نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی نےایک بارپھرشہرمیں امیدکی کرن جگادی،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- اسمبلی کےسامنےنالہ گندگی کاڈھیربناہواہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- دنیابھرمیں رہنےوالےپاکستانیوں نےدھرنےسےاظہاریکجہتی کیا،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہمارامقصدشہرکےبلدیاتی اداروں کی بحالی ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی کےمسائل کےحل کیلئےبلدیاتی ادارےچاہئیں،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نےکراچی کاماسٹرپلان قبضےمیں لیاہواہے،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ذوالفقاربھٹونےسندھ بلدیاتی نظام کاآرڈیننس جاری کیاتھا،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہمیں کسی دورکانظام نہیں،کراچی کےمسائل کاحل چاہیے،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- سندھ حکومت ماسٹرپلان بلدیاتی اداروں کودینےکیلئےتیارنہیں،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- سندھ حکومت نے 17سال سےکےفورمنصوبہ مکمل نہیں کیا، نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- یہ سندھ اسمبلی کےسامنےوالانالہ صاف نہیں کراسکتے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- حکومت نےمذاکرات کاعمل شروع کیامگرپھرروک دیاگیا،نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:کل حسن اسکوائرپربڑادھرناہوگا،حافظ نعیم الرحمان
Coronavirus Updates

زلزلوں کی سرزمین، جاپان میں سب سے زیادہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟

زلزلوں کی سرزمین، جاپان میں سب سے زیادہ زلزلے کیوں آتے ہیں؟

اسپیشل فیچر

تحریر : تنزیل الرحمن جیلانی


 2011ء میں آنیوالے زلزلے سے جاپان2.4میٹر نارتھ امریکہ کی جانب کھسک گیا
رنگ آف فائر اور چار پلیٹوں کی وجہ سے جاپان کو سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنا پڑتے ہی
آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ جب بھی کسی چیز کے معیار کی بات کی جائے خصوصاً مشینری یا ٹیکنالوجی کی تو جاپان کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے دو ایٹمی دھماکے برداشت کرنے والے ملک جاپان نے جس طرح حالات کا مقابلہ کیا اور ٹیکنالوجی میں اپنی مثال قائم کی وہ قابل تحسین ہے۔ جاپان اپنی ذہانت اور معیاری اشیاء کے ساتھ ایک اور چیز کے لئے بھی بہت مشہور ہے اور وہ ہے زلزلے۔
زمیں کے نیچے موجود ٹیکٹونک پلیٹس کے ٹکرانے یا سرکنے سے زمین میں حرکت پیدا ہوتی ہے، جسے زلزلہ کہتے ہیں۔ جاپان چونکہ فالٹ لائن پر واقع ہے اس لئے وہاںسب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔ فالٹ لائن، پلیٹوں یا پتھروں کے درمیان ایک ایسا فریکچر ہوتا ہے جس کی وجہ سے ایک خلاء پیدا ہوتا ہے جو حرکت کا باعث بنتاہے۔ اس فالٹ لائن پر واقع ممالک میں زلزلے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ آتے ہیں ۔ زلزلوں کی شدت کی پیمائش ریکٹرسکیل پر کی جاتی ہے جو 1935ء میں امریکی سائنسدانوں چارلز ایف رچر اور بینو گٹنبرگ نے تخلیق کیا تھا۔
دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے جاپان میں آتے ہیں۔جن کی اوسط سالانہ تقریباً 2ہزار ہے۔ گزشتہ سال صرف ٹوکیو میں پانچ ایسے زلزلے آئے جن کی شدت 5 ریکٹر سکیل سے زیادہ تھی اور تقریباً 20 زلزلے 4سے 5 شدت کے تھے جبکہ 20زلزلے 3شدت کے اور 12معمولی نوعیت کے تھے۔ زمین کی اس قسم کی حرکات کو سیزمک ایکٹیویٹی کہتے ہیں۔
سائنسدانوں نے یہ پیشگوئی بھی کی ہے کہ آئندہ دس سال میں ٹوکیو کو ایک انتہائی خطرناک زلزلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے ننکائی ٹرف پھٹنے کا ڈر ہے۔ جاپان میں پیسیفک سمند ر کی طرف ننکائی ٹرف 900 کلومیٹر کا علاقہ ہے، جہاں سیزمک ایکٹیویٹی سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ جاپانی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مارچ2011ء میں آئے زلزلے (سونامی) سے زیادہ خطرناک زلزلہ آنے کی امید نہیں ہے۔ وہ جاپان کی تاریخ کا سب سے خطرناک زلزلہ تھاجسے ''دی گریٹ ایسٹ جاپان ارتھ کوئیک‘‘ کا نا م دیا گیا تھا۔ اس زلزلے کی وجہ سے فوکوشیما نیوکلیئر پلانٹ پھٹا اور 20ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے۔
