نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسکاٹ لینڈکےشہرگلاسگومیں آزادی پسندوں کامارچ،برطانوی میڈیا
  • بریکنگ :- مظاہرین کااسکاٹ لینڈکی آزادی،بورس جانسن حکومت کےخاتمے کا مطالبہ
  • بریکنگ :- احتجاج میں شریک افرادکےاسکاٹ لینڈپرچم تھامےآزادی کےحق میں نعرے
Coronavirus Updates

بھرپور زندگی جینے کا راز، کمزوریوں کو نظرانداز کریں، اچھائیوں پر توجہ دیں

بھرپور زندگی جینے کا راز، کمزوریوں کو نظرانداز کریں، اچھائیوں پر توجہ دیں

اسپیشل فیچر

تحریر : بینش جمیل


ہم میں سے اکثر لوگ صرف اپنے مدار میں زندگی گزارتے رہتے ہیں اور بہت جلد خود کو بیکار، تھکا ہوا اور بیزار محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کیلئے زندگی ایک انعام نہیں بلکہ ایک عذاب ہوتی ہے ۔حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہ زندگی جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے بہت خوبصورت اور قیمتی ہے، اسے ضائع مت کیجئے۔اگر آپ خود کو سمجھنا اور جاننا چاہتے ہیں تو یہ کام آپ آج بھی کر سکتے ہیں ۔ درج ذیل دی گئی چند تجاویز آپ کیلئے خود کو جاننے اور سمجھنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔
1:۔ہم سب یہاں اس جہاں میں کسی خاص مقصد کے تحت موجود ہیں۔ ہر شخص دوسرے سے مختلف ہے اور یہ مختلف ہونا ہی ایک اہم بات ہے۔ ہو سکتا ہے ابھی آپ پر اس دنیا میں آنے کا مقصد واضح نہ ہو لیکن اس کو سمجھنا اور واضح کرنا ہی ایک چیلنج ہے۔
2:۔ذات کی تکمیل کا سب سے بڑا راز''خود کو جاننا‘‘ ہے۔ جب تک آپ اپنی ذات سے آشنا نہیں ہوں گے، آپ ترقی نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی آپ زندگی کا بھرپور لطف اٹھا سکیں گے۔ جب تک آپ کو اپنی کمزوریاں، اپنی قوت، اپنی اچھائیاں، اپنی پسند و ناپسند خود معلوم نہیں ہوگی آپ کیسے کسی کام کو بہتر طور پر کر سکیں گے ۔یہی وجہ ہے کہ اس معاشرے میں بے شمار لوگ بے سکونی اور بے چینی کی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ خود کیا بہتر کر سکتے ہیں ۔ جب ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہماری کمزوریاں یا ہماری ناکامی کی وجہ کیا ہے تو ہم انہیں درست کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہیں سے ترقی کا زینہ شروع ہوتا ہے۔
3:۔اپنی ذات کی تکمیل کا دوسرا راز اس علم کا استعمال ہے جو آپ کو اپنی ذات کے بارے میں ہے کہ آپ کی فطرت کیسی ہے اور آپ حقیقتاً کس طرح کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ کو خود کے بارے میں علم ہو گا اتنا ہی آپ کی زندگی کا مقصد آپ پر واضح ہوتا چلا جائے گا۔ جتنا آپ کو اپنی قوتوں کا علم ہوگا اتنا اور اسی طرح سے آپ ان کا استعمال کریں گے اور یہی راستہ آپ کو ترقی کی بلندیوں کی طرف لے جائے گا۔
4:۔اپنی کمزوریوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی طاقت اور اچھائیوں پر توجہ دیں۔ زندگی میں جو کچھ آپ ٹھیک طرح سے نہیں کر پائے اس پر رونا چھوڑ دیں اور آگے کی سوچیں۔ وہ دیکھئے جو ممکن ہے، جو ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ کی مثبت سوچ ہی دراصل یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ کیا ہیں یہ آپ کی شخصیت کا آئینہ ہے۔
5:۔آپ کی ذات میں جو اچھائیاں اور مثبت پہلو موجود ہیں ان کو جاننے اور سمجھنے کے بعد ان کو مزید نکھاریں۔ انہیں اس قدر پالش کریں کہ آپ کی ذات کے منفی پہلو اس میں چھپ جائیں۔
6:۔ زندگی کی ان چھوٹی چھوٹی باتوں، لمحات یا چیزوں پر خاص توجہ دیں جو آپ کو خوشی فراہم کرتی ہیں۔ ان لمحات کو نوٹ کر لیں تاکہ آپ ایک خوشگوار زندگی گزار سکیں۔ اپنی زندگی کی ان چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی توجہ دیں جو آپ کی اداسی یا مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ جن سے آپ لطف اندوز نہیں ہوتے اور پھر ان چیزوں، ان لمحات یا ان لوگوں سے دور رہنے یا ان واقعات کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔
7:۔زندگی میں کئے گئے اچھے کاموں( جن پر آپ کو خود فخر ہے) کو کسی جگہ نوٹ کر لیں ۔ یہ واقعات جب بھی آپ کی نظر سے گزریں گے آپ اچھا محسوس کریں گے۔
8:۔ اپنی قدر کریں، خود کو سراہیں، اپنے اچھے کاموں پر خود کو داد دیں۔ جب آپ مثبت ہوں گے تو آپ کے گرد موجود لوگ بھی آپ کو پسند کرینگے۔
ہمیشہ اپنی سوچ مثبت رکھیں، اپنے بارے میں بھی اور دوسروں کے بارے میں بھی۔ خود کو جانیں گے تو دوسروں کو بھی جان اور پرکھ سکیں گے۔ یہیں سے آپ کو زندگی گزارنے کا طریقہ اور راستہ مل سکے گا۔ اپنے دوستوں، اساتذہ اور اچھی کتابوں سے مشورہ لیں۔ سیکھنے کا عمل زندگی میں کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جتنا زیادہ جانیں گے اتنی ہی زندگی آسان ہوتی جائے گی اور آپ کو آپ کی زندگی پہلے سے زیادہ پر لطف، پرسکون اور بامقصد محسوس ہو گی۔ آپ زندگی سے بھرپور لطف اٹھا سکیں گے۔
بینش جمیل پشاور کے ایک تعلیمی ادارے
میں معلمہ ہیں اور کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

