ہوتا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ کشتی تیربھی سکتی ہے۔لزارانی فرم کہتی ہے کہ انجنوں کی حرکت ہوائی کشتی کو دھکیلے گی۔ یہ کشتی خاموشی سے پانی پر تیر سکتی ہے۔ لزارانی وہ فرم ہے جو کثرت سے ایسے شاہانہ تصورات پیش کرتی رہتی ہے۔ لیکن ان تصورات کو عملی شکل میں پیش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ یہ ہوائی کشتی اتنی مہنگی ہو کہ حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ اس سے پہلے بھی یہ فرم بہت مہنگے تصورات پیش کر چکی ہے۔عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ "دنیا"سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں

 عقاب کے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک قلم کی داستان جدید ٹیکنالوجی سے وجود خطرے سے دوچار

عقاب کے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک قلم کی داستان جدید ٹیکنالوجی سے وجود خطرے سے دوچار

میں اپنی کروڑوں سال پر پھیلی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزرتے ہوئے اپنی داستان حیات سنانا چاہتا ہوں کہ شائد اب میں زیادہ دن جی نہ سکوں اور جدت کے نام پر ارتقائی سفر کے ہاتھوں مارا جاؤں۔ عقاب کے نوکیلے پروں سے لکڑی کی تراشیدہ شاخ تک،کوئلے کی لکیروں سے سکے کے نقش ہوتے جاتے حروف تک،چاک کی سفیدی سے دوات کے سیاہ رنگ تک کا سفر بہت خوشگوار تھا۔ میں جب تیز دھار چاقو سے تراشا جاتا تھا تو اپنے وجود سے اٹھنے والی درد کی ٹیسوں کو صرف اس لئے برداشت کرتا تھا کہ مجھ سے لیا جانے والا کام مجھے مقدس مقام تک پہنچارہا تھا۔پھر میری شکل بدلتی رہی اور میں رنگدار لبادوں میں لپیٹا جانے لگا۔ سرخ اور سبز روشنائی میرے جسم میں اتاری جاتی رہی،میں سرکار کی ترجمانی سے ہوتا ہوا صاحب علم طبقات کے ہاتھوں سے گزارا گیا تو میرے اوپر کشیدہ کاری، خودکار بٹن،گھڑیاں اور کیمرے نصب کردئیے گئے۔میں اپنی اس مشکل کو تکلیف سے برداشت کررہا تھا کہ پھر رفتہ رفتہ میرا وجود ہی خطرے میں ڈال دیا گیا مجھے چھوڑ کر لفظ تخلیق کرنے والے اپنی انگلیوں کی پوروں سے ٹچ سکرین کو چھو کر جملے ترتیب دینے لگے، الفاظ کی خوبصورتی اپنی جگہ مگر لفظ کی وہ حرمت باقی نہ رہی جو سیاہ روشنائی سے میں سفید کاغذ پر ثبت کرتا تھا۔اپنی داستان کے بہت سے گوشے میں چاہتے ہوئے بھی بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میری وجہ سے کتنے تخلیق کاروں کے سر پر ان کی تصنیف کردہ کتب کے مسودے اس شدت سے مارے گئے کہ وہ جان دے کر لفظوں کی بقا پر نئی سرخی مرتب کرگئے۔میں عینی شاہد تھا جب غاروں میں بیٹھ کر ریاضی، فلکیات، الجبرا، ارضیات اور فلسفہ پر تحقیق کی گئی تو اس کا نچوڑ میری نوک سے صفحات کی زینت بنا۔ پھر وقت کے بادشاہوں، پادریوں، راہبوں، پوپ جان پالوں اور قاضیوں نے روشنی دینے والے قلم کاروں کی آنکھیں نکال کر عمر بھر کے اندھیرے انہیں تحفے میں عطا کئے، ابن الہیشم،بو علی سینا، الخوارزمی، ف لیمنگ، گلیلیو اور قلم کے ہر پاسبان کو زندہ در گور کردیا گیا۔میں سب کچھ کہنے سے قاصر ہوں کہ اب میرا وجود اپنی زندگی کی آخری سانس کھینچ رہا ہے۔میرے اندر موجود روشنائی کو شہید کے خون سے زیادہ مقدس رتبہ دیا گیا،مگر مجھے دولت کے عوض بیچا جاتا رہا۔ مجھ سے انبیا کے قتل کے فتاوے لکھوائے گئے، میں نے الہامی کتب کو تحریر کیا،صحیفے لکھے،معتبر بیانات کو امر کیا مگر پھر دوسری طرف مجھ سے جھوٹی تاریخ لکھی گئی،ناحق قتل کے فیصلے لفظوں میں ڈھالے گئے۔میں نے فرعون کے قلم سے بچوں کے قتل عام کے احکامات ترتیب دئیے،میں نے عیسیٰ کو سولی پر چڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا، میں نے بادشاہوں کے تنخواہ دار مورخین کے ہاتھوں یرغمال بن کر قتل آل رسولؐ تک کو جائز قرار دینے کے فتوے تحریر کئے۔اب تک مجھے بے گناہوں کو سزا اور گناہگاروں کو باعزت رہائی کے حکم نامے لکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور میں لرزتے ہوئے،نہ چاہتے ہوئے بھی حکم ماننے کا پابند رہتا ہوں، مجھے میری روشنائی چیخ چیخ کر میرا مقام یاد دلاتی ہے مگر میں لا چار گی کا سہارا لے کر خاموش ہوجاتا ہوں۔مجھے یاد ہے کہ میرے خالق نے میری قسمیں کھاتے ہوئے مجھے سرفراز کیا مگر میں صاحبان علم و ہنر کے ہاتھوں سے نکل کر اقتدار کے پجاریوں کے پاس آگیا۔مجھے جھوٹ لکھنے اور جبر کی دستاویزات پر دستخط کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔میں غلط ضمنیوں، خود ساختہ تفسیروں اور متعصب پریس ریلیزوں میں استعمال ہو ہوکر تنگ آ چکا ہوں۔میں دست بستہ اپنی سیاہی کا وہی تقدس واپس مانگتا ہوں جو شہید کے خون سے زیادہ پاک تھا۔ میں دانشوروں سے ملتمس ہوں کہ سچ لکھنے کی قیمت میں سر کٹوانے کی رسم پھر سے تازہ کریں۔ مجھے میرا مقام لوٹا دیں مجھے ان قلم کاروں میں لے چلیں جو کہتے تھے۔مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کیجو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہےمرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کاجو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہےقیصر عباس صابر کا شمار اردو ادب کے معتبر تخلیق کاروںمیں ہوتا ہے،سفر ناموں،ناول اور تجزیوں پر مشتمل ان کی 20کتب شائع ہو چکی ہیں

