سانحہ چرنوبل ایٹمی پلانٹ انسانی تاریخ کا بدترین نیوکلیئرحادثہ
اسپیشل فیچر
اس میں کوئی شک نہیں کہ نسل انسانی نے اپنی زندگی میں سہولیات پیدا کرنے کیلئے سائنس کا جتنا استعمال کیا ہے اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔سائنسی ترقی نے ایسی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جن کا کچھ سال قبل تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ سائنس اور قدرتی وسائل کا استعمال کرتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہے کہ ان دونوں کے استعمال میںتوازن برقرار رہے ۔اگر ایسا نہ ہو تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
دور جدید میں ایٹمی ٹیکنالوجی کو دنیا بھر میں صاف ستھری اور سستی توانائی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس میں لاپرواہی برتی جائے تو یہ بھیانک تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ 26 اپریل 1986ء میں یوکرین کے شمال میں ایک حادثہ پیش آیا جس نے تباہی کی ایسی تاریخ رقم کی جس کی مثال نہیں ملتی۔انسانی تاریخ کے سب سے بڑا ایٹمی حادثہ چرنوبل پاور پلانٹ میں پیش آیا تھا۔ جس سے جاپان پر گرائے جانے والے ایٹم بم سے چار سو گنا زیادہ تابکاری خارج ہوئی۔
حادثے سے قبل چرنوبل میںکل 4 یونٹ کام کررہے تھے، جن میں دو قابل استعمال اور دو زیر تعمیر تھے۔ 25اپریل 1986ء کو یونٹ نمبر چار میں ایک تجربہ کیا جانا تھا جس کا مقصد بجلی کی کمی یا بندش کی صورت میں پانی سے چلنے والی ٹربائن موٹر کی مدد سے ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنا تھا۔اس سے پہلے بھی تین تجربات کئے جا چکے تھے لیکن ان میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی ۔حادثے سے ایک دن قبل رات ایک بجے تجربے کا آغاز کیا گیا لیکن ایک نیوکلیئر پلانٹ میں خرابی پیدا ہو گئی اور وہ بند کر دیا گیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تجربے کوروک دیا گیا۔ حالات معمول پر آتے ہی تجربہ کو دوبارہ شروع کیا گیا۔26اپریل 1986ء کی رات 12بجکر 5منٹ پر ری ایکٹر کا درجہ حرارت اچانک سے بڑھنے لگا اور بھاپ بننا شروع ہو گئی۔ماہرین نے کافی دیر کوشش کرنے کے بعد بھاپ کے عمل کو تو روک لیا لیکن اچانک ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ری ایکٹر میں ہونے والا ری ایکشن ان کے قابو سے باہر ہو گیا۔
رات ایک بجے کے قریب تجربے کے سب سے اہم حصے کا آغاز ہوا اور ٹربائن جنریٹر ز کو چلا دیا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ان جنریٹرز کی رفتار کم ہوتی گئی جس کی وجہ سے پانی فراہم کرنے والا پمپ بند ہو گیا اور ایک مرتبہ پھر بہت زیادہ مقدار میں بھاپ بننے لگی۔جس وقت پورا شہر سکون کی نیند سو رہا تھا اسی وقت اچانک زمین کو لرزا دینے والا ایک دھماکہ ہوا۔ا س دھماکے سے ری ایکٹر نمبر 4کی 12سو ٹن وزنی چھت اڑ گئی اور چرنوبل میں آگ لگ گئی۔
اس سے قبل کے کسی کو سمجھ آتی کے یہ دھماکہ کس وجہ سے ہوا ہے، ری ایکٹر پھٹنے کے فوراً بعد یورینیم کے بخارات ہوا میں پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں جنہیں قابو کرنا ناممکن ہوتا ہے۔کچھ مورخین کا کہنا ہے کہ تابکاری سے بھری ہوئی یہ آگ آسمان میں 3ہزار فٹ تک گئی۔موقع پر موجود فائر فائٹر اپنی تمام صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے آگ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مکمل حفاظتی اقداما ت نہ ہونے کی وجہ سے ان کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسی دوران وہ تابکاری شعاؤں کی زد میں آجاتے ہیں۔ایلفا اور بیٹا پارٹیکلز انسانی جسم پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
دھماکے کے فوراً بعد تابکاری سے 2افراد جان بحق ہوئے اور صبح تک تابکاری پورے شہر میں بادلوں کی صورت میں پھیل گئی۔ تباہ ہونے والے ری ایکٹر کے 500فٹ نیچے سب سے آخری حصے میں اب بھی گرینائٹ جل رہا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود 1200ٹن یورینیم اور دیگر خطرناک تابکاری معدے ہوا میں پھیل رہے تھے۔28 اپریل تک تابکاری کے بادل تقریباً ایک ہزار کلومیٹر دور سویڈن تک پہنچ جاتے ہیں۔ سویڈن میں موجود ری ایکٹر پر لگے تابکاری ماپنے والے آلات تابکاری لیول خطرناک حد تک پہنچ جانے کی نشاندہی کرنے لگ جاتے ہیں۔سویڈن تک ان تابکاری شعاؤں کا پہنچ جانا اس بات کا ثبوت تھا کہ پورا یورپ اس کی زد میں آچکا ہے۔
سویڈن کے آگاہ کرنے کے فوراً بعد حکام کی جانب سے چرنوبل پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریت اور بورک ایسڈ پھینکا جانے لگا ۔ تابکاری کے اثرات کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی تھی لیکن ری ایکٹر کے نیچے موجود یورینیم کا درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا تھا جس سے دوسرے ری ایکٹر میں بھی دھماکے کا خدشہ بڑھتا جا رہا تھا جو پہلے دھماکے سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ یہ اتنا خطرناک ہو سکتا تھا کہ چرنوبل کے 250 کلومیڑ کے علاقے کو تباہ و برباد کر دیتا اور اس کے اثرات یورپ تک بھی جا سکتے تھے ۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ماہرین نے متاثرہ جگہ پر سیسہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ، سیسے کے استعمال سے درجہ حرارت کچھ حد تک کم ہو گیا۔ کچھ دن بعد ایک زیر زمین راستے کے ذریعے ری ایکٹر میں سے پانی نکال دیا گیا لیکن اس کے نیچے اب بھی پانی کا ایک ذخیرہ موجود تھا۔اس پانی کو نکالنے کیلئے ایک سرنگ کھودی گئی جس میں کام کرنے والے مزدوروں میں سے اکثر کی موت واقع ہو گئی او ر باقی کو زندگی بھر تابکاری بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔اس حادثے میں 30سے 50 افراد جان بحق ہوئے۔اس حادثے کو دنیا کی تاریخ کا بدترین نیوکلیئر حادثہ سمجھا جاتا ہے۔