یادرفتگان، شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد، اردو ادب کی کثیر الجہات شخصیت

بہت سی صفات جو انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی عطا کر دی گئیں، ان میں ایک نمایاں صفت زبان ہے۔ ان گنت مخلوقات کو الگ الگ زبانیں عطا کرنے والے نے انسان سے خصوصی محبت فرمائی اور اسے ایک سے زیادہ زبانیں بولنے اور سمجھنے کی طاقت سے نوازا۔ زبانوں کو ارتقا کے مراحل سے انتہا تک پہنچانے کے لیے شاعر اور ادیب پیدا کئے جاتے رہے۔ یہی سلسلہ چلتے چلتے جب اردو زبان تک پہنچا تو اس کے لئے عظیم مرقع نگار، فلالوجی کے ماہر، معروف اخبار نویس، جدید فارسی کے استاد کامل، ماہر تعلیم، نامور انشاء پرداز، جدید نظم کے بانی و مجدد شمس العلماء مولانا محمد حسین آزاد کا انتخاب کیا گیا۔مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوںتب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیںمولانا محمد حسین آزاد، اردو کے پہلے شہید صحافی محمد باقر کے گھر 10جون 1830ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ والد کی شہرت اور وقار ''دہلی اردو اخبار‘‘ تھا۔ جس کا سفر 1836ء سے شروع ہو کر 1857ء میں اختتام پذیر ہوا۔ مولانا آزاد کو بچپن سے ہی ادبی ماحول میسر رہا اور ابراہیم ذوق کی شاگردی نصیب ہوئی۔ اس لیے آپ لفظ کی طاقت اور خوبصورتی سے مکمل طور پر واقف تھے جبکہ طبیعت میں نازک مزاجی اور حساس پن زیادہ تھا۔ ان دونوں خوبیوں کی بدولت آپ کا تخیلی دنیا آباد کر لینا فطری عمل تھا۔ اس تخیل کو نثر کی صورت عطا کرتے ہوئے پورے کا پورا منظر ہی کاغذ پر اتار لیتے تھے کہ آج بھی پڑھنے والے کو اپنے سامنے، وہ سب کچھ حقیقت نظر آتا ہے۔ان کی نثر میں روانی سلاست اور فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے۔ مرقع نگاری کرتے ہوئے وہ تصوراتی تصویروں میں رنگ بھرنے کیلئے موقع محل کی مناسبت سے الفاظ و تراکیب کا خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔مولانا نے ایسا طرز ادا تخلیق کیا جس کی تقلید نہیں کی جا سکتی۔ آپ ''جدید شاعرانہ نثر‘‘ کی پہلی اور اہم مثال ہیں۔ آپ الفاظ کے صوتی اثرات کو کام میں لاکر عبارت میں موسیقی اور ترنم پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کی'' نیرنگ خیال‘‘ ہو یا پھر ''آب حیات ‘‘کسی کو بھی، کہیں سے بھی کھول کر پڑھنا شروع کردیں۔ آپ لفظوں کے حسن سے محظوظ ہوں گے۔ آپ کی نظریں لفظوں کو چومتی ہوئی آگے بڑھتی چلی جائیں گی۔ دل کی دھڑکنیں تک مولانا کے اسلوب میں ڈھل جائیں گی۔ لفظوں کا طلسم آپ پر ایسی کیفیت طاری کر دے گا کہ آپ کو ہر لفظ میں اس کا منظر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ الفاظ اجسام کی صورت آپ کے روبرو مسکرا رہے ہوں گے اور پھر ایسی حالت سے باہر نکلنا، کتاب کو بند کرنا، دل و دماغ کے لیے محشر برپا کر دینے کے مترادف بن جائے گا۔مولانا آزاد کی جملہ بندی، الفاظ کی نشست و برخاست قاری کو اپنے سحر میں قید کر لیتی ہے اور پھر آزاد کا قیدی کبھی آزاد نہیں ہوتا۔ بطورنمونہ ایک اقتباس ملاحظہ ہو۔''سودا کے منہ سے رنگ رنگ کے پھول جھڑتے تھے۔ میر بد دماغی اور بے پروائی سے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے، شعر پڑھتے اور منہ پھیر لیتے۔ درد کی آواز درد ناک دنیا کی بے بقائی سے جی بیزار کیے دیتی تھی۔ میر حسن سحر بیانی سے پرستان کی تصویر کھینچتے تھے۔ انشاء اللہ خان انشاء قدم قدم پر نیا بہروپ دکھاتے تھے۔ ناسخ کی گلکاری چشم آشنا معلوم ہوتی اور اکثر جگہ گلکاری اس کی عینک کی محتاج تھی۔ مگر آتش کی زبان اسے جلائے بغیر نہ چھوڑتی۔ مومن کم سخن تھے مگر جب کچھ کہتے تھے تو جرات کی طرف دیکھتے تھے‘‘جس طرح موبائل اور دیگر ڈیوائسز ہوا میں موجود سگنل اپنی طرف کھینچتی ہیں۔ بالکل اسی طرح مولانا آزاد کا قلم بھی جیسے ہی کاغذ کو چھوتا تو گویا سرکٹ مکمل ہوگیا ہے۔ اور آسمانِ تخیل میں معلق الفاظ کرنٹ فلو کی طرح کاغذ پر بہہ نکلتے۔ یہی وجہ تھی کہ آزاد کی آزادانہ طبیعت نے قلم کو پوری آزادی سے برتا۔ وہ صرف ایک صنف تک محدود نہیں رہے بلکہ انشائیہ، تاریخ، جدید نظم، شاعرانہ نثر ، تمثیل نگاری، مکالمہ نگاری اور تذکرہ نگاری بھی کرتے چلے گئے۔ اردو ادب کو گراں قدر تصانیف سے نوازا جن میں آب حیات، درباراکبری، سخندان فارس، ڈرامہ اکبر، سیر ایران، نگارستان فارس، نیرنگ خیال، دیوان ذوق، مکاتیب آزاد، مقالات آزاد، نظم آزاد اور حمکدہ آزاد شامل ہیں۔آپ کا شمار اردو کے عناصرخمسہ میں ہوتا ہے۔ سرسید، نذیر احمد، شبلی اور حالی جیسے ہم عصر ہونے کے باوجود، اپنا الگ اور نمایاں مقام بنانا، ایک ایسی کرامت ہے جو مولانا آزاد کے علاوہ کسی دوسرے کے حصے میں نہیں آئی۔ادب کی انھی خدمات کے عوض حکومت ہند نے 1887ء میں آپ کو شمس العلماء کا خطاب دیا۔مولانا آزاد پہلے شخص ہیں جنہوں نے لسانی موضوع کو اٹھایا۔ ماہر تعلیم ہونے کے حوالے سے کئی ایک درسی اور تعلیمی کتب لکھیں۔ جن میں اردو کی پہلی کتاب، اردو کی دوسری کتاب، فارسی کی پہلی کتاب، فارسی کی دوسری کتاب، جامع القواعد، قصص ہند، نصیحت کا کرن پھول۔ حکایاتِ آزاد، شہزادہ ابراہیم کی کتاب، جانورستان اور لغت آزاد شامل ہیں۔ علمی اور ادبی حوالے سے آپ نے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔مولانا آزاد شاعر، ادیب اورعظیم مفکر تھے۔ آپ نے اردو ادب کو تکلف، تصنع اور پرشکوہ الفاظ کی بھیڑ سے آزاد کرانے کے لیے بڑا کام کیا۔ آپ نے موضوع کی اہمیت اور متن کی سادگی و مانوسیت پر زور دیا۔ آپ ادب میں حقیقت نگاری، بے تکلفی اور سادگی کے قائل تھے۔مولانا آزاد کا تخیل اس قدرحسین اور بلند تھا کہ الفاظ آپ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔آزاد کی تصانیف کا مطالعہ کیا جائے تو طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے۔ لیکن جب ان کی زندگی پر نگاہ ڈالی جائے تو احساس غم سے گزرنا پڑتا ہے۔ والد گرامی کو پھانسی دیے جانے کے صدمے کے علاوہ بھی آپ کو کئی دکھ جھیلنے پڑے۔ 14 بچوں میں سے یکے بعد دیگرے 13 بچے فوت ہوگئے۔ بیٹی جس سے سب سے زیادہ پیار تھا اس کی وفات سے آپ کو ناقابل برداشت غم پہنچا اور ذہنی طور پر شدید جھٹکا لگا۔ سفر ایران سے واپس آتے ہوئے آپ اونٹ سے سر کے بل نیچے گرے تو ایک پسلی ٹوٹ گئی اور ساتھ ذہنی عارضے کا بھی شکار ہوگئے۔ 1890ء سے 1910ء تک 20 سال اسی حالت جنون میں رہ کر 22 جنوری بمطابق 9 محرم الحرام کو اردو ادب کا یہ بے مثال ستارہ غروب ہوگیا۔آپ کی وفات پر حالی نے اپنے پرملال دل سے آپ کو یوں خراج پیش کیا:آزاد وہ دریائے سخن کا دْر یکتاجس کی سخن آرائی پر اجماع تھا سب کاہر لفظ کو مانیں گے فصاحت کا نمونہجو اس کے قلم سے دمِ تحریر ہے ٹپکاملکوں میں پھرا مدتوں تحقیق کی خاطرچھوڑا نہ دقیقہ بھی کوئی رنج و تعب کادیکھا نہ سنا ایسا کہیں اہل قلم میںتصنیف کا، تدوین کا، تحقیق کالپکاصحت میں علالت میں اقامت میں سفر میںہمت تھی بلا کی تو ارادہ تھا غصب کاقرض اپنا ادا کرکے کئی سال سے مشتاقبیٹھا تھا کہ آئے کہیں پیغام طلب کاآخر شب عاشورا کو تھی جس کی تمناآ پہنچا نصیبوں سے بلاوا اس رب کاتاریخ وفات اس کی جو پوچھے کوئی حالیکہہ دو کہ "ہوا خاتمہ اردو کے ادب کا"انجمن پنجاب کی بنیاد ڈالنے کی غرض سے منعقدہ اجلاس 19 اپریل 1874 ء میں آپ نے لیکچر میں کہا:ـ''فصاحت اسے نہیں کہتے کہ مبالغے اور بلند پردازیوں کے بازوں سے اڑے۔ قافیوں کے پروں سے فر فر کرتے گئے۔ لفاظی اور شوکتِ الفاظ کے زور سے آسمان پر چڑھ گئے اور استعاروں کی تہ میں ڈوب کر غائب ہو گئے۔ فصاحت کے معنی یہ ہیں کہ خوشی یا غم، کسی شے پر رغبت یا اس سے نفرت، کسی شے سے خوف یا خطر، کسی پر قہر یا غضب، غرض جو خیال ہمارے دل میں ہو اس کے بیان سے وہی اثر، وہی جذبہ، وہی جوش سننے والوں کے دل پر چھا جائے جو اصل کے مشاہدہ سے ہوتا ہے۔‘‘آپ نے انجمن پنجاب کے پہلے موضوعاتی مشاعرے میں اپنی مثنوی ''شب قدر‘‘ پڑھی۔ جو رات کی حالت پر لکھی گئی تھی۔ آپ نے انجمن پنجاب کے حوالے سے 4 نظمیں لکھیں اور 15 لیکچر دیئے ۔ انجمن پنجاب کے لیے کی جانے والی محنت کے تحت آپ کو ''جدید نظم‘‘ کا بانی کہا جاتا ہے۔ جبکہ مہدی افادی کے نزدیک آپ '' آقائے اردو ‘‘ ہیں۔ساجد ندیم انصاری شعبہ تدریس سے وابستہہیں، مختلف موضوعات پر ان کے مضامینمختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں

کیا آپ جانتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں؟

دنیا میں سب سے بڑا بارشوں اور تیز ہواؤں پر مشتمل طوفان امریکہ میں 4 نومبر 1998ء میں آیا، جب 9745 افراد ہلاک اور 93 ہزار سے زائد لوگ لا پتہ ہو گئے تھے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے زیادہ چیخنے والے بندر امریکی ہیں جنکی خوفناک آوازیں 16 کلومیٹر دور سے بھی سنی جا سکتی ہیں۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے اونچا ہوائی جمپ لگانے کا اعزاز بھی دو امریکی کتوں کے پاس ہے جنہوں نے 3 اکتوبر 2003 ء کو 66 انچ اونچائی سے چھلانگ لگا کر ریکارڈ قائم کیا۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے لمبا اونٹ امریکہ میں ہے۔ٔٔٔٔ دنیا میں سب سے بڑی مچھلی شارک وہیل ہے جو بحر اوقیانوس میںپائی جاتی ہے ۔اس کی لمبائی 23 فٹ اور وزن 20 ٹن سے زائد ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے چھوٹا پرندہ کیوبا کا ہے ۔جس کا جسم صرف 2.2 انچ اور وزن صرف 0.56 اونس ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کا سب سے وزنی مادہ بندر جنوبی افریقہ میں ہے جس کا وزن 45 کلو سے بھی زائد ہے۔ جبکہ نر بندر 54کلو کا ہے۔ٔٔٔٔ دنیا کی سب سے لمبی گالف کارٹ امریکی پیٹر نی نے بنائی جس کی لمبائی 5.81 میٹر ہے۔سب سے پہلے ملنے والے پیمائش کے اوزان کا تعلق 3800 قبل مسیح کی مصری تہذیب سے ہے۔ جس کا نام ''بیقا ‘‘ ہے جو مصر میںنقادہ کے مقام سے ملے۔