آج کا دن

آج کا دن

سالگرہ: سدھیر(پاکستانی اداکار)پاکستان فلم انڈسٹری کے مایہ ناز اداکار سدھیر 25 جنوری 1922ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام شاہ زمان تھا، فلمی دنیا میں انہیں "لالہ" اور "جنگجو ہیرو" کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے پہلے ایکشن ہیرو کا خطاب بھی پایا۔ چار دہائیوں تک فلمی صنعت سے وابستہ رہے اور اس دوران 200 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی مقبول فلموں میں "دوپٹہ، سسی، کرتار سنگھ، بغاوت، یکے والی، جی دار، حکومت، چاچا خوامخواہ، ڈاچی، ماں پتر، چٹان، جانی دشمن، لاٹری اور ان داتا" شامل ہیں۔ سدھیر 19 جنوری 1997ء کو خالق حقیقی سے جا ملے۔انور پیرزادو(شاعر و ادیب)سندھی اور انگریزی زبان کے مشہور شاعر، ادیب اور صحافی انور پیرزادو 25 جنوری 1945ء کو سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں پیدا ہوئے۔ 1969ء میں انگریزی ادبیات میں ایم اے کے بعد سندھ یونیورسٹی میں بطور لیکچرار عملی زندگی کا آغاز کیا، بعد میں صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ انور پیرزادو کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا ہے جنھوں نے آزادیِ صحافت کی جدوجہد میں حصّہ لیا اور دو مرتبہ جیل بھی جانا پڑا۔ ان کی سندھی شاعری کا مجموعہ "اے چند بھٹائی کھے چھیجن" کے نام سے شائع ہوا۔ ان کی مرتب کردہ انگریزی کتب میں "سندھ گزیٹئر"، "لاڑکانہ گزیٹئر" اور "بے نظیر بھٹو اے پولیٹیکل بائیو گرافی" شامل ہیں۔ 7 جنوری 2007ء کو انتقال ہوا۔برسی: فاطمہ علی (پاکستانی شیف)چٹخارے دار کھانوں سے امریکیوں کو اپنا گرویدہ بنانے والی پاکستانی شیف فاطمہ علی کا شمار نیویارک کے ٹاپ کلاس شیفس میں ہوتا تھا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ ان چند پاکستانی خواتین میں شامل تھیں جو امریکہ میں کوکنگ کے سب سے معتبر ادارے "کلنری انسٹی ٹیوٹس آف آرٹس" سے فارغ التحصیل تھیں۔ "ٹاپ شیف" کا ٹائٹل جیت کرشہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ فاطمہ نے کئی غیر ملکی مقابلوں میں حصہ لے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ آخری مرحلے پر کینسر کی تشخیص ہوئی،دنیا بھر کے کھانے چکھنے کی خواہش پر امریکی میزبان ایلن ڈی جینرس نے اپنے شو میں انہیں مدعو کر کے 50 ہزار ڈالر کا چیک دیا۔25جنوری 2019ء کو صرف 29سال کی عمر میں انتقال ہوا۔پرویزرانا (پاکستانی فلم ڈائریکٹر)ہدایتکار پرویز رانا کا شمار 80ء اور 90ء کی دہائی کے صف اوّل کے ہدایتکاروں میں ہوتا ہے۔ 1976ء میں پنجابی فلم "چراغ بہادر" بنا کر پاکستانی فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور اس کے بعد کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ان کے کریڈٹ پر 46 پنجابی اور 6 اردو فلمیں ہیں جبکہ بطور پروڈیوسر فلم "مافیا" بنائی جو 1997ء میں ریلیز ہوئی۔ انہوں نے ناصرف اپنے دور کے نامور فنکاروں کے ساتھ کام کیا بلکہ بیشمار نئے فنکار بھی متعارف کرائے۔اہم واقعات : سرب جنگ،عثمانی فوج کی فتح1364ء میں آج کے دن عثمانی فوج اور صلیبی اتحاد کے درمیان ہونے والی "سرب جنگ" کا خاتمہ عیسائیوں کی شکست پر ہوا۔ اس جنگ کا مقصد عثمانیوں کو بلقانی علاقوں سے بے دخل کرنا تھا جس میں صلیبی اتحاد بری طرح ناکام ہوا۔

نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

نیل آرمسٹرانگ کون تھا؟ چاند پر قدم رکھنے والاپہلا انسان

بچپن سے آپ اور ہم چاند کا دنیاوی نام ''چندا ماموں‘‘ ہی سنتے آئے ہیں۔ ظاہر ہے یہ نام چاند سے پیار کی علامت ہے۔ ''ماموں کے گھر ‘‘ سب سے پہلے جانے والا ایک امریکی خلاء باز تھا، جسے چاند پر قدم رکھنے والا دنیا کا پہلا انسان قرار دیا جا چکا ہے۔اس انسان نے دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ زمین کو چھوڑ کر کسی سیارے یعنی چاند کو چھو کر نہ صرف دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا بلکہ تاریخ میں چاند پر قدم رکھنے والے پہلے شخص کی حیثیت سے اپنا نام درج کرا لیا۔ تاریخ اس شخص کو نیل آرم سٹرانگ کے نام سے جانتی ہے۔امریکی ایک عرصہ تک فخر سے اس بات کا اعادہ کرتے رہے کہ نظام شمسی کے سیارے زمین کے گرد گھومنے والے چاند کی سطح پر پہلا قدم ایک امریکی کا تھا جس کا نام نیل آرم سٹرانگ تھا۔نیل آرم سٹرانگ 5 اگست 1930ء کو امریکی ریاست اوہایو میں پیدا ہوئے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے خاندان کا تعلق جرمن سے تھا۔ نیل نے صرف 15سال کی عمر میں اپنی بے پناہ خود اعتمادی اور ذہانت کے سبب ہوا بازی کا سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا تھا جبکہ عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس وقت تک ڈرائیونگ لائسنس بھی حاصل نہ کر پائے تھے۔ 26 جنوری 1949ء کو نیل نے نیوی جوائن کر لی اور 16اگست 1950 جب نیل ابھی بیس برس کے تھے وہ ایک مکمل پائلٹ بن چکے تھے۔ چنانچہ 29 اگست 1951ء کو نیل نے پہلی مرتبہ کورین جنگ میں اپنی مہارت کے جوہر دکھائے۔ ان کی مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 3 ستمبر 1951ء کو وونسن کے مغربی حصہ میں انہوں نے 560 کلو میٹر کی رفتار سے سطح زمین کے انتہائی قریب آ کر بمباری کی جس سے ان کی مہارت اور دلیری کا پتہ چلتا تھا۔ کوریا کی اس جنگ میں نیل نے 121 گھنٹے ہوا میں گزارے۔ اس جنگ میں انہوں نے کل 78 اڑانیں بھریں۔ ان کی دلیری اور پیشہ ورانہ کارکردگی کے باعث انہیں متعدد اعزازات اور انعامات سے نوازا گیا۔ آرم سٹرانگ ابھی 22سال کے تھے جب 23 اگست 1952ء کو انہوں نے نیوی کو خیر آباد کہہ دیا۔نیوی چھوڑنے کے بعد نیل واپس پرڈیو آگئے۔جہاںانہوںنے یونیورسٹی آف ساؤتھ کیلیفورنیا سے گریجویشن کرنے کے بعد انڈیانا کی پرڈیو یونیورسٹی سے ایروناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد یونیورسٹی آف انجینئرنگ سدرن کیرولینا سے ایروسپیس انجینئرنگ میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔آرم سٹرانگ نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1962ء میں ناسا جوائن کر لیا اور پہلی بار 1966ء میں ناسا کی خلائی مہم ''جیمینائے 8‘‘ میں اپنا پہلا خلائی سفر شروع کیا۔ یوں نیل اپنے پہلے خلائی سفر میں بھیجے گئے امریکہ کے پہلے شہریوں میں سے ایک بنے۔ اس مہم میں انہوں نے ساتھی پائلٹ ڈیوڈ اسکاٹ کے ساتھ دو انسان بردار خلائی جہازوں کو متصل کرنے کا کام سر انجام دیا۔نیل آرم سٹرانگ کا دوسرا خلائی سفر 20 جولائی 1969ء ''اپالو 11‘‘ کا وہ تاریخی مشن تھا جس میں انہوں نے اپنے ساتھی ہزایلڈرن کی رفاقت میں لگ بھگ اڑھائی گھنٹے چاند پر چہل قدمی کی تھی۔ اس دوران ان دونوں نے چاند کی سر زمین کا جائزہ لیا، تصاویر لیں، مٹی اور پتھروں کے نمونے جمع کئے۔ اس کے بعد انہوں نے چاند پر امریکی پرچم لہرایا اور وہاں پر ایک تختی نصب کی جس پر یہ تحریر درج تھی''یہ وہ جگہ ہے جہاں سیارہ زمین سے آکر انسان نے پہلی مرتبہ قدم رکھا، جو پوری انسانیت کیلئے امن کا پیغام لے کر یہاں آیا‘‘نیل آرم سٹرانگ نے جب پہلی مرتبہ چاند پر قدم رکھا تو ان کے الفاظ جو ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے، تاریخ کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ ان کے الفاظ تھے ''ایک انسان کا یہ چھوٹا سا قدم انسانیت کے لئے ایک لمبی جست ہے‘‘۔اس کے بعد دونوں خلاباز خلائی گاڑی ''ایگل‘‘ کے ذریعے چاند کا چکر لگاتے ہوئے واپس ''اپالو 11‘‘ جہاز تک پہنچے اور پھر 24جولائی 1969ء کو واپس زمین پر اترے۔''اپالو11‘‘ نیل کا آخری خلائی سفر تھا۔ اس کے بعد انہیں ناسا کے ایڈوانس ریسرچ اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ یہ عہدہ تکنیکی کے بجائے خالصتاً دفتری امور سے متعلق تھا۔ جو نیل کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ چنانچہ ایک سال بعد ہی نیل نے اس عہدے کو خیر آباد کہہ دیا اور سنسناٹی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خلائی انجینئرنگ خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں۔25اگست 2012ء کو نیل آرم سٹرانگ جو پچھلے کچھ عرصہ سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے 82 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما نے کہا '' آنجہانی نیل آرمسٹرانگ نہ صرف اپنے دور بلکہ ہر دور کے ہیرو تھے، جنہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہے گا‘‘۔مائیکل کولنز جو اپالو مشن 11میں نیل کے معاون پائلٹ اور ساتھی تھے نے کہا ''وہ ایک نفیس اور شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ میں ان کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔‘‘ناسا کے سربراہ چارلس بولڈن نے کہا ''وہ امریکہ کے عظیم محققین میں سے تھے۔ اور جب بھی خلائی سائنس کی تاریخ لکھی جائے گی، نیل آرم سٹرانگ کا نام اس تحریک میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔‘‘