جاپان ایک جزیرہ نما ملک ہے، جس نے خود کو مشکلات سے نکالتے ہوئے زیرو سے ہیرو بننے کا سفرطے کیا ہے۔ جاپان میں زیادہ زلزلے آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ملک ''سرکم پیسفک موبائل بیلٹ‘‘ پر واقع ہے جہاں اکثر ہی سیزمک ایکٹیوٹیز دیکھی جاتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جاپان دنیا کے صرف 0.25فیصد حصے پر مشتمل ہے لیکن پوری دنیا میں آنے والے زلزلوں میں اس کا حصہ18.5فیصد ہے۔ جہاں جاپان ہے،اس بیلٹ کو ''پیسیفک رنگ آف فائر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس رِنگ کے اندر چار ٹیکٹونک پلیٹیں موجود ہیں۔ جس میں مشرق کی جانب پیسفک پلیٹ، مغرب کی جاب فلپائن پلیٹ،شمال میں نارتھ امریکن پلیٹ اور جنوب میں یوریشین پلیٹ موجود ہے۔ جاپان ان چاروں پلیٹوں کے جنکشن پر واقع ہے۔زلزلے کی صورت میں ہوتا کچھ یوں ہے کہ پیسفک پلیٹ اور فلپائن پلیٹ مغرب کی جانب بڑھتی ہیں اور یہ دونوں پلیٹیں باقی دونوں پلیٹوں نارتھ امریکن اور یورشین پلیٹ کے نیچے گھس جاتی ہیں اور ان کی یہی حرکت جاپان میں زلزلوں کا سبب ہے۔
زمین کی سطح کو عموماً تیں حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میںسب سے اوپر والی سطح کو کرسٹ، اندر والے حصے کو مینٹل اور سب سے اندر ونی حصے کو ''کور‘‘ کہا جاتا ہے۔کرسٹ دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں اوشن اور کانٹی نینٹل کرسٹ شامل ہیں۔ ان دونوں حصوں میں پریشر بنتا ہے تو ان میں موجود پلیٹیں حرکت کرتی ہی رہتی ہیں۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پہاڑ سے لاوا باہر آتا ہے، زلزلے آتے ہیں اور اگر زلزلہ سمندر میں ہو تو سونامی آتا ہے۔
ہماری دنیا میجر اور مائنر پلیٹوں پر مشتمل ہے جس میں 7میجر پلیٹیں ہیں۔ جن کے نام یوریشین پلیٹ، افریقن پلیٹ، انڈو آسٹریلین پلیٹ، انٹارکٹک پلیٹ، نارتھ امریکن پلیٹ، پیسفک پلیٹ اورساؤتھ امریکن پلیٹ ہیں۔ جاپان ان میں سے چار کے جنکشن پر موجود ہے۔ پلیٹیں ایک دوسرے کے اندر یا اوپر یونہی نہیں جاتیں بلکہ اپنے ساتھ بڑے پیمانے پر راکی فارمیشن اور پانی لے کر جاتی ہیں۔
پلیٹوں کی حرکت کے دوران گرم پتھر اوپر کی جانب اٹھتے ہیں اور ٹھنڈے پتھر نیچے کی جانب جاتے ہیں جس وجہ سے ہلچل پیدا ہوتی ہے اور پلیٹیں ایک دوسرے کے اوپر یا نیچے کھسک جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چاند اور سورج کی کشش ثقل بھی ان پلیٹوں پر پریشر ڈالتی ہے، جس سے اکثر سمندر میں زلزلہ آتا ہے اور سونامی کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ سونامی اتنے خطرناک ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی جیوگرافی بھی بدل سکتے ہیں۔ جاپان میں مارچ2011ء کو آنے والا زلزلہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ اس زلزلے کی وجہ سے پورا جاپان2011ء میں نارتھ امریکہ کی جانب2.4میٹرکھسک گیا۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ ماہرین کے مطابق دنیا کی تاریخ میں تین مرتبہ براعظم ایک دوسرے کے قریب آئے اور دور گئے ۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پلیٹوں کی حرکت کی وجہ سے ہی 180ملین سال پہلے اس براعظم کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ وہ جیوگرافی بنی جو ہمیں آج نظر آتی ہے۔
جاپان کے سینڈائی علاقوں میں ہولوسین سیکوئنس کا مشاہدہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ500قبل مسیح سے 1000قبل مسیح کے درمیان ایک بہت بڑا زلزلہ اور سونامی اس خطے سے ٹکرایا تھا۔ اس کے بعدایک اور بہت خطرناک زلزلہ آیا تھا۔ یہ تینوں تاریخی حادثات جاپان کے سینڈائی علاقے میں ہی رونماء ہوئے جن کی تاریخ 3ہزار سال کی ہے۔
2011ء میں آنے والے زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی وجہ سے زمین کے ایکسز پر بھی اثر پڑا۔ رپورٹس کے مطابق اس زلزلے کے بعد زمین کے ایکسز میں 10سے 25سینٹی میٹر کا جھکاؤ دیکھنے میں آیا جس کی وجہ سے ہمارے دن 2مائیکرو سیکنڈ تک چھوٹے ہو گئے تھے۔
جاپان بے شک دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنے والا ملک ہے جبکہ ''رنگ آف فائر‘‘ میں جو دیگر ممالک ہیں ان میںانڈونیشیا، نیوزی لینڈ، پاپویا نیوگینی، فلپائن،امریکہ،چلی،کینیڈا، گوئتے مالا، روس، پیرو، سولومن آئی لینڈ اور میکسیکو شامل ہیں۔ پوری دنیا میں آنے والے زلزلوں میں سے 90 فیصد زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں جبکہ پوری دنیا میں پھٹنے والے آتش فشاں پہاڑوں میں سے 75فیصد اس علاقے میں واقع ہیں۔ یہ رنگ گول تو نہیں ہے لیکن 40ہزار کلومیٹر طویل ہے۔ رنگ آف فائر اور چار پلیٹوں کی موجودگی کی وجہ سے جاپان کو دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
تنزیل الرحمن جیلانی نوجوان صحافی ہیں
اور تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہیں 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
مہناز: موسیقی کا گوہر نایاب ’’اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں‘‘

