عمر ہار گئی، جذبہ جیت گیا
اسپیشل فیچر
زیرو گریویٹی میں عظیم کارنامہ
عمر اگرچہ انسان کے جسم پر اپنے اثرات مرتب کرتی ہے، لیکن حوصلہ، جذبہ اور عزم وہ طاقتیں ہیں جو بڑھاپے کو بھی شکست دے دیتی ہیں۔ یہی حقیقت ایک 97 سالہ سابق فوجی نے ثابت کر دکھائی، جب انہوں نے زیرو گریویٹی میں پرواز کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ دوسری جنگ عظیم کے اس بزرگ ہیرو نے نہ صرف اپنی زندگی کے ایک انوکھے خواب کو پورا کیا بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ انسان اگر ارادہ مضبوط رکھے تو عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ ان کا یہ غیر معمولی کارنامہ آج دنیا بھر میں عزم، ہمت اور امید کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جب امریکی باشندے رابرٹ گورڈن اپالاچیا کے دامن میں پروان چڑھ رہے تھے تو وہ اکثر آسمان پر چمکتے ستاروں کو حیرت سے دیکھا کرتے تھے۔ اب 90 برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد آخرکار انہوں نے اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ فروری میں 97 سالہ رابرٹ گورڈن میکافی زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے والے معمر ترین شخص بن گئے، جب انہوں نے زیرو جی کی قمری خلائی پرواز کے ذریعے زمین کی فضا کی بلند ترین سطح تک سفر کیا۔
اس مختصر مگر یادگار سفر کے دوران ریٹائرڈ ماہر نفسیات بے حد خوش تھے کہ وہ اپنی پیاری پوتی کیٹ کے ساتھ بے وزنی کی حالت میں فضا میں تیر رہے تھے۔ کیٹ ہی وہ شخصیت تھیں جنہوں نے برسوں تک زمین پر رہنے والے اپنے دادا کا اُڑان کا خواب آخرکار پورا کر دکھایا۔
رابرٹ گورڈن نے گنیز ورلڈ ریکارڈ کو بتایا کہ بچپن میں مشرقی ٹینیسی میں رہتے ہوئے وہ اپنے گھر کے قریب جنگلات اور ندی نالوں میں گھومتے، ٹیڈ پولز سے کھیلتے اور فطرت کی خوبصورتی دریافت کیا کرتے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں خدمات انجام دینے کے بعد انہوں نے میڈیکل اسکول میں تعلیم حاصل کی اور ریاست کنساس میں طب کے مختلف شعبوں میں کام کیا۔ بعدازاں 85 برس کی عمر میں ماہر نفسیات کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
رابرٹ ایک خاندان دوست شخصیت ہیں اور اپنی پوتی کیٹ کے بہت قریب ہیں۔ برسوں تک خلائی پرواز کے بارے میں ان کی گفتگو سننے کے بعد کیٹ نے انہیں قائل کیا کہ وہ 22 فروری 2025ء کو ''زیرو جی‘‘ کی پرواز میں ان کے ساتھ شامل ہوں، جو سان جوز میں منعقد ہوئی۔
ہوابازی اور خلائی سفر کے دیرینہ شوقین رابرٹ، جو یونائیٹڈ فلائنگ اوکٹوجنیرینز کے رکن بھی ہیں، اپنی اس یادگار پرواز کے ذریعے امریکی فوج کیلئے اپنی خدمات اور اپنے بھائی جے جی میکافی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے تھے، جنہوں نے انہیں پرواز کرنا سکھایا تھا۔ رابرٹ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ایک شخصیت مسلسل مجھے زیرو گریویٹی کے سفر کیلئے آمادہ کر رہی تھی اور پھر اس نے مجھے ایسی پیشکش کی جسے میں ٹھکرا نہیں سکا۔