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

جب پاکستان میں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں، کئی پاکستانی ہدایتکار اس میدان کے شہسوار ٹھہرے

 ندیم اور قوی خان کی آرٹ فلم ''مٹی کے پتلے‘‘ کو روس میں ایوارڈ ملاریاض شاہد کی ''سسرال‘‘ کوپاکستان کی عظیم فلموں میں شمار کیاجاتا ہےایک زمانے میں انڈیا کی آرٹ فلموں کا بڑا چرچا تھا۔80ء اور 90ء کی دہائی میں بالی وڈ میں بے شمار آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ آرٹ فلم کیا ہے؟ اس پر مختلف آراء ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ آرٹ فلم بہرحال وہ فلم ہے جو حقیقت کے قریب ہوتی ہے اور اس میں کمرشل ازم مفقود ہوتا ہے۔ یعنی یہ وہ فلم ہے جو تجارتی بنیادوں پر نہیں بنائی جاتی۔ انڈیا میں بہت سی آرٹ فلمیں ایسی بھی بنائی گئیں جن کی عالمی سطح پر پذیرائی کی گئی اور ان فلموں کے اداکاروں نے بھی بالی وڈ کے اعلیٰ ترین ایوارڈ حاصل کئے۔ اس دور میں جو آرٹ فلمیں مشہور ہوئیں۔ ان میں ''نشانت، چکرا، پرش، منڈی، پار، سلام بمبے، مرچ مصالحہ، منتھن، گدھ، گمن، کملا، یہ نزدیکیاں،آکردش، ایک پل، اردھ ستیہ، اندھا یدھ، ہولی اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں۔ ویسے تو دلیپ کمار کی فلم ''شکست‘‘ اور ''سگنیہ‘‘ کو بھی آرٹ فلم کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح امتیابھ بچن کی فلم ''سوداگر‘‘ اور'' میں آزاد ہوں‘‘ بھی شاید آرٹ فلموں کی تعریف پر پورا اترتی ہیں۔ بالی وڈ کے لیجنڈ اداکار دلیپ کمار نے تو آرٹ فلم کی اصطلاح تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں فلم اچھی ہوتی ہے یا بری۔آرٹ فلموں کے حوالے سے بالی وڈ کے جن فنکاروں نے شہرت حاصل کی ان میں نصیر الدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی، سمیتا پاٹیل، گلبھشن، گھربیندرا، فاروق شیخ، دپتی نول، گرش کرنارڈ، مارک زبیر اور دیگر کئی فنکار شامل ہیں۔ ڈمپل کپاڈیا نے بھی ''ردالی‘‘ میں زبردست اداکاری کی تھی اور یہ ثابت کیا تھا کہ وہ صرف کمرشل فلموں کی ہی اداکارہ نہیں، بلکہ آرٹ فلموں میں بھی اپنے فن کا لوہا منوانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بالی وڈ میں بننے والی آرٹ فلموں کے معروف ہدایتکاروں میں ستیہ جیت رے، سعید مرزا، گوند نہلانی اور شیام بینگل کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بہت ذہین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔کیا پاکستانی فلمی صنعت نے بھی آرٹ فلمیں بنائیں؟ اس کا جواب اثبات میں ہے۔ یہ فلمیں اس زمانے میں بنائی گئیں جب کمرشل اور آرٹ فلموں کی اصطلاحیں اتنی عام نہیں تھیں آرٹ فلم کی تعریف جو بعد میں کی گئی۔ اسے مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ واقعی یہاں بھی آرٹ فلمیں بنائی گئیں۔ ان فلموں میں جاگو ہوا سویر، مٹی کے پتلے، بدنام، نیلا پربت، دھوپ اور سائے اور سسرال شامل ہیں۔ خلیل قیصر کی فلم 'دی کلرک‘‘ کو بھی اس صف میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ''سسرال‘‘ کے علاوہ باقی کوئی فلم بھی باکس آفس پر اتنی کامیاب نہ ہو سکی لیکن فلم کے بڑے بڑے ناقدین نے ان فلموں کے موضوعات کے حوالے سے انہیں بہت سراہا۔''مٹی کے پتلے‘‘ میں ندیم اور قوی خان جیسے فنکار شامل تھے اور اس فلم کو روس میں ایوارڈ ملا۔ یہ فلم مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے بنائی گئی تھی۔ ''نیلا پربت‘‘ معروف صحافی اور دانشور احمد بشیر کی تخلیق تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کے فلم بینوں کو سمجھ نہیں آئی تھی۔ یعنی وہ اس فلم کے اچھوتے موضوع کا صحیح معنوں میں ادراک ہی نہ کر سکے۔ اس فلم میں نیلو، محمد علی اور آغا طالش نے اہم کردار ادا کئے تھے۔ ''سسرال‘‘ کو بلاشبہ پاکستان کی عظیم ترین فلموں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ یہ ریاض شاہد کی ذہانت کا کمال تھا کہ ایسے انوکھے موضوع پر فلم بنائی کہ لوگ عش عش کر اٹھے۔ اس فلم کے گیت منیر نیازی نے لکھے اور موسیقی حسن لطیف نے دی۔ بھارت کے مشہور اداکار بلراج ساہنی نے ''سسرال‘‘ کو پاکستان کی پہلی آرٹ فلم قرار دیا تھا۔ اگرچہ پاکستان میں آرٹ فلمیں بہت کم بنائی گئیں لیکن اپنے دور کے حوالے سے ان کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔آج کی نوجوان نسل کو یہ علم ہونا چاہیے کہ پاکستانی فلمی صنعت میں بھی بڑے بڑے ہدایتکار، سکرپٹ، رائٹر، اداکار اور ہدایتکار موجود تھے۔ جنہوں نے اپنی لیاقت اور صلاحیتوں کا ایسا مظاہرہ کیا کہ آج بھی ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ ہدایتکار اقبال شہزاد کو کیسے بھلایا جا سکتا ہے جنہوں نے سعادت حسن منٹو کے افسانے''جھمکے‘‘ کو سلولائیڈ کے فتے پر منتقل کیا اور ''بدنام‘‘ جیسی یادگار فلم تخلیق کی۔ جن لوگوں کو یہ فلم ابھی تک یاد ہے انہیں علائو الدین کا یہ مشہور مکالمہ بھی یقیناً یاد ہوگا''کہاں سے آئے ہیں یہ جھمکے، کون لایا ہے یہ جھمکے‘‘؟ اب تو خیر سب کچھ قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن اس بات سے کون اختلاف کر سکتا ہے کہ بہترین کام ہمیشہ زندہ رہتا ہے اور اسے سرانجام دینے والوں کا نام بھی تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔(عبدالحفیظ ظفر سینئر صحافی ہیں اورروزنامہ ''دنیا‘‘ سے طویل عرصہ سے وابستہ ہیں)فرشتوں کے لکھے پہ پکڑے جانے والے   