مہناز: موسیقی کا گوہر نایاب ’’اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں‘‘

گلوکارہ مہناز ہمارے ملک کی وہ گلوکارہ ہیں جو دنیائے موسیقی کے افق پر ایک ستارہ بن کر چمکیں مگر جلد ہی جدائی دے گئیں۔ ان کا اصل نام شاہین اختر تھا۔ گریجویشن کے بعد موسیقی کی تربیت اپنی والدہ سے لی۔مہناز کی والدہ کجن بائی ریڈیو کراچی کی معروف گلو کارہ تھیں۔انہوں نے گانے کی ابتداء والدہ کے ہمراہ ریڈیو سے ہی کی۔معروف موسیقار استاد نذر حسین سے باقاعدہ کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ ریڈیو کراچی سے ان کے گائے ہوئے گیت، غزلیں بہت مشہور ہوئے جو انہیں فلموں میں لانے کا سبب بنی۔مہنازچار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں، مصوری سے بھی شغف رکھتی تھیں۔ ان کے والد کی خواہش تھی کہ وہ فائن آرٹس میں نام پیدا کریں۔ اس لئے انہوں نے نصابی تعلیم کے دوران موسیقی کا علم نہیں سیکھا۔ اس کی ایک اوروجہ یہ بھی تھی کہ ان کا گھرانہ مذہبی اور قدامت پرست تھا۔ محرم الحرام میں مرثیہ خوانی ان کا خاندانی پیشہ تھا ۔ریڈیو پر ہی گلو کار مہدی حسن کے بھائی پنڈت غلام قادر نے مہناز سے 1972ء میں ایک غزل گوائی۔ یہاں انہوں نے اپنا نام شاہین اختر سے بدل کر''مہناز‘‘ رکھ لیا۔ جس کے معنی ہیں چاند جیسی فخر والی۔ مہناز کی پہلی فلم میں گانے کے حوالے سے محقق مختلف آرا رکھتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے بطور گلوکارہ مہناز نے ایک سندھی فلم ''دھرتی لال کنوار‘‘ میں گایا۔ کہیں بطور گلو کارہ ان کی پہلی فلم ''ثریا بھوپالی‘‘ کو گردانا جاتا ہے۔ ایک جگہ مہناز کی فلم ''پہچان‘‘ کے گانے کو ان کے فلمی کریئر کی ابتداء کہا جاتا ہے۔ تینوں متذکرہ فلمیں 1975ء میں ریلیز ہوئی تھیں مگر ہماری تحقیق کے مطابق مہناز نے 1973ء میں فلم ''جہیز‘‘ کیلئے پہلا فلمی گیت گایا تھا،یہ فلم مکمل نہ ہو سکی۔مہناز کو ٹیلی ویژن پر پروڈیوسر امیر امام نے 1972ء میں میوزک پروگرام ''نغمہ زار‘‘ سے متعارف کرایا۔ مہناز نے اس پروگرام میں جو گیت گائے ان کے شاعر سرور بارہ بنکوی جبکہ کمپوزر سہیل رعنا تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی کے گانوں کی بازگشت جب فلمی موسیقاروں کے کانوں تک پہنچی تو موسیقار نثار بزمی نے مہناز کو فلم ''پہچان‘‘ کیلئے گیت ''میرا پیار تیرے جیون کے سنگ رہے گا ‘‘ گوایا ۔ یہ فلم ہٹ ہوئی اور ساتھ ہی مہناز کا گایا ہوا گانا بھی ہٹ ہو گیا۔ یوں مہناز جو پہلے بھی دو تین فلموں کیلئے گا چکی تھیں، فلم ''پہچان‘‘ کے گانے سے پورے پاکستان میں مقبول ہو گئیں اور بطور پلے بیک سنگر انہیں مستند گلو کارائوں میں شمار کیا جانے لگا۔پھر سلسلہ چل نکلا۔ ان کے گانے فلم ''دلہن اک را ت کی،تلاش، ہم دونوں، آئینہ، ثریا بھوپالی، روشنی، عشق عشق، میرا ناں پاٹے خان، پرستش، خوشبو، پلے بوائے، نیک پروین، جاگیر، لال آندھی، سلاخیں، ان داتا، اور بندش میں بے پناہ مقبول ہوئے۔ مہناز کو جو چیز دوسری گلو کارائوں سے ممتاز بناتی تھی۔ وہ ان کی آواز کی دلکشی،تلفظ اور سحر انگیزی تھی۔ سننے والا ان کے میٹھے سروں میں کھو جاتا تھا۔مہناز کی آواز ہر اداکارہ پر جچتی تھی،ان کا گانا جس اداکارہ پر عکسبند ہوتا ، ایسا لگتا جیسے ہیروئن خود گا رہی ہے۔ مہناز کے گائے ہوئے گانے جن اداکاراؤں پرعکسبند ہوئے۔ ان میں دیبا، زیبا، شبنم، رانی، بابرہ شریف، کویتا، سنگیتا، نشو، آسیہ، ثمینہ پیرزادہ، عندلیب، مسرت شاہین، نیلی، سلمیٰ آغا، ریما، ممتاز شامل ہیں۔ مہناز نے اپنے دور کے تمام موسیقاروں کے ہمراہ کام کیا۔جن میں نثار بزمی، ایم اشرف، کمال احمد، خواجہ خورشید انور، روبن گھوش، کریم شہاب الدین، نیاز احمد، واجد علی ناشاد، امجد بوبی، وجاہت عطرے، اے حمید شامل ہیں۔مہناز نے پورے کریئر میں مہدی حسن، نور جہاں، احمد رشدی، عالمگیر، مسعود رانا، اخلاق احمد ، رجب علی، اے نیر سمیت تمام گلو کاروں کے ہمراہ گانے گائے۔مہناز نے اپنی گائیکی پر 11نگار ایوارڈ حاصل کئے جبکہ دیگر ایوارڈز اس کے علاوہ ہیں۔ مہناز نے 11نگار ایوارڈ جن گانوں پر حاصل کئے ان میں فلم ''سلاخیں‘‘ گانا ''پیار کا ایسا ناطہ ہے‘‘، فلم ''پلے بوائے‘‘ کا گیت ''تیرا میرا کوئی نہ کوئی ناطہ ہے‘‘، فلم ''خوشبو‘‘کا گیت'' جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے‘‘، فلم ''بندش‘‘ کا گیت ''تجھے دل سے لگا لوں‘‘، فلم ''قربانی‘‘کا گیت ''میرا تجھ سے ایسا بندھن ہے‘‘، فلم ''کندن‘‘ کا گیت ''کھلونے تیری زندگی کیا‘‘، فلم ''بیوی ہو تو ایسی‘‘کا گیت ''سچا تیرا پیار‘‘، فلم ''کبھی الوداع نہ کہنا‘‘کا گیت '' میرا پیار بھی تو ‘‘، فلم ''بازار حسن‘‘ کا گیت ''لہروں کی طرح، تجھ کو بکھرنے نہ دینگے‘‘، فلم ''بلندی‘‘ کا گیت ''آخری سانس تک تجھ کو چاہوں گی میں‘‘، فلم ''ایک لو سٹوری‘‘ کا گیت'' بھیگے بھیگے موسم میں ہری ہری وادی‘‘ شامل ہیں۔مہناز نے اپنے فنی کریئر میں نور جہاں کے مقابلے کی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ انہوں نے 1977ء سے 1983ء تک مسلسل نگار ایوارڈز حاصل کئے۔ انہوں نے پنجابی، اُردو، سندھی اور پشتو زبانوں میں گانے گائے۔ ایک اندازے کے مطابق مہناز نے اپنے فنی کریئر میں 800کے قریب نغمات گائے۔ یہ واحد گلو کارہ تھیں جنہوں نے چار زبانوں میں گیت گائے۔گلو کارہ مہناز کو وقت کے ساتھ ساتھ شوگر کا مرض لاحق ہوا پھر دمہ نے بھی آ گھیرا۔ مہناز نے کراچی کے اچھے ڈاکٹرز سے علاج کرایا مگر بیماری بڑھتی چلی گئی۔ پھر انہوں نے امریکہ میں بھائیوں کے پاس جا کر علاج کرانے کا سوچا اور امریکہ کیلئے روانہ ہوئیں تو راستے میں ان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ انہیں فوری طور پر بحرین کے ایک ہسپتال میں داخل کرایا گیاجہاںوہ دم توڑ گئیں۔ بعدازاں ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا۔ان کی وفات 19جنوری 2013ء میں ہوئی،55برس وہ زندہ رہیں۔خالد ابراہیم خان ایک سینئر شوبز صحافی ہیں،پاکستانی فنکاروں کے حوالے سے وسیع معلومات رکھتے ہیں، ملک کے موقر جریدوں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں

اپنی روشنی اپنا سفر، ذات کا ادراک کریں، رویے سوچ کا عکاس ہوتے ہیں

اپنی روشنی اپنا سفر، ذات کا ادراک کریں، رویے سوچ کا عکاس ہوتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو برابر پیدا فرمایااور سب کو صفات سے نوازا ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ ان صفات کا کیسے استعمال کرتا ہے اور کیسے ان کو بروئے کار لا کر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اس دنیا میں بے شمار انسان بستے ہیں۔ ہر خطے، ہر علاقے میں موجود مختلف تہذیب رکھنے والے انسان ہیں۔ ان میں کچھ انسان کامیابیوں کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اور کچھ آج تک پستیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جب رب نے ہمیں برابر پیدا کیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ایک ملک، ایک ہی طرح کے حالات میں زندگی گزارنے والے افراد کچھ امیر ہیں اور کچھ غریب۔ کچھ کو عقلمند خیال کیا جاتا ہے اور کچھ کم عقل مانے جاتے ہیں؟ کچھ بہت کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں جبکہ کچھ ناکامی اور ناامیدی کی۔اپنی ذات کا اعتراف:کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی کون سی صلاحیتیں ایسی ہیں جنہیں استعمال کرکے آپ دوسروں کو اور خود کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ کامیاب لوگ اس لئے کامیاب ہیں کہ وہ خود کو Discoverکر لیتے ہیں۔ انہیں اپنی صلاحیتوں کا علم ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان میں کیا اچھا ہے اور کیا برا۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس خامی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں یا اچھائی میں بدل سکتے ہیں۔آج کے دور میں ہم خود کی بجائے دوسروں کو Discoverکرنے میں لگے ہوتے ہیں کہ فلاں ایسا اور فلاں ویسا۔ یہ روش محض اپنا وقت ضائع کرنے کے مترادف اوربے سود ہے۔ اگر اس وقت کا 20فیصدہم اپنی بابت سوچنے اور خود کو بہتر کرنے پر صرف کریں تو اس کے بہت شاندار نتائج مل سکتے ہیں۔ جب آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کی قوت اور صلاحیت کیا ہے۔ آپ کی اقدار کیا ہیں تو پھر خود بخود آپ ان کا استعمال شروع کر دیں گے اور یہی آپ کی ترقی اور کامیابی کی پہلی سیڑھی ہو گی۔یقین:آپ جس چیز پر یقین رکھتے ہیں وہ ایقان حقیقت میں بدل جاتے ہیں۔ کامیاب افراد کو اللہ کی ذات کے بعد خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر کامل یقین ہوتا ہے۔ اس یقین کو لے کر وہ اپنے مقصد کی طرف بڑھتے ہیں اور کامیابی ان کے قدم چومتی ہے۔ جو لوگ اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں وہ زندگی کی دوڑ میں کبھی تھکان محسوس نہیں کرتے۔انتھک اور مسلسل محنت: کامیاب افراد کی کامیابی مسلسل اور انتھک محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے وقت کی پابندی سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں اور بالآخر ایک دن وہ اس خواب کو پا لیتے ہیں جو انہوں نے دیکھا ہوتا ہے۔ اہم یہ نہیں کہ آج آپ کہاں کھڑے ہیں بلکہ اہم یہ ہے کہ آپ نے عزم کے ساتھ کن منزلوں کو طے کرنے کا سوچا ہے۔ محنتی ہاتھ میں مٹی بھی سونا بن جاتی ہے اور کام چور ہاتھ سونا بھی مٹی کر دیتا ہے۔وقت کی قدر:کامیاب افراد نہ صرف وقت کی قدر کرتے ہیں بلکہ وقت کا صحیح استعمال کرکے فوائد اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ دوسروں کی ناانصافیوں کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ وہی لوگ بے کار بیٹھ کر اپنا بہت سا قیمتی وقت گنوا دیتے ہیں۔جب آپ وقت کو ضائع کرتے ہیں تو پھر وقت بھی آپ کو ضائع کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر ہم بے کار، فضول باتوں کے بجائے ایمانداری اور محنت کے ساتھ اپنا کام کریں تو نہ صرف دوسرے لوگوں میں آپ کی عزت ہو گی بلکہ آپ اللہ کی بھی خوشنودی حاصل کر پائیں گے اور یہی رویہ آپ کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔رویہ: آپ کا رویہ آپ کی کامیابی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کا رویہ آپ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس قدر آپ کی سوچ مثبت ہو گی آپ کا رویہ بھی اتنا ہی مثبت ہوگا ۔ مثبت رویئے والے شخص کو سب پسند کرتے ہیں۔ جس شخص کی سوچ منفی ہوگی اس کا رویہ بھی منفی ہوگا اور وہ سب کیلئے ناپسندیدہ خیال کیا جائے گا۔ یہی رویہ اس کی کامیابی میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ہمیشہ اپنے رویے پر نظر رکھیں ۔قدرت اسی قانون کے تحت چل رہی ہے کہ ''جو بیج بوئو گے وہی کاٹو گے‘‘۔ ہمیشہ اپنا رویہ اور اپنی سوچ مثبت رکھیں۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں اللہ کی ذات پرکامل بھروسہ رکھیں۔ انشا اللہ وہی راستہ نکالنے والی ذات پاک ہے۔ رویہ انسان کی کامیابی میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ رویے سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ زندگی میں وہ کیسا انسان بن سکتا ہے۔کامیاب انسان بننے کیلئے اپنی سوچ اور رویہ مثبت رکھیں۔واضح مقصد:زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے جو سب سے اہم لازمی جزو ہے وہ ہے آپ کی زندگی کا واضح مقصد۔ اگر کامیاب افراد کی طرف دیکھیں تو ان کی کامیابی کسی خاص فیلڈ سے منسوب ہوتی ہے جیسا کہ کوئی کسی خاص کھیل میں مشہور اور کامیاب ہے، کوئی کسی ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر میں، کوئی سیاست میں، کوئی بزنس میں اور کوئی شوبز میں۔الغرض کامیابی حاصل کرنے کیلئے کسی مخصوص ہدف کا ہونا ضروری ہے اور اس ہدف کا تعین آپ نے اپنی صلاحیتوں کو مد نظر رکھ کر کرنا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کوئی شے بے کار نہیں پیدا کی تو کیسے ممکن ہے انسان جیسی شاہکار تخلیق کو بے مقصد پیدا کر دیا ہو۔ لہٰذا اپنی زندگی کا مقصد تلاش کریں کہ اللہ نے آپ میں وہ کون سی صلاحیتیں اور خوبیاں رکھی ہیں جن سے آپ خود بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ جب آپ کو وہ مقصد مل جائیگا تو آپ اس کو حاصل کرنے کیلئے مسلسل محنت کرتے ہیں۔ آخر ایک دن اس کو حاصل کر لیتے ہیں اور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ کامیابی کسی منزل کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا سفر ہے جس کی کوئی حد نہیں لیکن یہ ایک ایسا سفر ہے جس میں سکون، خوشی، دولت، آرام سب کچھ میسر ہوتا ہے۔ تو آیئے ہم بھی عزم کرتے ہیں کہ اس سفر پر چل نکلنا ہے اور اس افراتفری کے دور میں خود کو منوا کر بہت آگے جانا ہے۔صرف اپنی روشنی میں طے کرو اپنا سفرراہ میں جگنو، ستارہ یا دیا کچھ بھی نہیں