اقتباسات

اقتباسات

مجھے وہ بات یاد آرہی ہے جو شاید میں نے ٹی وی پر ہی سنی ہے کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے اخبار کی اس کاپی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جس میں دنیا کا نقشہ تھا اور اس نقشے کو 32 ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور اپنے پانچ سال کے کمسن بیٹے کو آواز دے کر بلایا اور اس سے کہا کہ لو بھئی یہ دنیا کا نقشہ ہے جو ٹکڑوں میں ہے، اس کو جوڑ کر دکھاؤ۔ اب وہ بیچارہ تمام ٹکڑے لے کر پریشان ہوکے بیٹھ گیا کیونکہ اب سارے ملکوں کے بارے میں کہ کون کہاں پر ہے، میرے جیسا بڑی عمر کا آدمی بھی نہیں جانتا ہے۔ وہ کافی دیر تک پریشان بیٹھا رہا لیکن کچھ دیر بعد اس نے تمام کا تمام نقشہ درست انداز میں جوڑ کر اپنے باپ کو دے دیا۔ اس کا باپ بڑ ا حیران ہوا اور کہا کہ بیٹا مجھے اس کا راز بتا کیونکہ اگر مجھے اس نقشے کو جوڑنا پڑتا تو میں نہیں جوڑ سکتا تھا۔اس پر اس لڑکے نے کہا کہ بابا جان میں نے دنیا کا نقشہ نہیں جوڑا بلکہ نقشے کے دوسری طرف ایک اشتہار تھا اور اس میں ایک شخص کا بڑا سا چہرہ تھا جو شیو کرتا دکھایا گیا تھا۔ میں نے سارے ٹکڑوں کو الٹا کیا اور اس آدمی کو جوڑنا شروع کیا اور چار منٹ کی مدت میں میں نے پورا آدمی جوڑ دیا۔ اس لڑکے نے کہا کہ بابا اگر آدمی جڑ جائے تو ساری دنیا جڑ جائے گی۔(''زاویہ ۲‘‘ از اشفاق احمد سے اقتباس)ناامیدی اور مایوسیرونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ نم آنکھیں، نرم دل ہونے کی نشانی ہیں اور دلوں کو نرم ہی رہنا چاہئے۔ اگر دل سخت ہوجائیں تو پھر ان میں پیار و محبت کا بیج نہیں بویا جاسکتا اور اگر دلوں میں محبت ناپید ہوجائے تو پھر انسان کی سمت بدلنے لگتی ہے۔ محبت وہ واحد طاقت ہے جو انسان کے قدم مضبوطی سے جمادیتی ہے اور وہ گمراہ نہیں ہوتا۔بس ان آنسوؤں کے پیچھے ناامیدی اور مایوسی نہیں ہونی چاہئے۔ کیونکہ ناامیدی ایمان کی کمزوری کی علامت ہوتی ہے۔ اللہ سے ہمیشہ بھلائی اور اچھے وقت کی آس رکھنی چاہئے۔ وہ اپنے بندوں کو اسی چیز سے نوازتا ہے جو وہ اللہ سے توقع کرتے ہیں۔(فاطمہ عنبریں کے ناول ''رستہ بھول نہ جانا‘‘ سے اقتباس

آج کا دن تاریخ کے آئینے میں

آج کا دن تاریخ کے آئینے میں

سالگرہ:ڈاکٹر مبشر حسنڈاکٹر مبشر حسن 22جنوری 1922ء کو پیدا ہوئے، آپ پاکستان کے ممتاز دانشور،سول انجینئر، استاد، سیاستدان، محقق، مبصر، صحافی، تجزیہ نگار تھے۔ وہ پاکستان کے وزیرِ خزانہ اور مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی بھی رہے۔ انہوں نے ''شاہراہ انقلاب‘‘، ''دی میراج آف پاور‘‘ اور ''رزم زندگی‘‘ سمیت بہت سی کتب بھی لکھیں۔ بنیادی طور پر ڈاکٹر مبشر سول انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی تھے اور انجینئرنگ یونیورسٹی جو 60 کی دہائی میں انجینئرنگ کالج ہوا کرتی تھی، میں سول انجینئرنگ کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے اسے یونیورسٹی بنوانے میں بھی اپنا کردار ادا کیا۔14مارچ 2020ء کو انتقال ہوا۔اداکار سکندر شاہینسکندر شاہین کا شمار پاکستان کے ان اداکاروں میں ہوتا ہے، جو اپنی منفرد اداکاری اور اپنی ڈائیلاگ ڈلیوری کی وجہ سے شائقین میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ 22جنوری 1944ء کو پیدا ہوئے اور کریئر کا آغاز تھیٹر سے کیا۔ سرکاری ٹی وی آنے کے بعد اس کا رخ کیا اور اپنی اداکاری سے ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے یادگار ڈراموں میں ''زمین، وارث، سنہرے موسم اور پاگل، احمق اور بیوقوف‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے چند فلموں میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ جون 2004ء میں اس عظیم اداکار کا انتقال ہوا۔برسی:اشتیاق حسین قریشیعالمی شہرت یافتہ ماہرِ تعلیم، مؤرخ، محقق اور ڈراما نویس پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی 22 جنوری 1981ء کو فوت ہوئے۔ آپ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور بانی چیئرمین مقتدرہ قومی زبان تھے۔ 1955ء سے 1960ء تک آپ امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر رہے۔ اسی دوران برِصغیر کی تایخ پر شہرہ آفاق کتاب'' برعظیم پاک و ہند کی ملّتِ اسلامیہ‘‘ تصنیف کی۔ ان کی اردو اور انگریزی کتب میں سے دو اہم کتب ''دی سٹرگل فار پاکستان‘‘ اور ''دی ایڈمنسٹریشن آف مغل امپائر‘‘ بھی ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے انہیں ''ستارہ پاکستان‘‘ سے نوازا۔شاعر رضی اختر شوق22 جنوری 1999ء میں اردو زبان کے نامور پاکستانی شاعر و ڈرامہ نگاررضی اختر شوق اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ 23 اپریل 1933ء کو سہارنپور میں پیدا ہوئے اور ان کا اصل نام خواجہ رضی الحسن انصاری تھا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ کراچی آ گئے جہاں جامعہ کراچی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ یہاں انھوں نے ادبی حلقوں میں اپنے جدید اور منفرد لب و لہجے کے سبب پہچان بنائی۔ رضی اختر شوق کے شعری مجموعوں میں ''مرے موسم‘‘، ''مرے خواب‘‘ اور ''جست‘‘ شامل ہیں۔ہیتھ لیجرہالی وڈ کے معروف اداکار ہیتھ لیجر 2008ء میں آج کے دن انتقال کر گئے تھے، ڈاکٹروں نے ان کی موت کی وجہ نشے کی زیادتی کو قرار دیا تھا۔ ہیتھ لیجر کا تعلق آسٹریلیا سے تھا، انہوں نے بیٹ مین جیسی شہرہ آفاق فلم میں جوکر کا کردار ادا کیا تھا جو ان کی بے پناہ شہرت کا باعث بنا تھا۔اہم واقعات1905ء کو پہلا روسی انقلاب برپا ہوا۔ فوج نے ان مزدوروں پر گولی چلا دی جو اپنے مطالبات کی سنوائی کیلئے محل کا رخ کر رہے تھے۔ اس واقعے میں 500 مزدور ہلاک ہوئے جو کہ بغاوت کا سبب بنا۔1939ء میں کولمبیا یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے یورینیئم کے ایٹمی خلیات کو تباہ کرنے کا کامیاب تجربہ کیا۔1989ء میں سوویت یونین میں پہلی بار عالمی مقابلہ حسن کا انعقاد ہوا۔ جس میں ترکی کی میلتم حق نے ٹائٹل اپنے نام کیا۔