سویٹ ہوم سے سمارٹ ہوم تک! گھر میں نصب ہر چیز کا کنٹرول اینڈ رائیڈ فون میں ہوگا

سویٹ ہوم سے سمارٹ ہوم تک! گھر میں نصب ہر چیز کا کنٹرول اینڈ رائیڈ فون میں ہوگا

سمارٹ گھر کیا ہوتا ہے؟ ایسا گھر جہاں انٹرنیٹ، آرٹیفشل انٹیلی جنس، روبوٹ، سینسرز، کیمروں، الیکٹرانک ڈیوائسز، سمارٹ فونز اور کمپیوٹرزکی حکومت ہو گی سمارٹ گھر کہلائے گا۔سمارٹ گھر اپنے مالکان کے بارے میں انسانوں سے زیادہ جانتے ہوں گے، ان کی آواز، انگلیوں کے نشان، آنکھوں کی پتلیوں کے رنگ اور ان کے چہرے سب مل کر گھر میں لگے آلات پر اپنا حکم چلائیں گے۔ روبوٹ آپ کے گھروں کی سروسز مثلاً صفائی، دھلائی اور خریداری کریں گے۔ ڈرونز سمارٹ گھروں میں ادویات اور گروسری ڈلیور کریں گے۔ سینسرز گھروں میں لگے ایئر کنڈیشنرز، باتھ روم شاورز، گیزر، ٹی وی چلائیں گے۔ گھر کے درجہ حرارت کو کنٹرول کریں گے۔ آپ اپنے گھر کے قریب پہنچیں گے تو گھر کا گیٹ کھل جائے گا اور اس کے ساتھ ہی گھرکے لاک، لائٹس اور اے سی سب کچھ خودبخود آن ہو جائے گا۔ اور ان سب چیزوں کا کنٹرول آپ کے ہاتھ میں پکڑے ایک اینڈرائیڈ فون میں ہو گا۔ایک مارکیٹ ریسرچ کمپنی کے مطابق اس وقت 12ارب سے زیادہ ڈیوائسز ''آئی او ٹی‘‘ کے ساتھ منسلک ہو چکی ہیں۔ اگر آپ کو آفس جا کر یاد آتا ہے کہ آپ گھر کا اے سی یا لائٹ بندکرنا بھول گئے ہیں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں آپ اپنے موبائل فون سے اپنے سمارٹ گھر کا اے سی یا لائٹ بند کر سکتے ہیں۔ سمارٹ گھر میں سینسرز اور سرورز ہوتے ہیں جو گھر میں نصب ایک سنٹرل ہب یا گیٹ وے کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ ہم کہیں بھی ہوں اپنے سمارٹ فون سے اس گیٹ وے کو میسیج کر دیتے ہیں ہمارا سمارٹ فون اور گھر دونوں ایک کلائوڈکے ساتھ آپس میں منسلک ہو جاتے ہیں۔ تمام ڈیوائسز اسی گیٹ وے کے ذریعے آپس میں کنٹیکٹ کرتی ہیں۔ سمارٹ گھرمیں ہم ''IFTTT‘‘ کی مدد سے اپنی پسند کی کنڈیشنز یا آپشن بھی سیٹ کر سکتے ہیں جیسے کہ اگر ہمارے گھر کا درجہ حرارت 25ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو گھر کا اے سی خود بخود آن ہو جائے گا۔ گھر کے لان میںگھاس کا موئسچر اگر کم ہوجاتا ہے تو پانی کا شاور خود بخود آن ہو جائے گا۔ہم اپنے گھر کو کہیں پر بھی بیٹھ کر مانیٹر کر سکتے ہیں، گھر کی یوزر پریفرنسز سیٹ کر سکتے ہیں۔ دروازوں کے لاک، گیزر کا تھرموسٹیٹ، روبوٹ ویکیوم کلینر ہر چیز انٹر نیٹ کے ساتھ منسلک ہوگی۔ یہ تمام ڈیوائسز ایمازون کی الیکسا گوگل کے اسسٹنٹ اور ایپل کے سری جیسے ڈیجیٹل اسسٹنٹس کی مدد سے خدمات انجام دیتی ہیں۔ فیس بک کی جگہ میٹاورس کے آنے کی دیر ہے آپ اپنے گھر میں بیٹھے ڈیجیٹل اوتار کی مدد سے ہزاروں میل دور پھر رہے ہوں گے۔سمارٹ گھر کو چلانے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ایک اچھا سا انٹر نیٹ کنکشن درکار ہوگا جو بلاتعطل اپنی سروسز فراہم کرسکے کیونکہ اگر انٹرنیٹ کی سروس مہیا ہو گی تو سمارٹ گھر کے دروازے آپ پر کھل سکتے ہیں۔ انٹر نیٹ نہیں آرہا تو شاید آپ سمارٹ گھرکے اندر ہی قید ہو جائیں، گھر سے باہر ہیں تو انٹرنیٹ سروس بحال ہونے تک آپ کو باہر ہی انتظار کرنا پڑے گا۔سمارٹ گھر میں رہنے والے خاندان کے ہر فرد کو جدید ڈیوائسز اور ریموٹ کنٹرولز کا درست استعمال آنا چاہئے۔ جس فرد کو بھی ان جدید ڈیوائسز کے استعمال یا گائیڈ لائنز سے آگاہی نہ ہوئی اس کیلئے ایک سمارٹ گھر میں کافی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔سمارٹ گھروں کے حوالے سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ اگر ان کا ڈیٹا ہیک ہو گیا تو ایساگھر انتہائی غیر محفوظ تصور ہو گا۔ گویا آپ کا سمارٹ گھر ایک ہیکر کے رحم و کرم پر ہوگا۔ اگر اسے گھر کے پاس ورڈ تک رسائی ہو گئی تو وہ بہت نقصان پہنچاسکتا ہے۔ اس لیے جب تک سمارٹ گھروں میں فول پروف سائبر سکیورٹی نہیں دی جائے گی پورا گھر غیر محفوظ تصور ہوگا۔آٹومیشن کی طرف جانے سے ہمیں نِت نئی سہولتیں تومیسر آرہی ہیں مگر ان سہولیات کی وجہ سے ہم جسمانی طورپر سستی اور کاہلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ٹی وی کا چینل بیٹھے بیٹھے ریموٹ کنٹرول سے بدل دیتے ہیں۔ بیڈ پر لیٹے لیٹے ہی پنکھا آن آف کیا جا سکتا ہے۔ جب سمارٹ گھروںمیںہر چیز سمارٹ فون، ریموٹ یا آواز کے سگنل کی تابع ہو گی تو جسمانی نقل وحرکت بھی اتنی کم ہوتی جائے گی جو کسی طور ہماری صحت کے لیے مفید نہیں ہے۔سمارٹ گھروںمیں نصب ہونے والی ڈیوائسزمہنگی ہونے کی وجہ سے گھر کے مالک کی جیب پر خاصا بوجھ ثابت ہوسکتی ہیں ان کی کوالٹی اور معیار سے ہی گاہک میںاعتماد اور بھروسہ پیدا ہوگا۔گھٹیا معیار کی ڈیوائسز ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔ جس کمپنی کی ڈیوائسز استعمال میں آسان اور معیاری اور جدید ہوں گی گھر کا مالک ہمیشہ انہیں خریدنے کو ہی ترجیح دے گا۔سمارٹ گھروں میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جیسے ہی ٹیکنالوجی تبدیل ہوتی ہے ڈیوائسز کام نہیں کرتیں۔ مثلاً کچھ گھروں کے لاک صرف ایپل کے فون کے ذریعے کام کرتے ہیں کسی اینڈرائیڈ فون پر بالکل بے کار ثابت ہوتے ہیں۔ کئی تھرمو سٹیٹس گوگل کے Assistant کی مد دسے تو کام کرتے ہیں لیکن Siriکے ساتھ نہیں چلتے۔ ایپل سے چلنے والے لاک اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والی فیملی کے لیے بالکل بیکار ہیں۔تاہم ٹیک انڈسٹری کے ایپل، سام سنگ، گوگل اور ایمازون جیسے بڑے کھلاڑیوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیا ہے۔ انہوں نے ہوم ٹیکنالوجی کو اپڈیٹ کرتے ہوئے ایک نیا سٹینڈرڈ متعارف کرایا ہے جسے Matter کا نام دیا گیا ہے جو سمارٹ گھر میں استعمال ہونے والی 100سے زائد ڈیوائسز کو ایک دوسرے کے ساتھ رابطے یعنی کمیونیکیشن کے قابل بنا دیتا ہے خواہ وہ کسی بھی برانڈ کی ہوں۔ اس لیے آئندہ آپ جب اپنے سمارٹ گھر کیلئے کوئی لاک خرید رہے ہوں گے تو اس کے اوپر لکھا ہوگا کہ یہ Matterکے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔سمارٹ گھر کاالارم کلاک آپ کو جگانے کے ساتھ ساتھ آپ کے کمرے کی لائٹس کو بھی روشن ہونے کا سگنل دے دے گا۔ آخری بات یہ کہ چونکہ اس میں تمام برقی آلات صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال ہو ں گے ورنہ خود بخود بند ہو جائیں گے اس لیے بجلی اور توانائی کی مد میں کافی بچت ہو گی۔ گھر میں اگرکسی جگہ سے گیس لیکج ہوتو فوراً ایک الارم بجنا شروع ہو جائے گا اور اہل خانہ کواس خطرے سے آگاہ کردے گا۔سمارٹ ہوم میں رہنے والے تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل آن لائن رابطے میں رہتے ہیں۔ ملازمت پر جانے والے والدین گھر میں موجود بچوں سے رابطہ رکھ سکتے ہیں اور ان کی آن لائن نگرانی کر سکتے ہیں۔عمر رسیدہ اور معذور افراد اپنے موبائل فون کی مدد سے پورے گھر کی ضروریات سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ کسی ایمرجنسی کی صورت میں اپنے قریبی لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیںجو انہیں بروقت ریسکیو کر سکتے ہیں۔