آج کا دن

آج کا دن

سالگرہ :مولانا ظفر علی خانمولانا ظفر علی خان 19جنوری 1873ء کوپیدا ہوئے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں انہیں ایک عظیم سیاسی رہنما، جیّد صحافی، ادیب، شعلہ بیاں مقرر، بے مثل نقاد اور آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والے قلم کار کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی ایک کاوش ''زمیندار‘‘ اخبار ہے۔ ان کے اداریوں کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ بابائے صحافت کا لقب پایا۔ متعدد تصانیف منظر عام پر آئیں جن میں نثری اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ 27 نومبر 1956ء کو زندگی کا سفر تمام ہوا۔گلوکارہ روشن آرا بیگمکلاسیکی موسیقی کی نامور گلوکارہ روشن آرا بیگم 19جنوری 1917ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئیں اور تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کی جہاں گلوکاری کے میدان میں انھوں نے نام و مقام بنایا۔''پہلی نظر، جگنو، قسمت، نیلا پربت‘‘ سمیت کئی فلموں کے لیے اپنی آواز میں لازوال گیت ریکارڈ کروائے۔ انہوں نے کلاسیکی موسیقی کے دلدادہ ایک پولیس افسر احمد خان سے شادی کی۔ملکہ موسیقی کی زندگی کا سفر 6 دسمبر 1982ء کو تمام ہوا۔برسی منو بھائیمعروف شاعر، ڈرامہ نگار و کالم نویس منو بھائی 19جنوری 2018ء کو دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ اصل نام منیر احمد قریشی تھا، ان کی کالم نگاری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں مانا جاتا تھا۔ ''سونا چاندی‘‘ اور '' جھوک سیال‘‘ سمیت کئی مقبول ڈرامے بھی تحریر کیے۔ان کی مشہور تصانیف میں محبت کی ایک سو نظمیں، جنگل اداس ہے اور انسانی منظر نامہ شامل ہیں۔ انہوں نے تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔ حکومت پاکستان نے انہیں '' تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازا۔اداکار سدھیرپاکستان فلم انڈسٹری کے نامور ایکشن ہیرو سدھیر آج کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ سدھیر پہلے سپر سٹار، اردو اور پنجابی فلموں کے یکساں مقبول اداکار تھے۔ 38برسوں پر محیط ان کا فنی کریئر قیام پاکستان سے قبل شروع ہوا۔ 1949ء میں ریلیز ہونے والی فلم ''ہچکولے‘‘ان کی پہلی پاکستانی فلم تھی۔ وہ آخری بار فلم ''ان داتا‘‘( 1987ء) میں جلوہ گر ہوئے۔ ان کے کریڈٹ پر 173فلمیں ہیں، جن میں 70اردو، 101پنجابی، ایک پشتو اور ایک بھارتی فلم شامل ہے۔شاعر سید رضی ترمذیممتاز شاعر اور براڈ کاسٹر سید رضی ترمذی ستمبر 1926ء میںپیدا ہوئے۔ 1949ء میں ریڈیو پاکستان سے وابستگی اختیار کی اور 1985ء میں ڈپٹی کنٹرولر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا شمار ملک کے منفرد شعراء میں ہوتا تھا۔ ان کی نظموں اور غزلوں پر مشتمل مجموعہ کلام ''یادوں کا موسم‘‘ شائع ہوا۔ انہوں نے منظوم ڈرامے لکھے اور انہیں خود پروڈیوس کیا۔ ان ڈراموں پر مشتمل کتاب ''مثال کے طور پر‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ 19جنوری2013ء میں ان کا انتقال ہوا۔اہم واقعات ٹور ڈی فرانس کا آغازدنیا کے مشہور سائیکل دوڑ کے مقابلے ٹور ڈی فرانس کا پہلی دفعہ انعقاد 19جنوری 1903ء کو ہوا۔ جس کا فاصلہ 2428 کلومیٹر تھا اوراس میں 59 سائیکل سوارشریک ہوئے، صرف 20 سائیکل سوار ہی اختتامی حد کو عبور کر سکے۔

 مصنوعی سورج:سائنس کا نیا شاہکار  قدرتی سورج سے 8گنا زیادہ گرم ،درجہ حرارت120ملین ڈگری