مہناز: موسیقی کا گوہر نایاب ’’اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں‘‘

مہناز: موسیقی کا گوہر نایاب ’’اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں‘‘

گلوکارہ مہناز ہمارے ملک کی وہ گلوکارہ ہیں جو دنیائے موسیقی کے افق پر ایک ستارہ بن کر چمکیں مگر جلد ہی جدائی دے گئیں۔ ان کا اصل نام شاہین اختر تھا۔ گریجویشن کے بعد موسیقی کی تربیت اپنی والدہ سے لی۔مہناز کی والدہ کجن بائی ریڈیو کراچی کی معروف گلو کارہ تھیں۔انہوں نے گانے کی ابتداء والدہ کے ہمراہ ریڈیو سے ہی کی۔معروف موسیقار استاد نذر حسین سے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ ریڈیو کراچی سے ان کے گائے ہوئے گیت، غزلیں بہت مشہور ہوئے جو انہیں فلموں میں لانے کا سبب بنی۔مہنازچار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں، مصوری سے بھی شغف رکھتی تھیں۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ فائن آرٹس میں نام پیدا کریں۔ اس لئے انہوں نے نصابی تعلیم کے دوران موسیقی کا علم نہیں سیکھا۔ اس کی ایک اوروجہ یہ بھی تھی کہ ان کا گھرانہ مذہبی اور قدامت پرست تھا۔ محرم الحرام میں مرثیہ خوانی ان کا خاندانی پیشہ تھا ۔ریڈیو پر ہی گلو کار مہدی حسن کے بھائی پنڈت غلام قادر نے مہناز سے 1972ء میں ایک غزل گوائی۔ یہاں انہوں نے اپنا نام شاہین اختر سے بدل کر''مہناز‘‘ رکھ لیا۔ جس کے معنی ہیں چاند جیسی فخر والی۔ مہناز کی پہلی فلم میں گانے کے حوالے سے محقق مختلف آرا رکھتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے بطور گلوکارہ مہناز نے ایک سندھی فلم ''دھرتی لال کنوار‘‘ میں گایا۔ کہیں بطور گلو کارہ ان کی پہلی فلم ''ثریا بھوپالی‘‘ کو گردانا جاتا ہے۔ ایک جگہ مہناز کی فلم ''پہچان‘‘ کے گانے کو ان کے فلمی کریئر کی ابتداء کہا جاتا ہے۔ تینوں متذکرہ فلمیں 1975ء میں ریلیز ہوئی تھیں مگر ہماری تحقیق کے مطابق مہناز نے 1973ء میں فلم ''جہیز‘‘ کیلئے پہلا فلمی گیت گایا تھا،یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔مہناز کو ٹیلی ویژن پر پروڈیوسر امیر امام نے 1972ء میں میوزک پروگرام ''نغمہ زار‘‘ سے متعارف کرایا۔ مہناز نے اس پروگرام میں جو گیت گائے ان کے شاعر سرور بارہ بنکوی جبکہ کمپوزر سہیل رعنا تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے گانوں کی بازگشت جب فلمی موسیقاروں کے کانوں تک پہنچی تو موسیقار نثار بزمی نے مہناز کو فلم ''پہچان‘‘ کیلئے گیت ''میرا پیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا ‘‘ گوایا ۔ یہ فلم ہٹ ہوئی اور ساتھ ہی مہناز کا گایا ہوا گانا بھی ہٹ ہو گیا۔ یوں مہناز جو پہلے بھی دو تین فلموں کیلئے گا چکی تھیں، فلم ''پہچان‘‘ کے گانے سے پورے پاکستان میں مقبول ہو گئیں اور بطور پلے بیک سنگر انہیں مستند گلو کارائوں میں شمار کیا جانے لگا۔پھر سلسلہ چل نکلا۔ ان کے گانے فلم ''دلہن اک را ت کی،تلاش، ہم دونوں، آئینہ، ثریا بھوپالی، روشنی، عشق عشق، میرا ناں پاٹے خان، پرستش، خوشبو، پلے بوائے، نیک پروین، جاگیر، لال آندھی، سلاخیں، ان داتا، اور بندش میں بے پناہ مقبول ہوئے۔ مہناز کو جو چیز دوسری گلو کارائوں سے ممتاز بناتی تھی۔ وہ ان کی آواز کی دلکشی،تلفظ اور سحر انگیزی تھی۔ سننے والا ان کے میٹھے سروں میں کھو جاتا تھا۔مہناز کی آواز ہر اداکارہ پر جچتی تھی،ان کا گانا جس اداکارہ پر عکسبند ہوتا ، ایسا لگتا جیسے ہیروئن خود گا رہی ہے۔ مہناز کے گائے ہوئے گانے جن اداکاراؤں پرعکسبند ہوئے۔ ان میں دیبا، زیبا، شبنم، رانی، بابرہ شریف، کویتا، سنگیتا، نشو، آسیہ، ثمینہ پیرزادہ، عندلیب، مسرت شاہین، نیلی، سلمیٰ آغا، ریما، ممتاز شامل ہیں۔ مہناز نے اپنے دور کے تمام موسیقاروں کے ہمراہ کام کیا۔جن میں نثار بزمی، ایم اشرف، کمال احمد، خواجہ خورشید انور، روبن گھوش، کریم شہاب الدین، نیاز احمد، واجد علی ناشاد، امجد بوبی، وجاہت عطرے، اے حمید شامل ہیں۔مہناز نے پورے کریئر میں مہدی حسن، نور جہاں، احمد رشدی، عالمگیر، مسعود رانا، اخلاق احمد ، رجب علی، اے نیر سمیت تمام گلو کاروں کے ہمراہ گانے گائے۔مہناز نے اپنی گائیکی پر 11نگار ایوارڈ حاصل کئے جبکہ دیگر ایوارڈز اس کے علاوہ ہیں۔ مہناز نے 11نگار ایوارڈ جن گانوں پر حاصل کئے ان میں فلم ''سلاخیں‘‘ گانا ''پیار کا ایسا ناطہ ہے‘‘، فلم ''پلے بوائے‘‘ کا گیت ''تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناطہ ہے‘‘، فلم ''خوشبو‘‘کا گیت'' جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے‘‘، فلم ''بندش‘‘ کا گیت ''تجھے دل سے لگا لوں‘‘، فلم ''قربانی‘‘کا گیت ''میرا تجھ سے ایسا بندھن ہے‘‘، فلم ''کندن‘‘ کا گیت ''کھلونے تیری زندگی کیا‘‘، فلم ''بیوی ہو تو ایسی‘‘کا گیت ''سچا تیرا پیار‘‘، فلم ''کبھی الوداع نہ کہنا‘‘کا گیت '' میرا پیار بھی تو ‘‘، فلم ''بازار حسن‘‘ کا گیت ''لہروں کی طرح، تجھ کو بکھرنے نہ دینگے‘‘، فلم ''بلندی‘‘ کا گیت ''آخری سانس تک تجھ کو چاہوں گی میں‘‘، فلم ''ایک لو سٹوری‘‘ کا گیت'' بھیگے بھیگے موسم میں ہری ہری وادی‘‘ شامل ہیں۔مہناز نے اپنے فنی کریئر میں نور جہاں کے مقابلے کی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ انہوں نے پنجابی، اُردو، سندھی اور پشتو زبانوں میں گانے گائے۔ ایک اندازے کے مطابق مہناز نے اپنے فنی کریئر میں 800کے قریب نغمات گائے۔ یہ واحد گلو کارہ تھیں جنہوں نے چار زبانوں میں گیت گائے۔گلو کارہ مہناز کو وقت کے ساتھ ساتھ شوگر کا مرض لاحق ہوا پھر دمہ نے بھی آ گھیرا۔ مہناز نے کراچی کے اچھے ڈاکٹرز سے علاج کرایا مگر بیماری بڑھتی چلی گئی۔ پھر انہوں نے امریکہ میں بھائیوں کے پاس جا کر علاج کرانے کا سوچا اور امریکہ کیلئے روانہ ہوئیں تو راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر بحرین کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیاجہاںوہ دم توڑ گئیں۔ بعدازاں ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا۔ان کی وفات 19جنوری 2013ء میں ہوئی،55برس وہ زندہ رہیں۔خالد ابراہیم خان ایک سینئر شوبز صحافی ہیں،پاکستانی فنکاروں کے حوالے سے وسیع معلومات رکھتے ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں

اپنی روشنی اپنا سفر، ذات کا ادراک کریں، رویے سوچ کا عکاس ہوتے ہیں

اپنی روشنی اپنا سفر، ذات کا ادراک کریں، رویے سوچ کا عکاس ہوتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا فرمایااور سب کو صفات سے نوازا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ان صفات کا کیسے استعمال کرتا ہے اور کیسے ان کو بروئے کار لا کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اس دنیا میں بے شمار انسان بستے ہیں۔ ہر خطے، ہر علاقے میں موجود مختلف تہذیب رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں کچھ انسان کامیابیوں کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور کچھ آج تک پستیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب رب نے ہمیں برابر پیدا کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک ملک، ایک ہی طرح کے حالات میں زندگی گزارنے والے افراد کچھ امیر ہیں اور کچھ غریب۔ کچھ کو عقلمند خیال کیا جاتا ہے اور کچھ کم عقل مانے جاتے ہیں؟ کچھ بہت کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کچھ ناکامی اور ناامیدی کی۔اپنی ذات کا اعتراف:کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی کون سی صلاحیتیں ایسی ہیں جنہیں استعمال کرکے آپ دوسروں کو اور خود کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ کامیاب لوگ اس لئے کامیاب ہیں کہ وہ خود کو Discoverکر لیتے ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کا علم ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس خامی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں یا اچھائی میں بدل سکتے ہیں۔آج کے دور میں ہم خود کی بجائے دوسروں کو Discoverکرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ فلاں ایسا اور فلاں ویسا۔ یہ روش محض اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف اوربے سود ہے۔ اگر اس وقت کا 20فیصدہم اپنی بابت سوچنے اور خود کو بہتر کرنے پر صرف کریں تو اس کے بہت شاندار نتائج مل سکتے ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کی قوت اور صلاحیت کیا ہے۔ آپ کی اقدار کیا ہیں تو پھر خود بخود آپ ان کا استعمال شروع کر دیں گے اور یہی آپ کی ترقی اور کامیابی کی پہلی سیڑھی ہو گی۔یقین:آپ جس چیز پر یقین رکھتے ہیں وہ ایقان حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ کامیاب افراد کو اللہ کی ذات کے بعد خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر کامل یقین ہوتا ہے۔ اس یقین کو لے کر وہ اپنے مقصد کی طرف بڑھتے ہیں اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ زندگی کی دوڑ میں کبھی تھکان محسوس نہیں کرتے۔انتھک اور مسلسل محنت: کامیاب افراد کی کامیابی مسلسل اور انتھک محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے وقت کی پابندی سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں اور بالآخر ایک دن وہ اس خواب کو پا لیتے ہیں جو انہوں نے دیکھا ہوتا ہے۔ اہم یہ نہیں کہ آج آپ کہاں کھڑے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ نے عزم کے ساتھ کن منزلوں کو طے کرنے کا سوچا ہے۔ محنتی ہاتھ میں مٹی بھی سونا بن جاتی ہے اور کام چور ہاتھ سونا بھی مٹی کر دیتا ہے۔وقت کی قدر:کامیاب افراد نہ صرف وقت کی قدر کرتے ہیں بلکہ وقت کا صحیح استعمال کرکے فوائد اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ دوسروں کی ناانصافیوں کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ وہی لوگ بے کار بیٹھ کر اپنا بہت سا قیمتی وقت گنوا دیتے ہیں۔جب آپ وقت کو ضائع کرتے ہیں تو پھر وقت بھی آپ کو ضائع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہم بے کار، فضول باتوں کے بجائے ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنا کام کریں تو نہ صرف دوسرے لوگوں میں آپ کی عزت ہو گی بلکہ آپ اللہ کی بھی خوشنودی حاصل کر پائیں گے اور یہی رویہ آپ کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔رویہ: آپ کا رویہ آپ کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کا رویہ آپ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس قدر آپ کی سوچ مثبت ہو گی آپ کا رویہ بھی اتنا ہی مثبت ہوگا ۔ مثبت رویئے والے شخص کو سب پسند کرتے ہیں۔ جس شخص کی سوچ منفی ہوگی اس کا رویہ بھی منفی ہوگا اور وہ سب کیلئے ناپسندیدہ خیال کیا جائے گا۔ یہی رویہ اس کی کامیابی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ہمیشہ اپنے رویے پر نظر رکھیں ۔قدرت اسی قانون کے تحت چل رہی ہے کہ ''جو بیج بوئو گے وہی کاٹو گے‘‘۔ ہمیشہ اپنا رویہ اور اپنی سوچ مثبت رکھیں۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں اللہ کی ذات پرکامل بھروسہ رکھیں۔ انشا اللہ وہی راستہ نکالنے والی ذات پاک ہے۔ رویہ انسان کی کامیابی میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ رویے سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ زندگی میں وہ کیسا انسان بن سکتا ہے۔کامیاب انسان بننے کیلئے اپنی سوچ اور رویہ مثبت رکھیں۔واضح مقصد:زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے جو سب سے اہم لازمی جزو ہے وہ ہے آپ کی زندگی کا واضح مقصد۔ اگر کامیاب افراد کی طرف دیکھیں تو ان کی کامیابی کسی خاص فیلڈ سے منسوب ہوتی ہے جیسا کہ کوئی کسی خاص کھیل میں مشہور اور کامیاب ہے، کوئی کسی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر میں، کوئی سیاست میں، کوئی بزنس میں اور کوئی شوبز میں۔الغرض کامیابی حاصل کرنے کیلئے کسی مخصوص ہدف کا ہونا ضروری ہے اور اس ہدف کا تعین آپ نے اپنی صلاحیتوں کو مد نظر رکھ کر کرنا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کوئی شے بے کار نہیں پیدا کی تو کیسے ممکن ہے انسان جیسی شاہکار تخلیق کو بے مقصد پیدا کر دیا ہو۔ لہٰذا اپنی زندگی کا مقصد تلاش کریں کہ اللہ نے آپ میں وہ کون سی صلاحیتیں اور خوبیاں رکھی ہیں جن سے آپ خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ جب آپ کو وہ مقصد مل جائیگا تو آپ اس کو حاصل کرنے کیلئے مسلسل محنت کرتے ہیں۔ آخر ایک دن اس کو حاصل کر لیتے ہیں اور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کامیابی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی کوئی حد نہیں لیکن یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں سکون، خوشی، دولت، آرام سب کچھ میسر ہوتا ہے۔ تو آیئے ہم بھی عزم کرتے ہیں کہ اس سفر پر چل نکلنا ہے اور اس افراتفری کے دور میں خود کو منوا کر بہت آگے جانا ہے۔صرف اپنی روشنی میں طے کرو اپنا سفرراہ میں جگنو، ستارہ یا دیا کچھ بھی نہیں