پرواز کی تیاری کیلئے رابرٹ نے خود کو متحرک رکھا۔ وہ روزانہ چہل قدمی جاری رکھتے اور اپنی جسمانی صحت کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جب ایک ڈاکٹر نے انہیں پرواز کیلئے فٹ قرار دینے کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیاتو بھی یہ 97 سالہ بزرگ مایوس نہ ہوئے۔ رابرٹ نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میرا خیال ہے کہ شاید یہ اس ڈاکٹر کی اپنی حد تھی۔اس کے بعد انہوں نے خود ہی اپنے لیے منظوری کا نوٹ لکھ دیا، کیونکہ آخرکار وہ خود بھی ایک ڈاکٹر تھے۔
پرواز کے دن یہ پرجوش دادا اور ان کی خیال رکھنے والی پوتی بہادر مہم جوؤں کے ایک گروپ کے ساتھ زیرو جی کی سہولیات میں جمع ہوئے اور خصوصی خلائی سوٹ زیب تن کیے۔ اسی موقع پر رابرٹ کو جیک پریسمین سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا، جو اس وقت گنیز ورلڈ ریکارڈ کے تحت کم عمر ترین (مرد) شخص کے طور پر زیرو گریویٹی میں پرواز کرنے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں، جب وہ صرف آٹھ سال کے تھے۔
اگرچہ یہ سفر بظاہر نہایت اعصاب شکن تھا، تاہم رابرٹ اس بات سے زیادہ پریشان نہیں تھے کہ وہ زمین کی فضائی حد تک جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ‘‘لوگ اسے خطرناک بنا کر پیش کرتے ہیں لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ واقعی خطرناک ہے۔
جیسے جیسے گروپ بلندی کی طرف سفر کرتا گیا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ مزید نمایاں ہوتی گئی۔ وہ اس حقیقت کو محسوس کر رہے تھے کہ وہ آخرکار اپنے بچپن کے ایک دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔ جب طیارہ اپنی مطلوبہ بلندی تک پہنچا تو گروپ کو آخرکار اپنی سیٹ بیلٹس کھولنے اور زیرو گریویٹی میں آزادانہ طور پر تیرنے کی اجازت مل گئی۔ اس لمحے میں رابرٹ اور ان کی پوتی کیٹ نے قیمتی لمحات ایک ساتھ گزارتے ہوئے یوں گھومنا شروع کیا جیسے دو سپر ہیروز فضا میں اڑ رہے ہوں۔رابرٹ خوشی سے قلابازیاں کھاتے اور مڑتے ہوئے بالکل ایک نوجوان کی طرح حرکت کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ایک وسیع مسکراہٹ تھی جبکہ وہ بے وزنی کی حالت میں جہاز کے اندر آہستہ آہستہ تیر رہے تھے اور دوسرے خوش و خرم شرکاء کے درمیان نہایت نرمی سے حرکت کر رہے تھے۔
لینڈنگ کے بعدرابرٹ زمین پر واپس آئے تو وہ باقاعدہ طور پر گنیز ورلڈ ریکارڈ کے ایک ریکارڈ ہولڈر بن چکے تھے۔ انہوں نے یہ اعزاز 90 سالہ سابق خلانورد امیدوار ایڈ ڈوائٹ کے مئی 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ کو توڑ کر حاصل کیا۔اگرچہ انہیں یہ تجربہ بے حد پسند آیا، تاہم رابرٹ نے کہا کہ یہ پرواز اتنی دیر تک جاری نہیں رہی جتنی وہ چاہتے تھے۔ ان کے مطابق وہ اپنی پوتی کے ساتھ بے وزنی میں گھنٹوں تک تیرتے رہنے کیلئے بالکل تیار تھے۔
رابرٹ کے اس عمر کے آخر میں قائم کیے گئے شاندار ریکارڈ سے متاثر ہونے والوں کے لیے، اس فخر سے بھرے ریکارڈ ہولڈر نے مشورہ دیا کہ ہر شخص کو ذہنی اور جسمانی طور پر متحرک رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر وہ اتنی اچھی جسمانی حالت میں نہ ہوتے تو اس عمر میں اپنے خواب کو حقیقت بنانا تقریباً ناممکن ہوتا۔