مصنوعی سورج:سائنس کا نیا شاہکار قدرتی سورج سے 8گنا زیادہ گرم ،درجہ حرارت120ملین ڈگری

انسان مسلسل اس کھوج میں ہے کہ وہ کائنات کے زیادہ سے زیادہ راز معلوم کر سکے اس لئے دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار تلاش کرنے میں مسلسل مصروف ہے ۔ جتنی بھی تاریخ انسانی سے ہم واقف ہیں وہ ایسے واقعات سے سرشار ہے جب انسانی دماغ نے دنیا کو حیران کیا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ہمسایہ اور دوست ملک چین نے بھی کیا ہے۔ جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ شاید یہی انسانی ترقی کی معراج ہے۔چین نے حال ہی میں ایک تجربہ کیا ہے جس میں وہ اپنا خود کا سورج بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔یہ تجربہ چین نے ''ایسٹ فیوژن ری ایکٹر‘‘ کی مدد سے کیا ہے جو اس پر کافی عرصے سے کام کر رہا تھا۔نظام شمسی میں موجود سورج کا ''کور‘‘ یعنی سب سے اندرونی حصے کا درجہ حرارت 15 ملین ڈگری سیلسئیس ریکارڈ کیا گیا ہے اور سورج کے اس حصے میں مسلسل نیوکلیئر دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں ہائیڈروجن کے دو نیوکلیئس فیوز ہو کر ہیلیم بناتے ہیں اور ہیلیم ٹوٹ کر ہائیڈروجن بناتی ہے۔ ''ایسٹ‘‘ پروگرام کی مدد سے چائنہ نے جو مصنوعی سورج بنایا ہے وہ قدرتی اور اصلی سورج سے بھی 8گنا زیادہ تقریباً 120ملین ڈگری سیلسئیس گرمی پیدا کرتا ہے۔ ایسٹ پروگرام چائنہ کی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف پلازما فزکس میں واقع ہے۔ یہ ادارہ 1978ء میں قائم کیا گیا تھا۔اس مصنوعی سورج کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے سورج میں ہونے والے فیوژن ری ایکشن کی نقل کی جا سکے۔ ایسٹ فیوژن ری ایکٹر چائنہ کے تین بڑے ''ٹوکامک‘‘ میں سے ایک ہے۔چائنہ اس سے پہلے بھی ''ایچ ایل۔2 اے‘‘ اور ''جے ٹیکسٹ‘‘ نامی دو ری ایکٹر پر کام کر چکا ہے۔ 2020ء میں بھی ''ایچ ایل۔2ایم ‘‘ نام کی ڈیوائس کو کامیابی کے ساتھ ٹیسٹ کیا گیا تھا۔ایسٹ پروگرام نے 2006ء میں پہلی مرتبہ کام شروع کیا تھا اور اب تک یہ ری ایکٹر کئی عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہے۔ٹوکامک ان ڈیوائسز میں سے ایک ہے جو تھرمو نیوکلیئر فیوژن پاور کو کنڑول طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ 1960ء کے دوران روس میں بنایا گیا ''میگنٹ کنفائنمنٹ ری ایکٹر‘‘ ہے۔ ایسٹ پروگرام''انٹر نیشنل تھرمو نیوکلیئر تجرباتی ری ایکٹر‘‘ کا بھی حصہ ہے اور اس بین الاقوامی تنظیم میں 35 ممالک شامل ہیں۔ یہ پروگرام نیوکلیئر فیوژن پر کام کرے گا جس سے توانائی زیادہ پیدا ہوتی ہے، فضلہ بہت کم نکلتا ہے۔اس وقت بھی دنیا کے کئی ممالک میں نیوکلیئر فیوژن سے توانائی پیدا کی جاتی ہے۔ فیوژن میں ایک بھاری ایٹم کے ٹکڑے کئے جاتے ہیں جس سے چھوٹے چھوٹے ایٹم بنتے ہیں اس دوران جو توانائی بنتی ہے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ فیوژن آسان عمل ہے لیکن اس سے بہت زیادہ مقدار میں نیوکلیئر فضلہ نکلتا ہے جبکہ فیوژن ری ایکشن میں میں فضلہ بہت کم نکلتا ہے اور کوئی گرین ہاؤس گیس بھی نہیں نکلتی اور فیوژن کے مقابلے میں فیوژن زیادہ محفوظ مانا جاتا ہے۔ اگر اس سلسلے کو بڑھایا جائے تو نیوکلیئر فیوژن دنیا میں سستی اور صاف ستھری ماحول دوست لامحدود توانائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کوریا کا‘‘کے سٹارپروگرام‘‘ بھی 100ملین ڈگری سیلسئیس تک پہنچا ہے۔آخر اتنے زیادہ درجہ حرارت کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟نیوکلیئر فیوژن میں بہت زیادہ گرمی اور پریشر کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں فیوز ہو سکیں۔ ہائیڈروجن کے دو آئسوٹاپ ہوتے ہیں ایک ڈیوٹیرئیم (Deuterium) اور دوسراٹرائی ٹیئم (Tritium)جو ساتھ مل کر ہیلئم کو بناتے ہیں۔ اسی طرح اس پراسیس میں بہت زیادہ توانائی پیدا ہوتی ہے اور اس کام میں بہت سی پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔ اس عمل کو مکمل کرنے کیلئے 150ملین ڈگری سیلسیئس درجہ حرارت چاہئے ہوتا ہے۔ جس سے پلازمہ گرم ہو اور سب ایٹمی ذرات جیسا کہ پروٹون، نیوٹرون اور الیکٹرون کا محلول بن سکے۔ اس پلازمہ کو لمبے عرصے سے بنانے کی کوشش جاری ہے، اب تک کی تحقیق اور تجربات کے مطابق یہ کچھ منٹ کیلئے ہی مستحکم رہ پاتا ہے۔ایسٹ پروگرام 2018ء میں 100ملین ڈگری سیلسیئس تک پہنچا تھا اور حال ہی میں یہ 120ملین ڈگری سیلسیئس تک پہنچا ہے۔ ان ری ایکٹرز میں سورج کے اندورنی حصے سے بھی زیادہ درجہ حرارت اس لئے ضروری ہے کیونکہ ہم اصلی سورج جتنا کشش ثقل کا دباؤ پیدا نہیں کر سکتے ایسے میں اس سے زیادہ درجہ حرارت پیدا کرنا ہی ایک واحد حل بچتا ہے۔سننے میں یہ کسی خواب جیسا لگتا ہے کہ توانائی کا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہو سکتا ہے جو لامحدود ہوگا اور ماحول کیلئے بھی نقصاندہ نہیں ہوگا۔ یہی نیوکلیئر فیوژن کی خوبصورتی ہے۔ کافی عرصے سے اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن اب کچھ سالوں سے اس میں بہترین تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں اور نجی کمپنیاں بھی کلین انرجی کی طرف قدم بڑھا رہی ہیں۔ سوچ کر دیکھیں، کیسا لگتا ہے کہ دنیا کے پاس توانائی کا ایک ایسا ذریعہ ہوگا جو آپ کی گاڑیوں سے لے کر گھروں تک کو لامحدود توانائی فراہم کرے گا اور ماحول کے لئے بھی خطرناک نہیں ہوگا۔ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے یہی ایک بہترین طریقہ ہے۔فیوژن میٹر کی چوتھی سٹیٹ یعنی پلازمہ پر کام کرتا ہے۔اب تک ہمارا زیادہ تعارف تین قسم کے میٹر سے ہی رہا ہے جو ہوا، پانی اور گیس ہیں لیکن پلازمہ ایک سٹیٹ ہے جو اس کائنات میں بہت زیادہ مقدار میں موجود ہے۔ ماہرین اس کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پلازمہ بھی ایک طرح کی گیس ہی ہوتی ہے جس میں الیکٹرون نہیں ہوتے۔ یہ ستاروں میں پائی جاتی ہے۔ اگر آپ نے ناردرن لائٹس کا نام سنا ہے تو وہ بھی پلازمہ کی وجہ سے ہونے والا شاہکار ہے۔ ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ نیوکلیئر فیوژن سے پیدا ہونے والی توانائی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کسی دور میں یہ ناممکن تصور کیا جاتا تھا۔ فیوژن ری ایکٹرز کو دو طریقوں سے بنایا جاتا ہے ایک ہے'' انرشیئل ری ایکٹر‘‘ اور دوسرا ہے ''میگنیٹک کنفائنمنٹ اپروچ‘‘ جسے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ ان میں پلازمہ طاقتور میگنیٹک فیلڈ میں رکھا جاتا ہے۔ فرانس، امریکہ اور جرمنی بھی اسی طرح کے ری ایکٹرز پر کام کر رہے ہیں۔یہ ٹیکنالوجی ہمارے لئے ناگزیر تو ہے لیکن اس میں وقت لگے گا اگر اس پر بہت تیزی سے بھی کام کیا گیا تو 2060ء تک پوری دنیا کی توانائی کی ضرورت کا صرف ایک فیصد حصہ ہے جو فیوژن ری ایکشن سے حاصل ہو پائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا آنے والا مستقبل روشن اور محفوط ہوگا۔تنزیل الرحمن نوجوان صحافی ہیںاور تحقیق کے شعبہ سے وابستہ ہیں

’’ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل‘‘ سکون

’’ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل‘‘ سکون

سکون انتہا درجہ کی نزاکت رکھتا ہے۔ سکون شیشے سے بھی زیادہ نازک ہوتا ہے۔ اس قدر نازک کہ کسی کے ایک بول سے یہ چکناچور ہو جاتا ہے اور پھر انسان فوراً لاکھ کوششوں سے کرچی کرچی جمع کر کے بھی، اس کو واپس اسی حالت میں مکمل طور پر نہیں لا سکتا۔کبھی تو کسی کی خاموشی ہی کافی ہوتی ہے انسان کو بے سکون کرنے کیلئے، کوئی کال اٹینڈ نا کرے تو بندہ بے سکون ہو جاتا ہے۔ گھر میں ناپسندیدہ مہمان آجائیں تو سکون غارت ہو جاتا ہے۔ شور انسان کو بے سکون کر دیتا ہے۔ بارش، آندھی، تیز دھوپ اور سخت سردی انسان کے سکون کو لے ڈوبتی ہے۔ ہلکا سا سر درد، پیٹ درد بندے کو سکون سے دور کر دیتا ہے۔ ٹریفک کا جام ہونا، ٹائر کا پنکچر ہونا، مناسب گاڑی نہ ملنا، گاڑی کا لیٹ ہو جانا، خراب ہو جانا انسان کو سکون سے محروم کر دیتا ہے۔ کھانا وقت پر نا ملنا، کھانے کا بد مزہ ہونا انسان کو بے سکون کرنے کے لیے کافی ہے۔ بڑا نقصان ایک طرف، 100 روپے کا ایزی لوڈ نہ آئے تو انسان کے سکون کا جنازہ نکل جاتا ہے۔کسی کا نظر بھر کے دیکھنا اور کسی کا حقارت سے مسکرانا بھی بندے کو سکون کی راہ سے ہٹا دیتا ہے۔ نیند کا نہ آنا بے سکونی ہے۔ کسی کا دنیا سے چلے جانا، کسی اپنے کا دنیا میں بچھڑ جانا، انسان کو سکون سے جدا کر دیتا ہے۔ کوئی وعدہ خلافی کر دے، دھوکا دے دے تو انسان سکون کی چھائوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ جس دل میں منافقت ہو ادھر سکون نہیں ہوتا، رقیب سے ملاقات اور حبیب سے فراق بے سکونی ہے۔ روٹی کا نا ملنا، روٹی ہضم نہ ہونا بے سکونی ہے۔ جس چرغے اور مٹن کڑاہی میں ماں اور مسکین کے لیے ایک لقمہ نہ ہو، وہ سارے کا سارا کھانا بے سکونی کے نوالے ہیں۔ جہاں خود پسندی بڑھ جائے وہاں سکون کم ہو جاتا ہے۔ جو والدین کی محبت پر مطمئن نہیں وہ بے سکون ہے۔ وہ بھی بے سکون ہے جو خالق کی رضا میں راضی نہیں۔ایک طرف سائنس و ٹیکنالوجی کی تمام تر کوششیں سکون ایجاد کرنے سے قاصر ہیں تو دوسری طرف ماہرین نفسیات بھی کوئی ایسا فارمولا نہیں دے سکے جس کی بدولت انسان سکون حاصل کر سکے۔ اہل دانش نے یہ طریقہ اپنایا کہ پہلے دیکھا جائے ، وہ کون کون سے لوگ تھے جنہوں نے پرسکون زندگی گزاری؟ اس تلاش میں بڑے بڑے بادشاہوں اور حکمرانوں کی زندگیوں کا مطالعہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ تو بڑے بے سکون رہے ہیں۔ پھر سپہ سالاروں اور جرنیلوں کی حیات کا ورق ورق کھنگالا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ بھی حقیقی سکون سے محروم ہی رہے۔ پھر مزید تحقیق سے یہ بات واضح ہوئی کہ مشیروں، وزیروں اور تاجروں کے شب و روز بھی بے سکونی میں ہی گزرتے رہے ہیں۔اس طرح مطالعہ کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا چلا گیا اور پھر آخر کار وہ لوگ مل ہی گئے جن کے دل دولت سکون سے آباد رہے۔ اضطراب اور بے سکونیاں ان کے سینوں میں راہ نہ پا سکیں۔ یہ لوگ کون تھے؟ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ لوگ ہیں اللہ والے۔ جی ہاں! یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خالق پر بھروسہ کیے رکھتے ہیں اور اس کی مخلوق سے محبت کرتے ہیں۔ دوسروں کے لیے بے لوث خدمات اور خلوص بھری آسانیاں پیدا کرنا ان کا شیوا ہوتا ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہوتے ہیں۔ انسانوں سے حرص و ہوس اور لالچ سے پاک تعلقات ان کو بے سکون نہیں ہونے دیتے۔ مخلوق کی بجائے، اللہ پر توکل ان کا طرہ امتیاز بن جاتا ہے اور پھر یہ خشک روٹی کھا کر ، اینٹ کا تکیہ بنا کر زمین پر ایسے شان بے نیازی سے سو جاتے ہیں کہ ان کے سکون قلب میں کوئی دراڑ نہیں آتی۔ ان کا سکون متزلزل نہیں ہوتا۔خالق پر توکل اور مخلوق سے محبت ہی وہ راہ ہے جو سکون کی منزل تک پہنچاتی ہے۔ آئیے ! اس راستے پر قدم بڑھاتے ہیں اس دعا کے ساتھ اے اللہ ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھ اور ہمیں دنیا و آخرت کا سکون عطا فرما۔ آمین ثم آمینساجد ندیم انصاری شعبہ تدریس سے وابستہہیں، مختلف موضوعات پر ان کے مضامینمختلف جرائد میں شائع ہو چکے ہیں

آج کا دن

آج کا دن

برسی: واصف علی واصفشاعر، مصنف اور دانش وَر واصف علی واصف کا انتقال 18 جنوری 1993ء کو ہوا۔ انھیں ایک صوفی کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ واصف علی واصف 15 جنوری 1929ء کو شاہ پور خوشاب میں پیدا ہوئے۔ عملی زندگی میں تعلیم اور تدریس کا شعبہ چنا اور ساتھ ہی اپنی فکر اور وعظ کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور ایک درویش صفت انسان، صوفی اور روحانیت کے ماہر کے طور پر شہرت حاصل کی۔'' قطرہ قطرہ قلزم، حرف حرف حقیقت، دل دریا سمندر، گمنام ادیب، ذکرِ حبیب، دریچے‘‘ ان کی تصانیف ہیں۔ انھوں نے شاعری بھی کی۔اداکار گلاب چانڈیوسندھی اور اردو ڈراموں میں لازوال کردارنبھانے والے گلاب چانڈیو 18جنوری 2019ء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ چانڈیو نے ریڈیو سے کریئر کا آغاز کیا اور 300سے زائد ڈراموں اور 6 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے مشہور ڈراموں میں چاند گرہن، نوری جام تماچی، بے وفائیاں، ماروی اور ساگر کا موتی شامل ہیں۔ فنی خدمات کے اعتراف میں انہیں ''صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی‘‘ سے نوازاگیا۔ 2 بار نواب شاہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر الیکشن میں حصہ لیا مگر ناکام رہے۔کے ایل سہگلماضی کے عظیم گلوکار کندن لعل سہگل نے 1931ء میں فلم ''محبت کے آنسو‘‘ میں اداکاری سے فنی سفر کا آغاز کیا، کروڑ پتی، پجارن، دیدی،اسٹریٹ سنگرسمیت 38 فلموں میں اداکاری کی۔ آواز کی دنیا میں جو مقام انہیں ملا وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔ فلم ''دیوداس‘‘ کیلئے گائے ان کے گیتوں نے ہرکسی کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ غالب کی غزلوں کو اپنی آواز دی اور انہیں امر بنا دیا۔ دوسوکے قریب گیت گانے والے کندن لال سہگل 18جنوری 1947ء کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔اداکارہ یاسمین اسماعیلیاسمین اسماعیل کو ٹی وی اور اسٹیج کی اداکارہ اور مایہ ناز ہدایتکارہ کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے۔ 1949ء میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والی یاسمین اسماعیل کے والد فوج میں تھے، جن کی وفات کے بعد انہوں نے کراچی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔اپنے وقت کے مقبول ترین ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ناظرین کی توجہ حاصل کی۔ان کے مقبول ڈراموں میں انا، راشد منہاس، تنہائیاں اور تپش نمایاں ہیں۔18جنوری 2002ء کو وفات پائی۔اہم واقعہ: اے بی ڈی ویلیئرز کی تیز ترین سینچری2015ء میں جنوبی افریقہ کے کھلاڑی اے بی ڈی ویلیئرز نے جوہانسبرگ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ایک روزہ میچ میں 16 گیندوں پر 50 رنز جبکہ 31 گیندوں پر سینچری اسکور کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ڈی ویلیئرز نے 10 چھکے اور 8 چوکے لگائے۔پاکستان کی آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ فتح18 جنوری 1977ء کو پاکستان کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا میں پہلی ٹیسٹ فتح حاصل کی۔ 14 جنوری کو شروع ہونے والا ٹیسٹ 18جنوری کو پاکستان کی8 وکٹ کی فتح پر مکمل ہوا۔ پاکستان کی فتح کے مرکزی ہیروفاسٹ بائولرز عمران خان اور سرفراز نواز تھے، دونوں نے 20 میں سے 18 وکٹیں اپنے نام کیں، ان میں بھی 12 وکٹیں عمران خان کی تھیں۔